30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اَدْرِیْ افسوس مجھے تو کچھ معلوم نہیں ، اب ایک پکارنے والا آسمان سے پکارے گا کہ یہ جھوٹا ہے اس کے لیے آگ کا بچھونا بچھاؤ اور آگ کا کپڑا پہناؤ اور جہنم کا ایک د روازہ کھول دو، اس کی گرمی اور لپٹ پہنچے گی اورعذاب دینے کے لیے دو فرشتے مقرر ہوں گے جو بڑے بڑے ہتھوڑے سے مارتے رہیں گے اور سانپ بچھو بھی کاٹتے رہیں گے اور قیامت تک طرح طرح کے عذاب ہوتے رہیں گے۔
تَنبِیہ: قبر میں کس کس سے سوال نہیں ہوتا ؟
حضرات انبیاء عَلَیْہِمُ السَّلَامسے نہ قبر میں سوال ہو، نہ اُنہیں قبر دبائے اور سوال تو بعض اُمتیوں سے بھی نہ ہوگا جیسے جمعہ([1])اور رمضان میں مرنے والے مسلمان۔ قبر میں آرام و تکلیف کا ہونا حق ہے۔
عذاب و ثواب انسان کی کس چیز پر ہوتاہے ؟
او ر یہ عذاب و ثواب بدن اور ُروح دونوں پر ہے۔
بدن کے اصلی اَجزاء کیا کیا ہیں اور کہاں ہیں ؟
بدن اگر چہ گل جائے، جل جائے، خاک میں مل جائے مگر اس کے اصلی اجزاء قیامت تک باقی رہیں گے اُنہیں پر عذاب و ثواب ہوگا اور اُنہیں پر قیامت کے دن پھر بدن بن کر تیار ہوگا، یہ اجزاء ریڑھ کی ہڈی میں کچھ ایسے باریک بہت ہی چھوٹے چھوٹے ہیں جو کسی خورد بین سے بھی نہیں دیکھے جاسکتے نہ اُنہیں آگ جلاسکتی ہے، نہ زمین گلا سکتی ہے، یہی بدن کے بیج ہیں انہیں اجزاء کے ساتھ ساتھ اللّٰہ تعالیٰ بدن کے اور حصوں کو جمع کردے گاجو راکھ یا مٹی ہو کر اِدھر اُدھر پھیل گئے اور پھر وہی پہلا جسم بن جائے گا اور روح اُسی جسم میں آکر قیامت کے میدان میں آئے گی، اُسی کا نام حشر ہے اب اسی سے یہ بھی معلوم ہوگیا قیامت کے دن روحیں اپنے پہلے ہی بدن میں لوٹائی جائیں گی نہ دوسرے میں ، کیونکہ اصل اجزاء کا باقی رہنااور زائد میں تغیر و تبدل ہونا چیز کو بدل نہیں دیتا بلکہ اس قسم کی تبدیلیوں کے بعد بھی وہ پہلی چیز وہی رہتی ہے، دیکھو جب بچہ پیدا ہوتا ہے تو کتنا بڑا ہوتا ہے اور کیسا ہوتا ہے اور جوان ہونے تک اس میں کتنی تبدیلیاں ہوتی ہیں ، مگر ہر زمانہ اور ہر حال میں رہتا وہی ہے دوسرا نہیں ہوجاتا وہ خود بھی یقین رکھتا ہے کہ دس پانچ برس پہلے بھی میں میں ہی تھا اور اب بھی میں میں ہوں اور یہ ہمیشہ اور ہر عمر میں ہر شخص سمجھتا ہے، اپنے لیے بھی اور دوسروں کے لیے بھی۔ مردہ اگر قبر میں دفن نہ کیا جائے تو جہاں پڑا رہ گیا یا پھینک دیا گیا غرض کہیں ہواس سے وہیں سوال ہوگا اور وہیں عذاب پہنچے گا، یہاں تک کہ جسے شیر کھا گیا اس سے شیر کے پیٹ میں سوال ہوگا اور عذاب ثواب بھی وہیں ہوگا قبر کے عذاب و ثواب کا منکر گمراہ ہے۔
کن لوگوں کے بدن کو مٹی نہیں کھاسکتی ؟
مسئلہ:نبی، ولی، عالم دین، شہید، حافظ قرآن جو قران پر عمل بھی کرتا ہو اور جو منصب محبت پر فائز ہے، وہ جسم جس نے کبھی گناہ نہ کیا اور وہ جو ہر وقت درود شریف پڑھتا ہے ان کے بدن کو مٹی نہیں کھاسکتی، جو شخص انبیاء کرام عَلَیْہِمُ السَّلَام کو یہ کہے کہ ’’ مر کے مٹی میں مل گئے ‘‘ وہ گمراہ بددین، خبیث، مرتکب ِتوہین ہے۔ ([2] )
قیامت آنے کا حال اور اس کی نشانیاں
ایک دن تمام دنیا انسان حیوان جن فرشتے زمین آسمان اور جو کچھ ان میں ہے سب فنا ہو جائیں گے اللّٰہ (عَزَّوَجَلَّ) کے سوا کچھ باقی نہ رہے گا، اِسی کو قیامت آنا کہتے ہیں ۔قیامت آنے سے پہلے کچھ قیامت کی نشانیاں ظاہر ہوں گی، جن میں سے تھوڑی سی ہم یہاں لکھتے ہیں ۔
{۱} خسف یعنی تین جگہ آدمی زمین میں دھنس جائیں گے، پورب ([3] )میں پچھم ([4] )میں اور عرب میں ۔
{۲} علم دین اُٹھ جائے گا، یعنی علماء اُٹھالیے جائیں گے۔
{۳} جہالت کی کثرت ہوگی۔
{۴} شراب اور زنا کی زیادتی ہوگی اور اس بے حیائی کے ساتھ کہ جیسے گدھے جوڑا کھاتے ہیں ۔([5] )
{۵} مرد کم ہوں گے عورتیں زیادہ ہوں گی یہاں تک کہ ایک مرد کی سرپرستی میں پچاس عورتیں ہوں گی۔
{۶} مال کی زیادتی ہوگی۔
{۷} عرب میں کھیتی اور باغ اور نہریں ہوجائیں گی، نہر فرات ([6] )اپنے خزانے کھول دے گی اور وہ سونے کے پہاڑ ہوں گے ۔
{۸} مرد اپنی عورت کے کہنے میں ہوگا، ماں باپ کی نہ سنے گا، دوستوں سے میل جول رہے گا اور ماں باپ سے جدائی۔
[1] تکمیل میں شیخ فرماتے ہیں :واصح آنست کہ انبیاء را سوال نبود (تکمیل الایمان،انبیا را سوال نبود،ص۷۳) اور فرماتے ہیں: وآنکہ روز جمعہ یا شب وے مردہ وآنکہ ہر شب سورہ ملک خواند۔۱۲ (منہ) (تکمیل الایمان،در سوال اطفال مومنین اختلاف است،ص۷۳)
[2] حضرتِ شیخ عبدالحق محدث دہلوی قدس سرہ اپنی کتاب ’’سلوک اقرب السبلـ‘‘ میں لکھتے ہیں:باچندیں اختلافات و کثرت مذاہب کہ در علماء امت است یک کس را دریں مسئلہ خلافے نیست کہ آنحضرتصلی اللّٰہ علیہ وسلم بحقیقت حیات بے شائبہ مجاز و توہم تاویل دائم و باقی است و بر اعمال امت حاضر و ناظر و مر طالبان حقیقت را و متوجہان آنحضرت را مفیض و مربی ۔ (۱۲منہ)
[3] مشرق
[4] مغرب
[5] جفتی کرتے ہیں۔
[6] عراق میں واقع ایک نہر
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع