دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Qabar main Aanay wala Dost | قبر میں آنے والا دوست

book_icon
قبر میں آنے والا دوست

تنہائی ہی کافی ہے

        بالفرض اگر قبر میں کوئی عذاب نہ بھی ہوتوتنگ و تاریک قبر میں طویل عرصے تک تنہا رہنا ہی شدیدآزمائش ہے کیونکہ ہماری نازُک مزاجی کا تو یہ عالَم ہے کہ اگر ہمیں تمام تر سہولیات وآسائشات سے آراستہ وپیراستہ عالیشان بنگلے یاکوٹھی میں کچھ دنوں کے لئے تنہا قید کردیا جائے توگھبرا جائیں ۔    ؎

کہہ رہی ہے شاہوں سے قبر کی یہ تنہائی  

تاج وتخت کے مالک آج کیوں اکیلے ہیں   

دُ    نیا سے جانے والوں کو یاد کیجئے

       شیخِ طریقت امیرِ اہلسنّت  دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ  فرماتے ہیں :   ’’میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!  کبھی کبھی تنہائی میں دل کو ہر طرح کے دُنیاوی خَیالات سے پاک کرکے اپنے اُن دوستوں ، رشتے داروں کو یاد کیجئے جو وفات پاچکے ہیں ، اپنے قُرب وجَوار میں رہنے والے فوت شُدگان میں سے ایک ایک کو یاد کیجئے اور تصوُّر ہی تصوُّر میں ان کے چہرے سامنے لائیے اور خیال کیجئے کہ وہ کس طرح دنیا میں اپنے اپنے مَنْصَب وکام میں مشغول تھے، لمبی لمبی اُمّیدیں باندھے دُنیاوی تعلیم کے ذَرِیْعے مُستقبِل کی بہتری کیلئے کوشاں تھے اور ایسے کاموں کی تدبیر میں لگے تھے جوشایدسالہاسال تک مکمَّل نہ ہوسکیں ، دنیاوی کاروبار کیلئے وہ طرح طرح کی تکلیفیں اورمَشَقَّتیں برداشت کیا کرتے تھے ، وہ صِرف اِس دنیا ہی کیلئے کوشِشوں میں مَصروف تھے ، اِسی کی آسائشیں انہیں محبوب اور اِسی کا آرام انہیں مرغوب تھا۔وہ یوں زندگی گزاررہے تھے گویا انہیں کبھی مرنا ہی نہیں ، چُنانچِہ وہ موت سے غافِل ، خوشیوں میں بدمست اور کھیل تماشوں میں مگن تھے۔ان کیکَفَنبازار میں آچکے تھے لیکن وہ اس سے بے خبر دنیا کی رنگینیوں میں گُم تھے۔ آہ! اِسی بے خبری کے عالَم میں انہیں یکا یک موت نے آ لیااور وہ قبروں میں پہنچادئیے گئے ۔اُن کے ماں باپ غم سے نِڈھا ل ہو گئے ، اُن کی بَیوائیں بے حال ہوگئیں ، اُن کے بچّے بِلکتے رہ گئے، مستقبل کے حسین خوابوں کا آئینہ چکنا چور ہوگیا۔ اُمّیدیں مَلیامَیٹ ہوگئیں ، اُن کے کام اَدھورے رہ گئے ، دنیا کے لئے اُن کی سب محنتیں رائیگاں گئیں ۔وُرَثاء اُن کے امَوال تقسیم کرکے مزے سے کھا رہے ہیں اور اُن کو بھول چکے ہیں ۔

جب اس بَزْم سے اُٹھ گئے دوست اکثر     اور اٹھتے چلے جارہے ہیں برابر

یہ ہروقْت پیشِ نظر جب ہے منظر       یہاں پر تِرا دل بہلتا ہے کیونکر

جگہ جی لگانے کی دنیا نہیں ہے

یہ عبرت کی جا ہے تماشا نہیں ہے

صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب !      صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد (ویران محل ، ص۷۱)

ایک دن مرنا ہے آخر موت ہے

        میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! دن اور رات گویا دوسواریاں ہیں جن پر ہم باری باری سوار ہوتے ہیں ، یہ سواریاں مسلسل اپنا سفر جاری رکھے ہوئے ہیں اور ہمیں موت کی منزِل پر پہنچا کر ہی دَم لیں گی ، کیا کبھی آپ نے غور کیا کہ ہم دن کے گزرنے اور رات کے کٹنے پر بہت خوش ہوتے ہیں حالانکہ ہماری زندگی کا ایک دن یا ایک رات کم ہوجاتی ہے اور ہم موت کے مزید قریب ہوجاتے ہیں ، ہماری حیثیت تواُس بلب کی سی ہے جس کی ساری چکاچوند اور توانائی پلاسٹک کے ایک بٹن میں چھپی ہوتی ہے ، اُس بٹن پر پڑنے والا انگلی کا ہلکا سا دباؤ اس کی روشنیاں گُل کردیتا ہے ، اسی طرح موت کا وقت آنے پر ہمارا چاک چوبند جسم اتنا بے بس ہوجاتا ہے کہ ہم اپنی مرضی سے ہاتھ بھی نہیں ہِلاسکتے ، اگرچہ یہ طے ہے کہ ایک دن ہمیں بھی مرنا ہے مگر ہم نہیں جانتے کہ موت میں کتنا وقت باقی ہے ؟ کیا معلوم کہ آج کا دن ہماری زندگی کا آخری دن یا آنے والی رات ہماری زندگی کی آخری رات ہو! بلکہ ہمارے پاس تواس کی بھی ضمانت نہیں کہ ایک کے بعد دوسرا سانس لے سکیں گے یا نہیں ؟ کیونکہ سانس پھیپھڑوں میں جاتے اور باہر نکلتے وقت انسان کے اختیارمیں نہیں ہوتا اور نہ ہی اس پر اعتبار کیا جاسکتا ہے، عین ممکن ہے کہ جو سانس ہم لے رہے ہیں وہی آخری ہودوسرا سانس لینے کی نوبت ہی نہ آئے! کیاخبر یہ سطور پڑھنے کے دوران ہی ملک الموت علیہ السلام ہماری رُوح قبض فرمالیں ! آئے دن یہ خبریں ہمیں سُننے کو ملتی ہیں کہ فلاں اسلامی بھائی اچھے خاصے تھے ، بظاہرانہیں کوئی مرض بھی نہ تھا ، لیکن اچانک ہارٹ فیل ہوجانے کی وجہ سے چند منٹ کے اندراندر اُن کا انتقال ہوگیا ، یونہی کسی بھی لمحے ہمیں اس دُنیا سے رخصت ہونا پڑسکتا ہے کیونکہ جو رات قَبْرمیں گزرنی ہے وہ باہر نہیں گزر سکتی ۔

بوقتِ نَزع سلامت رہے مِرا ایماں

                     مجھے نصیب ہو کلمہ ہے التجا یارب    (وسائلِ بخشش ، ص۵۵)

موت کو یاد کرنے کا فائدہ

        حضرتِ سیدنا انس بن مالک رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ سرکارِ مدینہ ، راحتِ قلب وسینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی علیہ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشادفرمایا : ’’ جسے موت کی یاد خوفزدہ کرتی ہیقَبْر اس کے لئے جنت کا باغ بن جائے گی۔‘‘(جمع الجوامع، الحدیث ۶۱۵۳، ج۲، ص۴۱)

اپنی موت کو یاد کیجئے

         ذراتصوُّر کی نگاہ سے دیکھئے کہ میری موت کا وقت آن پہنچا ہے ، مجھ پر غشی طاری ہو چکی ہے، لوگ بے بسی کے عالَم میں مجھے موت کے منہ میں جاتا ہوا دیکھ رہے ہیں مگر کچھ کر نہیں سکتے، نزع کی سختیاں بھی شروع ہوگئیں مگر میں اپنی تکلیف کسی کو بتا نہیں سکتا کیونکہ ہر وقت چہکنے والی زبان اب خاموش ہوچکی ہے ، سخت پیاس محسوس ہو رہی ہے مگر کسی سے دو گھونٹ پانی نہیں مانگ سکتا، اِسی دوران کوئی مجھے تلقین کرنے(یعنی میرے سامنے کلمۂ پاک پڑھنے)لگا ، پھررفتہ رفتہ سامنے کے مناظر دُھندلے ہونے لگے، گلے سے خرخراہٹ کی آوازیں آنا شروع ہوگئیں اوربالآخر رُوح نے جسم کا

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن