30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
فرمان میں کفار اور گنہگار سب داخل ہیں ، کفار کو شرمندگی ہوگی کہ ہم مسلمان کیوں نہ بنے؟ گنہگاروں کو شرمندگی ہوگی، ہم نیکو کار پرہیزگار کیوں نہ بنے؟ گناہوں سے باز کیوں نہ آئے، مگر کفار کو اس وقت کی یہ ندامت کام نہ دے گی۔(مراٰۃ المناجیح، ج۷، ص۸۷۳)
ہم بھی تمہارے پیچھے آنے والے ہیں
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!اِس دُنیا میں روزانہ متعدِّد بچے پیدا ہوتے ہیں تو کچھ انسان یہاں سے رُخصت بھی ہوتے ہیں ، یوں آنا جانا لگا رہتا ہے، اس لئے یہ سمجھنا نادانی ہے کہ ہم ہمیشہ دوسروں کے جنازے ہی دیکھتے رہیں گے ، بھولئے مت! ایک دن وہ بھی آئے گا کہ ہمارا بھی جنازہ اٹھایا جائے گا ۔حضرتِ سیِّدنا ابوہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ جب کوئی جنازہ دیکھتے تو فرماتے : ’’چلو ہم بھی تمہارے پیچھے آنیوالے ہیں ۔‘‘ (البدایۃ والنہایۃ، سنۃ ستین من الہجرۃ، ج۸، ص۶۱۶) واقِعی آئے دن اُٹھنے والے جنازے ہمارے لئے خاموش مبلّغکی حیثیت رکھتے ہیں ۔ ؎
جنازہ آگے آگے کہہ رہا ہے اے جہاں والو
مِرے پیچھے چلے آؤ تمھارا رہنما میں ہوں
صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد
جُوں جُوں دن، مہینے اور سال گزرتے جارہے ہیں زندگی ہم سے دور اور موت قریب تَر ہوتی چلی جارہی ہے ، لہٰذااپنی سانسوں کو غنیمت جانئے اور گناہوں سے توبہ کرکے نیکیاں کمانے میں مصروف ہوجائیے، کتنے ہی لوگ ایسے ہیں جو آنے والے کل کے مُنْتَظِر ہوتے ہیں کہ ’’یہ کریں گے وہ کریں گے‘‘پھروہ ’’کل‘‘ تو آتا ہے مگر اس کا اِنتظار کرنے والے اپنی قَبْر میں اُتر چکے ہوتے ہیں ، جیسا کہ حضرتِ سیِّدنا منصور بن عمّار علیہ رحمۃ اللّٰہ الغفّار نے ایک نوجوان کو نصیحت کرتے ہوئے کہا : ’’ اے نوجوان! تجھے تیری جوانی دھوکے میں نہ ڈالے، کتنے ہی جوان ایسے تھے جنہوں نے توبہ میں تاخیر کی اور لمبی لمبی اُمیدیں باندھ لیں ، موت کو بھلا کر یہ کہتے رہے کہ کل توبہ کرلیں گے، پرسوں توبہ کرلیں گے یہاں تک کہ اسی غفلت کی حالت میں انہیں موت آگئی اور وہ اندھیری قَبْر میں جا سوئے، انہیں ان کے مال ، غلاموں ، اولاد اور ماں باپ نے کوئی فائدہ نہ دیا، فرمانِ الٰہی ہے :
یَوْمَ لَا یَنْفَعُ مَالٌ وَّ لَا بَنُوْنَۙ(۸۸) اِلَّا مَنْ اَتَى اللّٰهَ بِقَلْبٍ سَلِیْمٍؕ(۸۹)(پ ۱۹، الشعراء : ۸۹)
ترجمۂ کنزالایمان : جس دن نہ مال کام آئے گا نہ بیٹے مگر وہ جو اللّٰہ( عَزَّوَجَلَّ ) کے حضور حاضر ہوا سلامت دل لے کر۔
(مکاشفۃ القلوب، باب فی العشق، ص۴۳)
آہ ! ہر لمحہ گنہ کی کثرت و بھرمار ہے غلبۂ شیطان ہے ا ور نفسِ بد ا طوار ہے
زندگی کی شام ڈھلتی جا رہی ہے ہا ئے نفس ! گرم روز و شب گناہوں کاہی بس بازار ہے
(وسائلِ بخشش ، ص۴۷)
صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد
محترم نبی، مکّی مدنی، محبوبِ ربِّ غنی صَلَّی اللہُ تَعَالٰی علیہ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمان عِبرت نشان ہے : ’’قَبْر روزانہ پکار کر کہتی ہے کہ میں مسافرت کا گھر ہوں ، میں تنہائی کا گھر ہوں ، میں مٹی کا گھر ہوں اور میں کیڑوں کا گھر ہوں ۔‘‘ جب مؤمن بندہ دفنایاجاتا ہے توقَبْر کہتی ہے : ’’ مَرْحَبَا! تُو اپنے ہی گھر آیا !میری پیٹھ پر چلنے والوں میں سے تم مجھے زیادہ محبوب ہو، آج جب تم میرے حوالے کر دئیے گئے ہوتو تم عنقریب دیکھو گے میں تم سے کیا (اچھا) سلوک کرتی ہوں ۔‘‘چنانچہ قبراس کے لئے حدِ نگاہ تک کُشادہ ہوجاتی ہے اور اس کیلئے جنت کا دروازہ کھول دیا جاتا ہے۔مگر جب گنہگار یا کافر آدمی دفن کیا جاتا ہے توقَبْر کہتی ہے : ’’نہ تو تجھے مبارک ہواور نہ ہی یہ تیرا گھرہے۔میری پیٹھ پر چلنے والوں میں سے میرے نزدیک تو سب سے بُرا ہے، آج جب کہ تو میرے سپرد کیا گیا تو عنقریب تُودیکھے گا میں تیری کیسی خبر لیتی ہوں !‘‘یہ کہہ کر قَبْر اُسے اس طرح دباتی ہے کہ مُردے کی پسلیاں ایک دوسرے میں پَیوَست ہوجاتی ہیں ۔راوی کہتے ہیں : یہ بات فرماتے ہوئے رسولُ اللّٰہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی علیہ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اپنے ہاتھوں کی انگلیوں کو ایک دوسرے میں ڈالا، پھر فرمایا : ’’اس کیلئے ستراژدھے مُسَلَّط کردیئے جاتے ہیں کہ اگر ان میں سے ایک بھی زمین پر پھونک مار دے تو رہتی دنیا تک زمین سے کچھ نہ اُگے ، یہ اژدھے اُسے ڈَستے اور نوچتے رہیں گے یہاں تک کہ اسے حساب کے لئے لے جایا جائے۔ ‘‘ (جامع الترمذی، کتاب صفۃ القیامۃ، الحدیث۸۶۴۲، ج۴، ص۸۰۲)
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو !ہائے ہمارا کیا بنے گا! ہم تو اپنی قَبْر کو یکسر بھولے ہوئے ہیں ۔فَتْحُ الْبَارِی میں ہے : ’’ اِنَّ الْبَرْزَخَ مُقَدَّمَۃُ الْاٰخِرَۃ یعنی بے شک بَرزَخ آخرت کی پیش گوئی ہے ۔‘‘
(فتح الباری، کتاب الادب ، تحت الحدیث۶۰۵۵، ج۱۰، ۳۹۹)
آہ! ہماری غفلت کہ نزع کی سختیوں ، قبرکے اندھیروں ، اس میں موجود کیڑے مکوڑوں ، منکر نکیر کے سخت لہجے میں کئے جانے والے سوالوں ، بوسیدہ ہوجانے والی ہڈیوں ، عذابِ قبر کی شدتوں سے آگاہ ہونے کے باجود نیکیاں کمانے کی جستجو نہیں کرتے !
گو پیشِ نظر قبر کا پُر ہَول گڑھا ہے افسوس مگر پھر بھی یہ غفلت نہیں جاتی
اے رحمتِ کونین! کمینے پہ کرم ہو ہائے! نہیں جا تی بُری خصلت نہیں جاتی
(وسائلِ بخشش ، ص۵۳۱)
صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع