30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! حکایت نمبر21 -22-23سے معلوم ہوا کہ قَبْرپر پاؤں رکھنے یاسونے سے قَبْر والے کو اِیذا ہوتی ہے اور بلا اجازتِ شرعی کسی مسلمان کو ایذا دینا حرام اور جہنَّم میں لے جانے والاکام ہے ۔ لہٰذا کسی مسلمان کی قَبْر پر پاؤں نہ رکھے ، نہ کسیقَبْر کو رَوندے اور نہ کسیقَبْر پر بیٹھے اور نہ ہی ٹیک لگائے کیونکہ اس سے نبیِّ کریم ، رَء ُوْفٌ رَّحیمعَلَیْہِ اَفْضَلُ الصَّلٰوۃِوَ التَّسْلِیم نے منع فرمایا ہے : دو فَرامینِ مصطَفٰے صَلَّی اللہُ تَعَالٰی علیہ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم : (۱) مجھے آگ کی چِنگاری پر یا تلوار پر چلنا یا میرا پاؤں جُوتے میں سِی دیا جانا زیادہ پسند ہے اِس سے کہ میں کسی مسلمان کی قَبْرپر چلوں ۔ (سُنَنِ اِبن ماجہ ج ۲ ص۲۵۰حدیث۱۵۶۸)(۲) ایک آدمی کو آگ کی چنِگاری پر بیٹھارہنا یہاں تک کہ وہ اس کے کپڑے کو جَلا کر اس کی کھال تک پہنچ جائے ، اس کے لیے بہتر ہے اس سے کہقَبْرپر بیٹھے ۔ (صَحیح مُسلِم ص۴۸۳ حدیث۹۷۱)
قَبروں کو مٹا کر بنائے ہوئے راستے پر چلنا حرام ہے
قبرِستان میں عام راستے سے جائے ، جوراستہ نیابناہواہو اُس پرنہ چلے ۔ ’’ رَدُّالْمُحتار‘‘میں ہے : (قبرِستان میں قبریں مِٹا کر)جونیاراستہ نکالا گیاہو اُس پرچلنا حرام ہے ۔ (رَدُّالْمُحتارج۱ص۶۱۲) بلکہ نئے راستے کا صِرف گمان ہو تب بھی اُس پر چلنا ناجائز وگناہ ہے ۔ (دُرِّمُختارج۳ص۱۸۳ )
مزارات کے گردقبریں مٹاکر بنائے ہوئے فرش پرچلنا پھرنا حرام
کئی مزاراتِ اولیاء پر دیکھا گیا ہے کہ زائرین کی سَہولت کی خاطر مسلمانوں کی قبریں مِسمارکر کے (یعنی توڑ پھوڑ کر)فرش بنادیاجاتا ہے ، ایسے فرش پر لیٹنا، چلنا، کھڑا ہونا، ذکر واَذکار اور تِلاوت کیلئے بیٹھناوغیرہ حرام ہے ، دُور ہی سے فاتِحہ پڑھ لیجئے ۔
قَبْر پررہنے کامکان بنانا، یاقَبْرپر بیٹھنا، یاسونا، یا اس پر بَول وبَراز (یعنی پیشاب پاخانہ)کرنا یہ سب اُموراَشَدّ (یعنی سخت ترین )مَکرُوہ قریب بحَرام ہیں ۔ ( فتاوٰی رضویہ ’’ مخرجہ‘‘ج ۹ص۴۳۶) سیِّدِ عالم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی علیہ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم فرماتے ہیں : مُردے کو قَبْر میں بھی اس بات سے ایذا ہوتی ہے جس سے گھر میں اسے اَذِیَّت ہوتی ۔ (اَلْفِردَوس بمأثور الْخطّاب ج۱ص۱۲۰حدیث۷۴۹دارالفکربیروت)
میِّت دَفنانے کے لئے قبروں پر پاؤں رکھنا پڑے تو؟
قبرِستان میں میِّت کے لییقَبْر کھودنے یا دفْن کرنے جانا چاہتے ہیں ، بیچ میں قبریں حائل ہیں ، اس حاجت کیلئے اجازت ہے ، پھر بھی جہاں تک بن پڑے بچتے ہوئے جائیں اور ننگے پا ؤں ہوں ، ان اَموات (یعنی قبر والوں )کیلئے دعا اِستِغفار(یعنی مغفِرت کی دعائیں ) کرتے جائیں ۔ (فتاوٰی رضویہ ’’ مُخَرَّجہ‘‘ ج ۹ص۴۴۷)ایسے موقَعْ پر صِرف وُہی جائیں جن کو تدفین کرنی ہے ، ایک بھی زائد نہ جائے ، مَثَلاً معلوم ہو کہ تین کافی ہو جائیں گے تو چوتھا وہاں تک نہ جائے ، اور وہ تین بھی اگر مجبوراً قبروں پر کھڑے تھے تو مِٹّی ڈالنے کے بعداذان وفاتحہ وغیرہ کے لئے نہ رکیں ، فوراً لوٹ آئیں اور جہاں یقینی طور پر پاؤں تلے قبریں نہ ہوں ایسی جگہ آکراذان و فاتِحہ کی ترکیب کریں ۔
قبرستان میں چِیُونٹیوں کو مٹھائی ڈالنا
دعوتِ اسلامی کے اِشاعتی ادارے مکتبۃُ الْمدینہ کی مطبوعہ کتاب ’’ ملفوظاتِ اعلیٰ حضرت‘‘کے صَفْحَہ348 تا349سے ایک معلوماتی ’’ عرض وارشاد‘‘ مُلاحَظہ ہو : عرض : مُردَہ(یعنی میِّت) کے ساتھ مِٹھائی(چینی) قبرِستان میں چِیونٹیوں کے ڈالنے کے لیے لے جانا کیسا ہے ؟ارشاد : ساتھ لے جانا روٹی کا جس طرح عُلَمائے کِرام نے منع فرمایا ہے ویسے ہی مٹھائی ہے اورچِیونٹیوں ( آٹا یا مٹھائی یاچینی وغیرہ) کو اس نِیّت سے ڈالنا کہ میِّت کو تکلیف نہ پہنچائیں یہ مَحض جَہالت ہے ۔ اور یہ نِیَّت نہ بھی ہو تو بھی بجائے اِس(یعنی چِیونٹیوں کو ڈالنے ) کے مساکِینِ صالحین(یعنی نیک وپارسا غریبوں ) پر تقسیم کرنا بہتر ہے ۔ { پھر فرمایا : } مکان پر جس قَدَر چاہیں خیرا ت کریں ، قبرِستان میں اکثر دیکھا گیا ہے کہ اَناج تقسیم ہوتے وقت بچّے اورعَورَتیں وغیرہ غُل (یعنی شور ) مچاتے اور مسلمانوں کی قبروں پر دوڑتے پھرتے ہیں ۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع