30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
عورَتوں کو پہنچا ۔ تو وہ سب کے سب قِیامت کے روز اس( یعنی ایصالِ ثواب کرنے والے ) کے سِفارشی ہو نگے ۔ (شَرْحُ الصُّدُورص۳۱۱)
مُردوں کی گنتی کے برابر ثواب کمانے کا طریقہ
(۳) حدیثِ پاک میں ہے : ’’ جو گیارہ بار سُورَۃُ الْاِخلَاص پڑھ کر اس کا ثواب مُردوں کو پہنچائے ، تو مُردوں کی گِنتی کے برابر اسے (یعنی ایصالِ ثواب کرنے والے کو) ثواب ملے گا ۔ ‘‘(جَمْعُ الْجَوامِع لِلسُّیُوطی ج۷ ص۲۸۵ حدیث۲۳۱۵۲ )(۴) اس طرح بھی ایصالِ ثواب کیا جا سکتاہے : قبرِستان میں جائے تو الحمد شریف اور الٓمّٓسے الْمُفْلِحُوْنَ تک اور اٰیۃُ الکُرسی اور اٰمَنَ الرَّسُوْلُ آخر سورہ تک اور سُورَۂیٰسٓ اور تَبٰرَكَ الَّذِیْ
اور اَلْهٰىكُمُ التَّكَاثُرُایک ایک بار اور قُلْ هُوَ اللّٰهُ اَحَدٌ(مکمل سورۃ) بارہ یا گیارہ یا سات یا تین بار پڑھے ۔ (بہارِشریعت ج ۱حصّہ۴ص۸۴۹ مکتبۃ المدینۃباب المدینہ کراچی)
بھیجو اے بھائیو مجھے تحفہ ثواب کا
دیکھوں نہ کاش قبر میں ، میں منہ عذاب کا
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
{12-13}غوثِ پاک کی ’’ اپنے امام‘‘ کے مزار پر حاضِری
ہمارے غوثِ اعظم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الاکرم ’’ حَنبلی ‘‘ یعنی حضرت سیِّدُنا امام احمد بن حنبلرضی اللہ تعالٰی عنہ کے مُقلِّد تھے ، غوثِ پاک رَحْمَۃُ اللہِ تعالٰی علیہ قبرِستان اور خُصُوصاً بُزُرگانِ دین رَحمَہُمُ اللہُ الْمُبِین کے مزاراتِ طیِّبات کی زیارت فرمایا کرتے تھے ۔ چُنانچِہ حضرتِ سیِّدُنا شیخ علی بن ہَیتی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْقَوِی بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرتِ شیخ عبد القادِر جیلانی قُدِّسَ سرُّہُ النورانیاور شیخ بقا بن بَطو رَحْمَۃُ اللہِ تعالٰی علیہ کے ہمراہ حضرتِ سیِّدُناامام احمد بن حنبل رضی اللہ تعالٰی عنہ کے مَزار فائضُ الاَنوار کی زیارت کی تو دیکھا کہ حضرتِ سیِّدُنا امام احمد بن حنبل رضی اللہ تعالٰی عنہنے اپنی قبرِ انور سے نکل کر حضرت شیخ عبد القادِر جیلانیقُدِّسَ سرُّہُ النورانی سے مُعانَقَہ کیا(یعنی گلے ملے ) اور آپ کو خِلعَت(یعنی عزّت افزائی کا لباس) عنایت کر کے فرمایا : اے عبدُ القادِر ! تمام لوگ علمِ شریعت وطریقت میں تیرے مُحتاج ہوں گے ۔ پھر میں حضرتِ غوثِ اعظم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الاکرم کے ہمراہ حضرتِ سیِّدُنا شیخ مَعروف کرخی رَحْمَۃُ اللہِ تعالٰی علیہ کے مزارِ پُرانوار پر گیا، وہاں حضرت شیخ عبد القادِر جیلانیقُدِّسَ سرُّہُ النورانی نے فرمایا : اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَاشَیْخُ مَعْرُوْفٌ! عَبَرْنَاکَ بِدَرْجَتَیْن ۔ یعنی اے شیخ معروف! آپ پر سلامتی ہو، ہم آپ سے دو درجے بڑھ گئے ہیں ۔ انہوں نے قَبْر میں سے جواب دیا : وَعَلَیْکَ السَّلَامُ یَاسَیِّدَ اَہْلِ زَمَانِہٖ ۔ یعنی اورآپ پر سلامتی ہو، اے اپنے زمانے والوں کے سردار! (قلائد الجواہِر ص۳۹مصر)اللہ عَزَّوَجَلَّ کی اُن پر رَحمت ہو اور ان کے صَدقے ہماری مغفِرت ہو ۔ اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!معلوم ہوا بزرگانِ دین رَحمَہُمُ اللہُ الْمُبِین وفات کے بعد بھی اپنے مزارات میں زندہ وحیات رہتے ہیں جیساکہ حضرتِ سیِّدُنا امام احمد بن حنبلرضی اللہ تعالٰی عنہ نے اپنی قَبْرِانورسے نکل کر حضرتِ سیِّدُنا غو ث ِاعظم دَست گیر علیہ رَحمَۃُ اللہ القدیر سے بَغَل گیر ہوئے اور حضرتِ سیِّدُنا مَعروف کَرخی رَحْمَۃُ اللہِ تعالٰی علیہ نے اپنے روضۂ مبارَک سے آپ رَحْمَۃُ اللہِ تعالٰی علیہ کے سلام کااس طرح جواب دیا کہ باہَر سنائی دیا ۔
جو ولی قبل تھے یا بعد ہوئے یا ہوں گے
سب ادب رکھتے ہیں دل میں مِرے آقا تیرا (حدائقِ بخشش شریف)
’’ المدد یا غوث‘‘ کے دس حُرُوف کی نسبت سے مَزارات کے مُتَعلِّق 10 مَدَنی پھول
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع