30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ایک آدمی نے اپنے مرحوم بھائی کو خواب میں دیکھ کرپوچھا : قَبْر میں دفنانے کے بعد کیا ہوا؟جوابدیا : ایک شخص آگ کا شعلہ لے کر میری طرف آیا، اگر دُعا کرنے والا میرے لیے دُعا نہ کرتا تو وہ مجھے مارہی دیتا ۔ (شرحُ الصُّدور ص۲۸۱)
زندوں کی دعاؤں سے مُردے بخشے جاتے ہیں
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!معلوم ہوا فوت شُدہ مسلمانوں کو زِندوں کی دعاؤں کا بے حد فائدہ پہنچتا ہے ، چُنانچِہ دعوتِ اسلامی کے اِشاعتی ادارے مکتبۃُ المدینہ کی مطبوعہ 419 صَفْحات پر مشتمل کتاب ، ’’ مَدَنی پنج سورہ‘‘ صَفْحَہ397پر ہے : مدینے کے تاجدار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی علیہ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ مغفِرت نشان ہے : میری اُمّت گناہ سمیت قَبْر میں داخِل ہوگی اور جب نکلے گی تو بے گناہ ہوگی کیونکہ وہ مؤمنین کی دعاؤں سے بخش دی جاتی ہے ۔ ( اَلْمُعْجَمُ الْاَ وْسَط ج۱ص۵۰۹حدیث۱۸۷۹)
مجھ کو ثواب بھیجو، دعائیں ہزار دو
گو قَبْر میں اُتارا ، نہ دل سے اُتار دو
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
{8}مرحوم والِد صاحِب نے خواب میں آ کر کہا کہ......
حضرتِ سیِّدُنا امامسُفْیان بِن عُیَیْنہ رَحْمَۃُ اللہِ تعالٰی علیہ کا بیان ہے : جب میرے والِدصاحِب کا انتِقال ہوگیا تومیں نے بَہُت آہ وبُکا کی (یعنی خوب رویا دھویا) اوراُن کی قَبْر پرروزانہ حاضِری دینے لگا پھر رفتہ رفتہ کچھ کمی آ گئی ۔ ایک روزوالِدِ مرحوم نے خواب میں تشریف لا کر فرمایا : اے بیٹے !تم نے کیوں تاخیر کی؟ میں نے پوچھا : کیا آپ کو میرے آنے کا علم ہوجاتاہے ؟ فرمایا : ’’ کیوں نہیں ، مجھے تمہاری ہر حاضِری کی خبر ہو جاتی تھی اورمیں تمہیں دیکھ کر خوش ہوتاتھا نیز میرے پڑوسی مُردے بھی تمہاری دُعا سے راضی ہوتے تھے ۔ ‘‘چُنانچِہ اس خواب کے بعد میں نے پابندی سے والِد صاحِب کی قَبْر پر جانا شُروع کردیا ۔ (شرحُ الصُّدور ص۲۲۷)
{9}قَبْر میں مُردہ ڈوبتوں کی طرح ہوتا ہے
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! معلوم ہوا کہقَبْر والے آنے جانے والے رشتے داروں اور دوستداروں کی آمد اوراُن کی دعااور ایصالِ ثواب پر خوش ہوتے ہیں اور جو رشتے دار نہیں جاتا اسکے مُنْتَظِر رہتے ہیں ۔ سرکارِ نامدار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی علیہ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا ارشادِ مشکبار ہے : مُردے کا حالقَبْر میں ڈوبتے ہوئے انسان کی مانِند ہے کہ وہ شدَّت سے انتِظار کرتا ہے کہ باپ یا ماں یا بھائی یاکسی دوست کی دُعا اس کو پہنچے اور جب کسی کی دعا اُسے پہنچتی ہے تو اُس کے نزدیک وہ دُنیا وَمَافِیْھا(یعنی دنیا اور اس میں جو کچھ ہے ) سے بہتر ہوتی ہے ۔ اللہعَزَّوَجَلَّقَبْر والوں کو ان کے زندہ مُتَعَلِّقینکی طرف سے ہَدیَّہ (ہَ ۔ دِی ۔ یَہ)کیا ہوا ثواب پہاڑوں کی مانِند عطا فرماتا ہے ، زِندوں کا ہَدیَّہ (یعنی تحفہ) مُردوں کیلئے ’’ دعائے مغفِرت کرنا ہے ۔ ‘‘ ( شُعَبُ الاِْیْمَان ج۶ص۲۰۳حدیث۷۹۰۵)
ماں باپ کی قَبْریں اگر بیچ قبرِستان میں ہوں تو…
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! واقِعی وہ بڑا ہی خوش نصیب بیٹا ہے جو اپنے والدینِ مرحومین کی قبروں کی زیارت کو جایا کرے ۔ یہ مسئلہ یاد رکھئے کہ دوسری قبر وں پر پاؤں رکھے بِغیرماں باپ وغیرہ کی قبروں تک نہ جا سکتے ہوں تودُور ہی سے فاتِحہ(فا ۔ تِ ۔ حَہ) پڑھنا ہو گا، کیوں کہ بُزُرگوں کے مزاروں یا ماں باپ کی قبروں پر جانا مُسْتَحَب کام ہے اور مسلمان کیقَبْر پر پاؤں رکھنا حرام ، مُستَحَبکام کیلئے حرام کام کی شریعت میں اجازت نہیں ۔ میرے آقااعلیٰ حضرت ، امامِ اہلِسنّت ، مجدِّدِ دین وملّت مولانا شاہ امام احمد رضاخان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحمٰن فتاوٰی رضویہ (مُخَرَّجہ) جلد 9 صَفْحَہ 524 پرارشاد فرماتے ہیں : ’’ اِس کا لحاظ لازِم ہے کہ جس قَبْرکے پاس بِالخُصوص جاناچاہتا ہے اُس تک(ایسا) قدیم (یعنی پُرانا) راستہ ہو ، (جو کہ قبریں مٹا
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع