30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
(۱)(اولیاءِ کرام رَحمَہُمُ اللہُ السّلام کے )مزارات طیِّبات پرحاضِر ہونے میں پائنتی (پا ۔ ئِنْ ۔ تی ۔ یعنی قدموں ) کی طرف سے جائے اورکم ازکم چار ہاتھ کے فاصِلہ پرمُواجَہَہ میں (یعنی چِہرے کے سامنے )کھڑاہو اورمُتَوَسِّط (مُ ۔ تَ ۔ وَسْ ۔ سِط ۔ یعنی درمِیانی)آواز میں (اس طرح) سلام عرض کرے : اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَاسَیِّدِیْ وَرَحمَۃُ اللہِ وَبَرَکَاتُہٗ پھر دُرُودِ غوثیہ تین بار، الحمد شریف ایک بار ، اٰیۃُ الکُرسی ایک بار، سُورَۃُ الْاِخلَاص سات بار، پھر ’’ دُرودِ غوثیہ‘‘ سات بار ، اور وَقت فُرصت دے تو سورۃ یٰسٓ اور سورۂ الْمُلْکُ بھی پڑھ کراللہ عزوجل سے دُعا کرے کہ الٰہی !اِس قِراءَت پر مجھے اِتنا ثواب دے جو تیرے کرم کے قابِل ہے ، نہ اُتنا جو میرے عمل کے قابل ہے او راسے میری طرف سے اِس بندۂ مقبول کو نَذْر پہنچا ۔ پھر اپنا جو مطلب جائز شرعی ہو ا س کے لیے دُعا کرے اورصاحبِ مزار کی رُوح کواللہ عزوجل کی بارگاہ میں اپنا وسیلہ قراردے ، پھر اُسی طرح سلام کر کے واپَس آئے ۔ (فتاوٰی رضویہ ’’ مُخَرّجہ‘‘ ج ۹ ص ۵۲۲) دُرودِ غوثیہ : : اللّٰہُمَّ صَلِّ عَلٰی سَیِّدِنَا وَ مَوْلَا نَا مُحَمَّدٍ مَّعْدِنِ الْجُوْدِوَالْکَرَمِ وَاٰلِہٖ وَبَارِکْ وَسَلِّمْ ۔ (مَدَنی پنج سورہ ص۲۶۰)
(۲) ہمارے پیارے پیارے آقا ، مکّی مَدَنی مصطَفٰے صَلَّی اللہُ تَعَالٰی علیہ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم شُہَدائے اُحُدعلیہم الرضوان کی مبارَک قبروں کی زیارت کو تشریف لے جاتے اور اُن کے لیے دُعا فرماتے ۔ (مُصَنَّفعَبْد الرَّزّاق ج۳ ص۳۸۱ رقم ۶۷۴۵، تفسیردُرّ مَنثورج۴ص۶۴۰)
مَزاراتِ اولیا سے نَفْعْ ملتا ہے
(۳) فُقَہائے کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السّلام فرماتے ہیں : اولیاءِ کرام وبُزُرگانِ دین رَحمَہُمُ اللہُ الْمُبِین کے مزاراتِ طیِّبات کی زیارت کو جاناجائز ہے وہ اپنے زائر (یعنی مزار پر حاضِر ہونے والے )کونَفْع پہنچاتے ہیں ۔ ( رَدُّالْمُحتارج۳ص۱۷۸)
(۴) مزارشریف یا قَبْر کی زیارت کیلئے جاتے ہوئے راستے میں فُضُول باتوں میں مشغول نہ ہو ۔ (ایضاً) قَبْرکو بوسہ نہ دیں ، نہ قَبْر پر ہاتھ لگائیں (فتاوٰی رضویہ ’’ مخرّجہ‘‘ ج ۹ص۵۲۲، ۵۲۶) بلکہ قَبْرسے کچھ فاصلے پر کھڑے ہو جائیں ۔
شُہَداءِ کرام کے مزارات پرسلام کا طریقہ
(۵) شُہَداءِ کِرام رَحِمَہُمُ اللہُ السّلام کے مزاراتِ طاہِرات کی زیارت کے وقت اس طرح سلام عرض کیجئے : سَلَامٌ عَلَیْکُمْ بِمَا صَبَرْتُمْ فَنِعْمَ عُقْبَی الدَّارِ ترجَمہ : تم پر سلامتی ہو تمہارے صبر کے بدلے ، پس آخِرت کیا ہی اچّھا گھرہے ۔ (فتاوٰی عا لمگیری ج۵ص۳۵۰)
(۶) بُزُرگانِ دین اور اولیاء وصالحین رَحمَہُمُ اللہُ الْمُبِین کے مزاراتِ طیِّبات پر غِلاف( یعنی چادر)ڈالنا جائز ہے ، جبکہ یہ مقصود ہو کہ صاحِبِ مزار کی وَقْعَت(یعنی عزَّت وعَظَمت) عوام کی نظر میں پیدا ہو، ان کا ادب کریں ، ان کے بَرَکات حاصل کریں ۔ (رَدُّالْمُحتارج۹ص۵۹۹)
(۷) قَبْرکو پُخْتہ ( یعنی پکّی) نہ کرنا بہتر ہے ، عام مسلمان کی قَبْر کے گِرد بِلا مقصدِ صحیح عمارت بنانے کی شَرعاً اجازت نہیں کہ یہ مال ضائِع کرنا ہے ۔ البتَّہ اولیائے کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلام کے مزارات کے گرد اچّھی اچّھی نیّتوں سے عمارات و گنبد (گُم ۔ بَد)بنانا جائز ہے ۔ فتاوٰی رضویہ جلد 9( مُخَرَّجہ) صَفْحَہ 418پر ہے : ’’ کَشفُ الْغِطاء‘‘ میں ہے : ’’ مَطالِبُ المؤمنین‘‘ میں لکھا ہے کہ سَلَف(یعنی گُزَشْتہ دور کے بُزُرگوں) نے مشہور عُلَماء ومَشایخ کی قبروں پر عمارت بنانا مُباح(یعنی جائز) رکھا ہے تا کہ لوگ زِیارت کریں اور اس میں بیٹھ کر آرام لیں ، لیکن اگر زینت (یعنی خوبصورتی اور آرائِش)کے لیے بنائیں تو حرام ہے ۔ مدینۂ منوّرہ میں صَحابہ( عَلَیْہِمُ الرِّضْوان) کی قبروں پر اگلے زمانے میں قُبّے (یعنی گنبد )تعمیر کئے گئے ہیں ، ظاہِر یہ ہے کہ اُس وقت جائز قرار دینے سے ہی یہ ہوا اور حُضُورِ اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی علیہ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے مرقدِ انور (یعنی مزارِ پاک)پر بھی ایک بُلندقُبّہ( عظیم سبز
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع