30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۔ (شَرحُ الصُّدور ص۲۰۶) اللہ عَزَّوَجَلَّ کی اُن پر رَحمت ہو اور اُن کے صَدقے ہماری مغفِرت ہو ۔
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!اولیائے کرام رَحمَہُمُ اللہُ السّلام کی بھی کیا خوب شان ہے ! قبروں کے حالات ان پر ظاہِر ہوں ، قَبْروالوں سے گفتگویہ فرمائیں ، ان کی دُعا ومُناجات سے عذابات اُٹھ جائیں ، قَبْر والے ان سے فریادیں کریں تو یہ حضرات سُن لیں اور ان کی امدادیں فرمائیں ۔ اللہ عَزَّوَجَلَّ ہمیں اپنے اولیاء کے صدقے بے حساب بخشے ۔ اٰمین بِجاہِ النَّبِیِّ الْاَمین صلّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم
ہم کو سارے اولیاء سے پیار ہے
ان شاءَ اللہ اپنا بیڑا پار ہے
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
تین فرامِینِ مصطَفٰے صَلَّی اللہُ تَعَالٰی علیہ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
ہمیں بھی قبرِستان جا کر مسلمانوں کی قبروں کی زیارت کرنی چاہئے کہ یہ سنّت، باعثِ یادِآخِرت اپنے لئے ذریعۂ مغفِرت اوراہلِ قُبور کیلئے سببِ مَنفعَت ہے ۔ اس سلسلے میں تین فرا مینِ مصطَفٰے صَلَّی اللہُ تَعَالٰی علیہ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم مُلاحَظہ ہوں : (۱) میں نے تم کو زیارتِ قُبُور سے منع کیا تھا، اب تم قبروں کی زیارت کرو کہ وہ دُنیا میں بے رَغبتی کا سبب ہے اور آخِرت کی یاد دلاتی ہے ۔ ( اِبن ماجہ ج ۲ ص ۲۵۲ حدیث ۱۵۷۱)(۲) جب کوئی شخص ایسی قَبْر پر گزرے جسے دُنیا میں جانتا تھا اور اس پر سلام کرے تو وہ مُردہ اِسے پہچانتا ہے اور اس کے سلام کا جواب دیتا ہے ۔ (تاریخِ بغداد ج ۶ ص ۱۳۵حدیث ۳۱۷۵ ) (۳) جو اپنے والِدَین دونوں یا ایک کی قَبْر کی ہر جُمُعہ کے دن زیارت کرے گا، اُس کی مغفِرت ہوجائے گی اور نیکو کار لکھا جائے گا ۔ (شُعَبُ الْاِیمان ج۶ص۲۰۱حدیث۷۹۰۱)
{3}فاروقِ اعظم کی قَبر والوں سے گُفْتْگُو!
امیرُ المؤمنین حضرتِ سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظمرضی اللہ تعالٰی عنہ ایک قبرِستان سے گزرے تو کہا : ’’ السَّلامُ علیکُم یا اَہْلَ الْقُبُور! (یعنی اے قَبْروالو! تم پر سلامَتی ہو)نئی خبریں یہ ہیں کہ تمہاری عورَتوں نے نئی شادیاں رَچالیں ، تمہارے گھروں میں دوسرے لوگ آباد ہو گئے ، اور تمہارے مال تقسیم ہوچکے ہیں ۔ ‘‘توآواز آئی : اے عمر!ہماری نئی خبریں یہ ہیں کہ ہم نے جو نیک اعمال کیے ان کا بدلہ یہاں ملااور جوراہِ خدا میں خرچ کیا اُس کابھی نَفع پایا اور جو(دُنیا میں ) چھوڑ آئے اُس میں نقصان اٹھایا ۔ (شَرْحُ الصُّدور ص۲۰۹) اللہ عَزَّوَجَل کی اُن پر رَحمت ہو اور اُن کے صَدقے ہماری بے حساب مغفِرت ہو ۔
غافل انسان کے ساتھ نیکی کی جائے گی!
امیر المؤمنین حضرت سیدنا عمر فاروق اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی بھی کی شان ہے کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کی عطا سے آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ قبر والوں سے گفتگوفرمالیتے تھے ۔ بیان کردہ حکایت میں خصوصاً مال ودولت کے حریصوں اور عالی شان مکان اور اونچے اونچے بنانے والوں کے لئے عبرت کے کافی "مدنی پھول"ہیں آہ! انسان دنیا کے جس مکان کو مضبوط و مستحکم (مُسْ ۔ تَحْ ۔ کَمْ)بناتا اور عمدہ انداز میں سجاتا ہے ، وہ اس کے پاس ہمیشہ نہیں رہتا، بالآخردوسرے لوگ اس کے اندر آباد ہوجاتے ہیں ، اس کی خون پسینے کی کمائی اور جمع شدہ پونجی اور "بینک بیلینس" پر بھی دوسرے لوگ قبضہ جماتے ہیں ۔ ہاں مرنے کے بعد صرف وہی مال کام آتاہے جو راہِ خدا میں خرچ کیا گیا ہو ۔ سورۂ دخان پارہ 25 آیت نمبر 25تا29میں ارشاد ربانی ہے :
كَمْ تَرَكُوْا مِنْ جَنّٰتٍ وَّ عُیُوْنٍۙ(۲۵)وَّ زُرُوْعٍ وَّ مَقَامٍ كَرِیْمٍۙ(۲۶)وَّ نَعْمَةٍ كَانُوْا فِیْهَا فٰكِهِیْنَۙ(۲۷)كَذٰلِكَ- وَ اَوْرَثْنٰهَا قَوْمًا اٰخَرِیْنَ(۲۸)فَمَا بَكَتْ عَلَیْهِمُ السَّمَآءُ وَ الْاَرْضُ وَ مَا كَانُوْا مُنْظَرِیْنَ۠(۲۹)
ترجمۂ کنزالایمان : کتنے چھو ڑ گئے باغ اور چشمے اور کھیت اور عمدہ مکانات اور نعمتیں جن میں فَارغ البال تھے ہم نے یو نہی کیا اور ان کا وارث دوسری
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع