30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
{16}کانامُردہ
ایک بُزُرگ رَحْمَۃُ اللہِ تعالٰی علیہ فرماتے ہیں : میرا ایک پڑوسی گمراہی کی باتیں کیاکرتاتھا، اُسکے مرنے کے بعد میں نے اسے خواب میں دیکھا کہ کانا ہے ۔ میں نے پوچھا : یہ کیا مُعامَلہ ہے ؟جواب دیا : میں نے صَحابۂ کرام(علیہم الرضوان) کی مبارک شان میں ’’ عَیب‘‘ نکالے ، اللہعَزَّوَجَلَّ نے مجھ کو ’’ عیب دار‘‘کردیا! یہ کہہ کر اُس نے اپنی پھوٹی ہوئی آنکھ پر ہاتھ رکھ لیا ۔ (شرحُ الصُّدور ص۲۸۰)
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!اِس حکایت سے معلوم ہوا کہ صَحابۂ کرام علیہم الرضوان کی شانِ عَظَمت نشان میں نکتہ چینی کرنا بے حد خطرناک ہے ۔ ان مُقتَدَر حَضْرات کے بارے میں زَبان تو زَبان دل میں بھی کوئی بُری بات نہیں لانی چاہئے ۔ دعوتِ اسلامی کے اِشاعتی ادارے مکتبۃُ الْمدینہ کی مطبوعہ 1250 صَفْحات پر مشتمل کتاب ، ’’ بہارِ شریعت‘‘جلد اوّل صَفْحَہ 252پرصدرُ الشَّریعہ، بدرُ الطَّریقہ حضرتِ علّامہ مولانامفتی محمد امجد علی اعظمی علیہ رحمۃ اللہ القوی فرماتے ہیں : ’’ تمام صَحابۂ کرام رضی اﷲ تعالٰی عنہم اہلِ خیر وصَلاح(یعنی بھلائی اور تقوے والے ) ہیں اور عادِل، ان کا جب ذِکر کیا جائے تو خیر(یعنی بھلائی) ہی کے ساتھ ہونا فرض ہے ۔ ‘‘مزیدآگے چل کر صَفْحَہ254 پر فرماتے ہیں : ’’ تمام صَحابۂ کِرام اعلیٰ و اَدنیٰ (اور ان میں ادنیٰ کوئی نہیں ) سب جنَّتی ہیں ، وہ جہنَّم(میں داخل تو کیا ہوں گے اُس) کی بِھنک(بِھ ۔ نَ ۔ ک یعنی ہلکی سی آواز تک) نہ سنیں گے اور ہمیشہ اپنی مَن مانتی مُرادوں میں رہیں گے ، مَحشر کی وہ بڑی گھبراہٹ انھیں غمگین نہ کرے گی، فِرِشتے ان کا استِقبال کریں گے کہ یہ ہے وہ دن جس کا تم سے وَعدہ تھا ، یہ سب مضمون قرآنِ عظیم کا ارشاد ہے ۔ ‘‘ عاشقِ صحابہ واہلبیت، اعلیٰ حضرت رَحْمَۃُ اللہِ تعالٰی علیہ فرماتے ہیں :
اہلسنّت کا ہے بیڑا پار اصحابِ حُضورـ
نجم۱[1]؎ ہیں اور ناؤ [2]ہے عِترت[3]؎ رسول اللہ کی
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
{17}پُراَسرارکُنویں کا قیدی
شَیْبان بن حسن کا بیان ہے : میرے والِد صاحِب اور عبدُ الواحِد بن زَید ایک جِہاد میں تشریف لے گئے ، اُنہوں نے ایک پُراَسرار کُنواں دیکھا جس میں سے آوازیں آرہی تھیں !اندرجھانکا تو کیا دیکھتے ہیں کہ ایک شخص تخت پربیٹھا ہے اور اُس کے نیچے پانی ہے ، انہوں نے دریافت کیا : جِنّ ہو یا انسان؟جوابدیا : انسان ۔ پوچھا : کہاں کے رہنے والے ہو؟ بولا : اَنطاکِیہ کا، میرا قِصّہ یہ ہے کہ میرے رب عَزَّوَجَلَّنے مجھے وَفات دے دی اور اب مجھ کو اس کنویں میں قرض ادا نہ کرنے کی وجہ سے قید کردیا ہے ، ’’ اَنطاکِیہ‘‘ کے کچھ لوگ میرا ذکرِ خیرتو کرتے ہیں مگر میرا دَین (یعنی قرضہ )نہیں چُکاتے ۔ چُنانچِہ یہ دونوں (یعنی میرے والِد صاحِب اور ان کے رفیق) ’’ اَنطاکِیہ‘‘ گئے اور (معلومات کرکے ) اُس پُراَسرارکُنویں کے قیدی کا دَین(یعنی قرض) چُکا کر واپَس اُسی مقام پر آئے تووہاں نہ اب وہ شخص تھا نہ ہی کُنواں ! یہ دونوں حَضرات اُسی پُراَسرارکُنویں والی جگہ پر جب رات سوئے تو خواب میں وُہی شخص آیااور اس نے کہا : ’’ جَزَا کُمَا اللہُ عَنِّیْ خَیْراً ۔ ‘‘ (یعنی اللہعَزَّوَجَلَّ تم دونوں کو میری طرف سے بہترین بدلہ دے )میرا قَرض اداہونے کے بعد میرے پرَوردَگار عَزَّوَجَلَّ نے مجھ کو جنّت کے فُلاں حصّے میں داخِل فرمادیاہے ۔ (شرحُ الصُّدور ص۲۶۷)
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع