30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
راُسے دَفْن کردیا گیا، پھر کسی نے اُسے خواب میں دیکھا کہ وہ کہتی ہے میں نے بچّہ جنا ہے ، تو قبر نہ کھودی جائے گی ۔ واللہ تعالٰی اَعلم یعنی اور خدائے برتر خوب جاننے والا ہے ۔ (فتاوٰی رضویہ ’’ مُخَرَّجہ‘‘ ج ۹ ص ۴۰۵، ۴۰۶)
ملفوظاتِ اعلیٰ حضرت مُخَرَّجہ صَفْحَہ 501تا503 سے ’’ قبرکُشائی‘‘ کے متعلق نہایت اَہَم وعبرت انگیز ’’ عرض وارشاد ‘‘مُلاحَظہ فرمائیے : عَرض : ایک قَبْر کچّی ہے ، ہر بار (بارِش وغیرہ کا) پانی بھر جاتا ہے (کیا) اس میں پکّی ڈاٹ(یعنی سوراخ بند کرنے کی چیز) لگا دیں ؟ارشاد : قَبْر پر ڈاٹ لگانے میں حَرَج نہیں ، ہاں کھولی نہ جائے ۔ میِّت کو دَفن کرکے جب مِٹی دے دی گئی تو وہ اَمانت ہوجاتا ہے اﷲ (عَزَّوَجَلَّ)کی، اس کا کَشف (یعنی کھولنا) جائز نہیں ۔ (کیونکہ قَبْر میں مُردہ)دو حال سے خالی نہیں (یا تو)مُعَذَّب (یعنی عذاب میں ) ہے یا مُنْعَمْ عَلَیہ(یعنی نعمت میں ) ۔ اگرمُعَذَّب(یعنی عذاب میں )ہے تو دیکھنے والا دیکھے گا اِسے ، جس سے اُسے (یعنی خود دیکھنے والے کو) رنج پہنچے گا اور کر کچھ نہیں سکتا ۔ اور اگرمُنْعَمْ عَلَیہ(یعنی نعمت میں ) ہے توا س میں اُس(یعنی میّت) کی ناگَواری ہے ۔
ملفوظاتِ اعلیٰ حضرت کے مُؤلِّف ( یعنی ترتیب دینے والے ) شہزادۂ اعلیٰ حضرت ، تاجدارِ اہلسنّت حُضُور مفتیٔ اعظم ہند حضرت علّامہ مولانامفتی محمد مصطَفٰے رضا خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحمٰن اعلیٰ حضرت رَحْمَۃُ اللہِ تعالٰی علیہ کے ارشاد کے تحت حاشیے میں فرماتے ہیں : ’’ فقیر کہتا ہے کہ اگر صورت معاذَ ا للّٰہ صورتِ اُولیٰ(یعنی عذاب والا مُعامَلہ) ہے تو ناگواری اور زیادہ ہونی چاہیے اور بے وجہ ناحق ایذائے مسلم حرام(اور)خُصُوصاًایذائے میِّت، نیز حدیث کے ارشاد سے ثابت ہے کہ ’’ مُردے کو قَبْر سے تکیہ(یعنی ٹیک) لگانے سے بھی اَذِیَّت ہوتی ہے ۔ ‘‘ تو مَعَاذَ اللہ مَحض اپنی خواہِش کے لیے نہ (کہ)ضَرورت و حاجت کے لیے اُس پر کُدال چلانا اورقَبْر کو کھود ڈالنا کس قَدَر سخت اِیذا کا باعِث ہوگا ۔ آہ! مسلمانوں کے قبرِستانوں کی آج جو رَدّی حالت ہے اُس پر جس قَدَر بھی رَویاجائے کم ہے ۔ قَبْر پر لوگ بیٹھ کر حُقّے پیتے ، خُرافات کرتے ، لَغو(یعنی بے کار) باتیں بناتے ، گالیاں بکتے ، قَہقَہے اُڑاتے ہیں ۔ غیر قوم ہی کے لوگوں پر بس نہیں خود مسلمان بھی یہ ناشائِستہ بے ہُودہ حَرکتیں کرتے ہیں ۔ بچّے قبور پر کھیلتے کودتے پھرتے ہیں بلکہ گدھے اُن پر لوٹتے لِید کرتے ہیں ، بکریاں بیٹھتی مینگنیاں کرتی ہیں ۔ وَلَاحَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلَّا بِاﷲ ۔ مسلمانو! خدا کے لیے آنکھیں کھولو! ایک دن تمہیں بھی(دنیا سے ) جانا ہے ۔ ان مُردوں کی خاطر کچھ انتِظام نہیں کرتے (تو) اپنے ہی لیے کرو ۔ ‘‘
{24}قَبْر کُشائی کرنے والا اندھا ہو گیا!
بِلا اجازتِ شَرعی قبرکُشائی کابھیانک انجام دنیا میں بھی دیکھا جاسکتا ہے ، چُنانچِہ ملفوظات اعلیٰ حضرت صَفْحَہ502 پر ہے : علّامہ طاش کُبریٰ زادہرَحْمَۃُ اللہِ تعالٰی علیہ نے یہ حدیث دیکھی کہ ’’ عُلَمائے دین کے بدن کو مِٹّی نہیں کھاتی، بدن اُن کا سلامت رہتا ہے ۔ ‘‘شیطان نے اُن کے دل میں وَسوَسہ ڈالا کہ ہمارے استادبَہُت بڑے عالم ہیں اُن کیقَبْر کھول کر دیکھوں کہ ان کا بدن کس حال پر ہے !اِس وَسوَسے نے اُن پر ایسا غَلَبہ کیا کہ ایک شب میں جا کر قَبْر کَھولی ، دیکھا کفَن بھی میلا نہ تھا ۔ جب دیکھ چکے ، قَبْر سے آواز آئی : ’’ دیکھ چُکا! اﷲ (عَزَّوَجَلََّّ ) تجھے اندھا کرے ۔ ‘‘اُسی وقت دونوں آنکھیں بہ گئیں (یعنی وہ نابینا ہو گئے ) ۔
{25}قَبْر کھولنے والا زندہ دَفن ہو گیا
اِسی طرح ناجائز طور پر قبر کُشائی کرنے والے ایک اور شخص کا درد ناک انجام مُلاحَظہ ہو چُنانچِہ اعلیٰ حضرت رَحْمَۃُ اللہِ تعالٰی علیہ فرماتے ہیں : ایک عورت کا اِنتقال ہوا ، دَفن کردی گئی، اُس کے شوہر کوبَہُت مَحَبَّت تھی، مَحَبَّتنے مجبور کیا کہ اس کی قَبْر کھول کر دیکھے ، کیا حال ہے ! ایک عالِم سے یہ اِرادہ ظاہِر کیا، اُنہوں نے مَنع کیا ، نہ مانا اور اُن کو قبرِستان تک ساتھ لے گیا، عالِم نے ہر چندمَنع کیا لیکن اس نے قَبْر کھولی ۔ عالم صاحِب قَبْرکے کنارے بیٹھے رہے ، وہ نیچے اُترا دیکھا کہ اُس عورت کے دونوں پاؤں پیچھے سے لے جا کر اُس کی چوٹی سے باندھ دیئے گئے ہیں ۔ اُس نے چاہا کہ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع