30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
کو عذاب کے فرشتے بڑی ذلت سے لے جاتے ہیں ۔ مرنے کے بعد روح کسی دوسرے بدن میں جا کر پھر پیدا نہیں ہوتی بلکہ قیامت آنے تک عالم برزخ ([1])میں رہتی ہے۔ یہ خیال کہ روح کسی دوسرے بدن میں چلی جاتی ہے چاہے آدمی کا بدن ہو یا جانور کایا پیڑ یا پودے میں یہ غلط ہے اس کا ماننا کفر ہے اِسی کو آواگون اور تناسخ کہتے ہیں ۔
موت یہ ہے کہ روح بدن سے نکل جائے لیکن نکل کر روح مٹ نہیں جاتی بلکہ عالم برزَخ میں رہتی ہے۔
ایمان و عمل کے اعتبار سے ہر ایک روح کے لیے الگ جگہ مقرر ہے قیامت آنے تک وہیں رہے گی، کسی کی جگہ عرش کے نیچے ہے اور کسی کی اعلیٰ عِلِّیِّین ([2]) میں اور کسی کی زم زم شریف، کسی کی جگہ اُس کی قبر پر ہے اور کافروں کی روح قید رہتی ہے، کسی کی چاہ ِبرہوت ([3])میں ، کسی کی سِجِّیْن([4])میں ، کسی کی اس کی مرگھٹ ([5])یا قبر پر۔
بہرحال روح مرتی یا مٹتی نہیں بلکہ باقی رہتی ہے اورجس حال میں بھی ہو اور جہاں کہیں بھی ہو اپنے بدن سے ایک طرح کا لگاؤ رکھتی ہے، بدن کی تکلیف سے اُسے بھی تکلیف ہوتی ہے اور بدن کے آرام سے آرام پاتی ہے جو کوئی قبر پر آئے اُسے دیکھتی پہچانتی ہے اس کی بات سنتی ہے اور مسلمان کی نسبت تو حدیث شریف میں آیا ہے کہ جب مسلمان مرجاتا ہے تو اُس کی راہ کھول دی جاتی ہے جہاں چاہے جائے حضرت شاہ عبدالعزیز صاحب (رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ)لکھتے ہیں ’’ روح را قرب و بُعد مکانی یکساں است ‘‘ یعنی روح کے لیے کوئی جگہ دور یا نزدیک نہیں بلکہ سب جگہ برابر ہے۔
جو یہ مانے کہ مرنے کے بعد روح مٹ جاتی ہے، وہ بد مذہب ہے۔ مردہ کلام بھی کرتا ہے اس کی بولی عوام جن اور انسانوں کے سوا حیوانات وغیرہ سنتے بھی ہیں ۔
دفن کے بعدقبر مردے کو دباتی ہے مومن کو اس طرح کہ جیسے ماں بچے کو اور کافر کو اِس طرح کہ اِدھر کی پسلیاں اُدھر ہوجاتی ہیں جب لوگ دفن کرکے لوٹتے ہیں مردہ اُن کے جوتوں کی آواز سنتا ہے۔
منکرنکیر کیسے ہیں ، کب آتے ہیں اور کیا سوال کرتے ہیں ؟
اس وقت منکر نکیر دو فرشتے زمین چیرتے ہوئے آتے ہیں اُن کی شکل بہت ڈرائونی ہوتی ہے، ان کا بدن کالا آنکھیں نیلی اور کالی بہت بڑی بڑی جن سے آگ کی طرح لپٹ نکلتی ہے، ان کے ڈراؤنے بال سر سے پاؤں تک ان کے دانت بڑے بڑے ہیں جن سے زمین چیرتے ہوئے آتے ہیں مردے کو جھنجھوڑتے ہیں اور جھڑک کر اُٹھاتے ہیں اور بہت سختی کے ساتھ بڑی کڑی آواز سے یہ تین سوال کرتے ہیں ۔
{۱} مَن رَبُّکَ یعنی تیرا رب کون ہے؟
{۲} مَا دِیْنُکَتیرا دین کیا ہے؟
{۳} مَا کُنْتَ تَقُوْلُ فِیْ ھٰذَا الرَّجُلاِن کے بارے میں تو کیا کہتا تھا؟
مردہ اگر مسلمان ہے تو پہلے سوال کا یہ جواب دے گا:رَبِّیَ اللّٰہ میرا رب اللّٰہ ہے اور دوسرے کا دِیْنِیَ الْاِسْلَام میر ا دین اسلام ہے اور تیسرے سوال کا جواب یہ دے گا: ھُوَ رَسُوْلُ اللّٰہ (صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم) یہ اللّٰہ (عَزَّوَجَلَّ) کے رسول ہیں ۔ اللّٰہ (عَزَّوَجَلَّ) کی طرف سے اُن پر رحمت نازل ہواور سلام۔ اب آسمان سے یہ آواز آ ئے گی کہ میرے بندے نے سچ کہا اس کے لیے جنت کا بچھونا بچھاؤ اور جنت کا کپڑا پہناؤ اور جنت کا دروازہ کھول دو، اب جنت کی ٹھنڈی ہوا اور خوشبو آتی رہے گی اور جہاں تک نگاہ پھیلے گی وہاں تک قبر چوڑی چمکیلی کردی جائے گی اور فرشتے کہیں گے سو جیسے دولہا سوتا ہے یہ نیک پرہیزگار مسلمانوں کے لیے ہوگا، گنہگاروں کو اُن کے گناہ کے لائق عذاب بھی ہوگا ایک زمانہ تک، پھر بزرگوں کی شفاعت سے یا ایصالِ ثواب و دعائے مغفرت سے یا محض اللّٰہ (عَزَّوَجَلَّ) کی مہربانی سے یہ عذاب اُٹھ جائے گا اور پھرچین ہی چین ہوگا اور اگر مردہ کافر ہے تو سوال کا جواب نہ دے سکے گا اور کہے گا: ھَاہَ ھَاہَ لَا
[1] برزَخ، دنیا اور آخرت کے درمیان ایک اور عالم ہے جس کو برزخ کہتے ہیں مرنے کے بعد سے قیامت آنے تک تمام انسانوں اور جنوں کو حسب مراتب اس میں رہنا ہوتا ہے، یہ عالم اس دنیا سے بہت بڑا ہے، دنیا کے ساتھ برزخ کو وہی نسبت ہے جو ماں کے پیٹ کے ساتھ دنیا کو، برزخ میں کسی کو آرام ہے اور کسی کو تکلیف۔۱۲ (تکمیل الایمان و بہار شریعت وغیرہ) (تکمیل الایمان، بحث عذاب قبر،ص۷۱، بہار شریعت، حصہ۱، ۱/ ۹۸) ۔حضرت امام غزالی (رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ) فرماتے ہیں:بل الذی تشھد لہ طرق الاعتبار وتنطق بہ الآیات والاخباران الموت معناہ تغیرحال فقط وان الروح باقیۃ بعد مفارقۃ الجسد اما معذبۃ واما منعمۃ ومعنی مفارقتھا للجسد انقطاع تصرفھا عن الجسد بخروج الجسد عن طاعتھا الخ (احیاء جلد چہارم) (احیاء علوم الدین، کتاب ذکر الموت ومابعدہ،الباب السابع،۵/ ۲۴۷) یعنی دلیل عقلی اور آیتیں اور حدیثیں اس پر گواہ و ناطق ہیں کہ موت کے معنی ہیں صرف حالت کا بدل جانا اور روح باقی رہتی ہے، بدن سے الگ ہونے کے بعد خواہ عذاب میں رہے یا نعمت میں اور مفارَقت بدن کے معنی ہیں اس کے تصرف کا انقطاع کہ بدن میں اس کی طاعت کی قابلیت نہ رہی، نیز یہی امام اپنے رسالہ لدنیہ میں فرماتے ہیں: وھذا الروح لا یموت بموت البدن یعنی یہ روح بدن کے مرنے سے مرتی نہیں۔۱۲ منہ (مجموعۃ رسائل الامام الغزالی، الرسالۃ اللدنیۃ ، ص۲۲۶)
[2] جنت کے نہایت بلند و بالا مکانات
[3] یمن میں واقع ایک کنواں
[4] جہنم کی ایک وادی
[5] جہاں ہندو مردے جَلاتے ہیں۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع