30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ڈنک مچھر کا بھی مجھ سے تو سَہا جاتا نہیں میں بچھّو کے ڈنک کیسے سہوں گا یا رب!
گر تُو ناراض ہوا میری ہلاکت ہوگی ہائے ! میں نا رِ جَہنَّم میں جلوں گا یا رب!
عَفو کر اور سد ا کے لئے راضی ہو جا
گر کرم کر دے تو جنّت میں رہوں گا یا رب!
صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد
(غیبت کی تباہ کاریاں ، ص۷۶)
حضرتِ سیِّدُنا عبداللّٰہ بن عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے مروی ہے : ’’کوئی دن ایسانہیں کہ جس میں ملک الموت(علیہ السلا م)قبرستان میں یہ اعلان نہ کرتے ہوں : ’’اے قبر والو! آج تمہیں کن لوگوں پر رشک ہے؟‘‘ تو وہ جواب دیتے ہوئے کہتے ہیں : ’’ہمیں مسجد والوں پر رشک ہے کہ وہ مسجدوں میں نَماز پڑھتے ہیں اور ہم نما ز نہیں پڑھ سکتے۔ وہ روزے رکھتے ہیں اور ہم نہیں رکھ سکتے۔ وہ صدقہ کرتے ہیں اور ہم نہیں کر سکتے۔ وہ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کا ذکر کرتے ہیں اورہم نہیں کر سکتے۔‘‘ پھر اہل قبر اپنے گذشتہ زمانے پر نادِم (یعنی شرمسار)ہوتے ہیں ۔‘‘
(الروض الفائق، المجلس الثالث فی ذکر الموت …الخ، ص۷۲)
وہ ہے عیش و عشرت کا کوئی مَحَل بھی جہاں تاک میں ہر گھڑی ہو اَجَل بھی
بس اب اپنے اس جَہْل سے تُو نکل بھی یہ جینے کا انداز اپنا بدل بھی
جگہ جی لگانے کی دنیا نہیں ہے
یہ عبرت کی جا ہے تماشا نہیں ہے
صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد
شیخِ طریقت امیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ ہمیں قبر وحشر کی تیاری کا ذہن عطا کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
’’ میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! واقِعیعَقْلْمَنْد وہی ہے جو موت سے قَبْل موت کی تیاّری کرتے ہوئے نیکیوں کا ذخیرہ اِکٹّھا کر لے اور سُنّتوں کا مَدَنی چَراغقَبْر میں ساتھ لے جائے اور یوں قَبْر کی روشنی کا انتِظام کر لے ، ورنہ قَبْرہرگز یہ لحاظ نہ کرے گی کہ میرے اندر کون آیا؟ امیر ہو یا فقیر، وزیرہو یا اُس کا مُشِیر، حاکم ہو یا محکوم، افسر ہو یا چپراسی، سیٹھ ہو یا مُلازِم ، ڈاکٹر ہو یا مریض، ٹھیکیدار ہو یا مزدور۔ اگرکسی کے ساتھ بھی توشَۂ آخِرت میں کمی رہی، نَماز یں قَصدًا قضاء کیں ، رَمَضان شریف کے روزے بلا عُذْرِ شَرْعی نہ رکھے ، فَرْض ہوتے ہوئے بھی زکوٰۃ نہ دی، حج فرض تھا مگر ادا نہ کیا، باوُجُودِ قدرت شَرْعی پردہ نافِذ نہ کیا، ماں باپ کی نافرمانی کی ، جھوٹ ، غیبت ، چُغْلی کی عادت رہی، فلمیں ، ڈِرامے دیکھتے رہے ، گانے باجے سنتے رہے ، داڑھی مُنڈواتے یا ایک مٹّھی سے گھٹاتے رہے ۔ اَلْغَرَض خوب گناہوں کا بازار گَرْم رکھا تو اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ ا ور اُس کے رسول صَلَّی اللہُ تَعَالٰی علیہ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی ناراضگی کی صورت میں سوائے حَسرت ونَدامت کے کچھ ہاتھ نہ آئے گا ۔جس نے فرائض کے ساتھ ساتھ نوافِل کی بھی پابندی کی ، رَمَضَانُ الْمُبارَککے عِلاوہ نفلی روزے بھی رکھے ، کُوچہ کُوچہ ، گلی گلی نیکی کی دعوت کی دھومیں مچائیں ، قرآنِ پاک کی تعلیم نہ صِرْف خود حاصِل کی بلکہ دوسروں کو بھی دی، چوک دَرْس دینے میں ہِچکچاہٹ محسوس نہ کی ، گھر دَرْس جاری کیا، سنّتوں کی تربیّت کے مَدَنی قافِلوں میں باقاعِدگی سے سَفَر کرنے کے ساتھ ساتھ دیگر مسلمانوں کوبھی اسکی ترغیب دلائی، روزانہ مَدَنی انعامات کا رسالہ پُر کر کے ہر ماہ اپنے ذمّہ دار کوجَمْع کروایا اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ اور اُسکے پیارے رسول صَلَّی اللہُ تَعَالٰی علیہ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے فضل و کرم سے ایمان سلامت لیکر دنیا سے رخصتی ہوئی تو اِنْ شَآءَاللہ عَزَّوَجَلَّ اُس کی قَبْر میں حشْر تک رحْمتوں کا دریا موجیں مارتا رہے گا اور نورِ مُصطَفٰیصَلَّی اللہُ تَعَالٰی علیہ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے چشمے لہراتے ر ہیں گے۔
قَبْرمیں لہرائیں گے تاحَشْر چشمے نور کے
جلوہ فرما ہو گی جب طَلْعَترسولُ ا ﷲ کی (حدائق بخشش)
صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد
(بادشاہوں کی ہڈیاں ، ص۷۱)
اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کے محبوب ، دانائے غُیُوب ، مُنَزَّہٌ عَنِ الْعُیُوب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی علیہ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ عبرت نشان ہے : قبر یا تو جہنَّم کا گڑھا ہے یا جنت کے باغوں میں سے ایک باغ۔ (اَلتَّرْغِیْب وَالتَّرْھِیْب ج۴ ص۸۱۱ دارالفکر بیروت)
قبر کو جہنم کا گڑھا بنانے والے اعمال
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!یوں تو ہر گناہ عذابِ قبر کا سبب بن سکتا ہے مگر چند ایسی روایات وحکایات ملاحظہ کیجئے جن میں عذابِ قبر میں مبتلاکرنے والے گناہوں کا خصوصیت کے ساتھ ذکر ہے :
حضرتِ سیِّدُنا ابنِ عبّاس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ ماسے مروی ہے کہ سرکارِ دو عالَم، نُورِ مجَسَّم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی علیہ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم دو قبروں کے پاس سے گزرے(توغیب کی خبر دیتے ہوئے) فرمایا :
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع