30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
قید سے چھوٹے وہ اپنے گھر گئے
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
{19}جب بھینس کا پاؤں زمین میں دھنسا ۔ ۔ ۔ ۔
قبرِستان کی سُوکھی گھاس کاٹ کر لے جانا جائز ہے مگر جانوروں کو قبروں پر چلانے چَرانے کی شریعت میں اجازت نہیں ۔ میرے آقا اعلیٰ حضرت، اِمامِ اَہلسنّت ، مولانا شاہ امام اَحمد رضا خانعلیہ رحمۃُ الرَّحمٰن فرماتے ہیں : اِس فقیر(یعنی اعلیٰ حضرت)غَفَرَاللہُ تَعَالٰی لَہٗ(اللہ تعالیٰ اس کی مغفرت فرمائے )نے (اپنے پیر بھائی) حضرتِ سیِّدی ابوالحسن نوری مُدَّظلُّہ الْعَالِی سے سنا کہ ہمارے بِلاد میں ’’ مارہرہ مُطَہَّرہ‘‘(الھند) کے قریب ایک جنگل میں گنجِ شہیداں ہے (یعنی جس میں بہت سارے شہیدمدفون ہیں اس اجتماعی قبر کے اوپر چلتا ہوا) کوئی شخص اپنی بھینس لیے جاتا تھا، ایک جگہ زمین نَرم تھی، ناگاہ (یعنی یکا یک) بھینس کاپاؤں (زمین میں )جارہا، معلوم ہو ایہاں قَبْر ہے ، قَبْر سے آواز آئی : ’’ اے شخص!تونے مجھے تکلیف دی، تیری بھینس کا پاؤں میرے سینے پر پڑا ۔ ‘‘ (فتاوٰی رضویہ ’’ مُخَرَّجہ‘‘ ج ۹ ص ۴۵۳)
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! معلوم ہوا شُہَداء ِکِرام رَحِمَہُمُ اللہُ السّلام حیات ہوتے اور قبروں میں ان کے بدن سلامت رہتے ہیں ۔
شہیدوں کو ملی حق سے حیاتِ جاوِدانی ہے
خدا کی رحمتیں ، جنَّت میں اُن کی میہمانی ہے
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
{20}قَبْرپر بیٹھنے والے کو تَنبِیہ
عُمارَہ بن حَزْم رضی اﷲتعالٰی عنہ فرماتے ہیں : حُضُورِ اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی علیہ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے مجھے ایکقَبْر پر بیٹھے دیکھا، فرمایا : اوقَبْر والے !قَبْر سے اُتر آ، نہ تو صاحِبِ قَبْرکوایذا دے نہ وہ تجھے ۔ (فتاوٰی رضویہ ’’ مخرجہ‘‘ ج ۹ ص ۴۳۴)اِس مَدَنی حکایت سے وہ لوگ عبرت حاصل کریں جوجنازے کے ساتھ قبرِستان جاتے ہیں اور تدفین کے دَوران معاذَاللہ بِلا تکلُّف قبروں پر بیٹھ جاتے ہیں ۔
{21}قَبر پر پاؤں رکھا تو آواز آئی
حضرت ِسیِّدُناقاسم بن مُخَیْمَر رَحْمَۃُ اللہِ تعالٰی علیہ کہتے ہیں : کسی شخص نے ایک قبر پر پاؤں رکھا، قبر سے آواز آئی : اِلَیْکَ عَنِّیْ وَلَاتُؤْذِنِیاپنی طرف ہٹ ، ( یعنی دور ہو ! اے شخص میرے پاس سے ! )اور مجھے ایذا نہ دے ۔ (ایضاًص ۴۵۲، شَرْحُ الصُّدُورص۳۰۱)
{22}قبر پر سونے والے سے صاحِبِ قبر نے کہا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
حضرت ِسیِّدُنا ابو قِلابہ رضی اﷲتعالٰی عنہ فرماتے ہیں : میں ’’ ملکِ شام ‘‘سے بصرہ کوآتاتھا، رات کو خَندَق(یعنی کھائی یا گڑھے ) میں اُترا ۔ وُضو کیا اور دورَکعَت (رَک ْ ۔ عَتْ) نماز پڑھی ۔ پھرا یک قَبْر پرسر رکھ کر سورہا، جب جاگا تو ناگاہ(یعنی اچانک) سُنا کہ صاحِبِ قَبْرشِکایت کرتا اور فرماتا ہے کہلَقَدْ اٰذَیْتَنِیْ مَنْذُ اللَّیْلَۃِیعنی تونے رات بھر مجھے ایذا پہنچائی ۔ (صاحِبِ قبر نے مزید فرمایا : )ہم جانتے ہیں اور تم کو پتا نہیں ، ہم عمل پر قادِر نہیں ، تم نے دو رَکعت جو نَماز پڑھی وہ دُنیا وَمافِیہا(یعنی دنیا اور اِس میں جو کچھ ہے اُس) سے بہتر ہے ، پھر اس نے (مزید) کہا کہ اہلِ دنیا کو اللہ تعالیٰ ہماری طرف سے جزائے خیر دے جب وہ ہم کو ایصالِ ثواب کرتے ہیں تو وہ ثواب نو ر کے پہاڑ کی مِثل ہم پر داخِل ہوتا ہے ۔ (فتاوٰی رضویہ ’’ مُخَرَّجہ‘‘ ج ۹ ص ۴۵۲، شَرْحُ الصُّدُورص۳۰۵)
{23} اٹھ تُو نے مجھے ایذا دی!
حضرتِسَیِّدُنَا ابنِ مِینا تابِعی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْقَوِی فرماتے ہیں : میں قبرِستان میں گیا ، دورَکعات پڑھ کرایک قَبْر پر لیٹا رہا ۔ خدا کی قسم! میں خوب جاگ رہاتھا کہ سُنا، صاحبِ قبر کہتا ہے : قُمْ فَقَدْ اٰذَیْتَنِیاُٹھ کہ تونے مجھے ایذا دی ۔ (دَلَائِلُ النُّبُوَّۃِ لِلْبَیْہَقِی ج۷ ص ۴۰)
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع