30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
مَقروض شہید بھی جنَّت میں نہ جا سکے گا جب تک کہ......
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!معلوم ہوا ، ’’ قرض‘‘بَہُت بڑا بوجھ ہے ، جو لوگ ادائے قرض میں ٹالَم ٹول کرتے ہیں اُن کو بیان کردہحِکایت سے ڈرجانا چاہئے اور قرض خواہ (یعنی جس سے قرض لیا ہے اُس) کو اپنے پاس دھکّے کِھلانے کے بجائے خود اُس کے پاس جاکر شکریہ کے ساتھ اس کاقرض ادا کردینا چاہئے ، کہیں ایسا نہ ہو کہ جُھوٹ مُوٹ ’’ آج کل‘‘ کرتے ہوئے موت آجائے اور قَبْر میں جان پھنس جائے ۔ فرمانِ مصطَفٰے صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم ہے : ’’ اُس ذات کی قسم جس کے قبضۂ قدرت میں میری جان ہے ! اگر کوئی آدَمی اللہ عزوجل کی راہ میں قتل کیا جائے پھر زِندہ ہو پھراللہ عزوجل کی راہ میں قتل کیا جائے پھر زندہ ہو اور اس کے ذِمّے قرض ہو تو وہ جنَّت میں داخِل نہ ہو گا یہاں تک کہ اُس کا قرض ادا کر دیا جائے ۔ ‘‘ (مُسندِ اِمام احمد ج۸ص۳۴۸ حدیث۲۲۵۵۶)کوئی مسلمان مقروض فوت ہوجائے تو عزیزوں کو چاہئے کہ فوراً اُس کا قرضہ ادا کردیں تاکہ مرحوم کے لئے قبر میں آسانی ہو ۔ فرمانِ مصطَفٰے صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم ہے : ’’ بے شک تمہارا رفیق جنَّت کے دروازے پر اپنے قرض کی وجہ سے روک دیا گیا ہے اگر تم چاہو تو اس کاقرض پورااداکرو اور اگر چاہو تو اسے (یعنی فوت شدہ مقروض کو) عذاب کے حوالے کر دو ۔ ‘‘(اَلْمُستَدرَک لِلْحاکِم ج۲، ص۳۲۲حدیث۶۱ / ۲۲۶۰)
نماز جنازہ سے قبل اعلان کا طریقہ
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! کیاہی اچھا ہو کہ نمازِ جنازہ پڑھانے سے قبل امام صاحِب یا کوئی اسلامی بھائی اِس طرح اعلان فرما دیا کریں : مرحوم کے اہلِ خاندان اوردوست اَحباب توجُّہ فرمائیں ، مرحوم نے اگر زندَگی میں کبھی آپ کی دل آزاری یا حق تلفی کی ہو تو ان کو مُعاف کردیجئے ، اِنْ شَآءَاللہ عَزَّوَجَلَّمرحوم کا بھی بھلا ہوگا اور آپ کو بھی ثواب ملیگا ۔ آپ کا اگر مرحوم پر قرض ہو اور وہ مُعاف کردیں گے تو ان شاءَاللہ عَزَّوَجَلَّآپ کا بھی بیڑا پار ہو گا ۔ اس کے بعدامام صاحِب نیَّت ونمازِ جنازہ کا طریقہ بھی بتائیں ۔
وقت پر قرضہ ادا کر دو پِھر و مت قو ل سے
جھوٹ مت بولو بچو بے کار ٹالَم ٹول سے
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
{18}قَبْر میں آنکھیں کھولدیں
حضرتِ سیِّدُنا ابو علی علیہ رَحمۃ اللہِ الولی فرماتے ہیں : میں نے ایک فقیر(یعنی اللہ کے ایک نیک بندے ) کو قَبْر میں اُتارا ، جب کفن کھولا اور ان کا سر خاک پر رکھ دیا کہ اللہ تعالیٰ ان کی غُربَت(یعنی بیکسی) پر رحم کرے ، فقیر نے آنکھیں کھول دیں اور مجھ سے فرمایا : اے ابو علی! تم مجھے اُس(ربِّ کریم) کے سامنے ذلیل کرتے ہو جومجھ پر خاص کرم فرماتا ہے ! میں نے عرض کی : اے میرے سردار! کیا موت کے بعد زِندَگی ہے ؟ فرمایا : بَلْ اَنَا حَیُّ وَّکُلُّ مُحِبِّ اللہِ حَیٌّ لَاَنْصُرَ نَّکَ بِجَا ھِی غَدًا( میں زندہ ہوں اور خُداکا ہر پیارازندہ ہے ، بیشک وہ وَجاہت و عزَّت جو مجھے روزِ قِیامت ملے گی اُس سے میں تیری مدد کروں گا) ۔ (فتاوٰی رضویہ ج۹ ص ۴۳۳)
اولیا بعدِوفات بھی زندہ ہوتے ہیں
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! معلوم ہوا اولیاء ِکرام و شہداءِ عِظام علیہ رَحمۃ اللہِ الولی اپنی قبروں میں زندہ ہوتے ہیں اور سب کچھ مُلاحَظہ فرما رہے ہوتے ہیں : اعلیٰ حضرت رَحْمَۃُ اللہِ تعالٰی علیہفرماتے ہیں : علاّمہ علی قاری رَحْمَۃُ اللہِ تعالٰی علیہ شرحِ مشکوٰۃ میں لکھتے ہیں : اولیاء اللہ کی دونوں حالتوں (یعنی زندگی وموت) میں اَصلاً (یعنی کسی قسم کا کوئی)فرق نہیں ، اِسی لیے کہا گیا ہے کہ وہ مرتے نہیں بلکہ ایک گھر سے دوسرے گھر میں تشریف لے جاتے ہیں ۔ (فتاو یٰ ر ضویہ ’’ مخرجہ‘‘ ج ۹ ص۴۳۳، مِرْقاۃُ الْمَفاتِیح ج۳ ص۴۵۹ تحت الحدیث ۱۳۶۶)
کون کہتا ہے ولی کو، مر گئے
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع