دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Qabar main Aanay wala Dost | قبر میں آنے والا دوست

book_icon
قبر میں آنے والا دوست

کیا؟‘‘ اس نے بھی کہا :   ’’ میرے سَرتا ج! آپ کے بغیر ہماری زندگی اَجِیرن ہوجائے گی ، جُدائی کا غم میرے دل کو گھائل کر رہا ہے، آپ کے بعد میرا کیا بنے گا؟‘‘ پھر اپنے روتے ہوئے بچو ں کو قریب بلایا اور پوچھا :    ’’میرے بچو! تمہیں کس چیز نے رُلایا ہے؟‘‘ بچے کہنے لگے :   ’’آپ کے وِصال کے بعد ہم یتیم ہوجائیں گے، ہمارے سر سے باپ کا سایہ اٹھ جائے گا، آپ کے بعد ہمارا کیا بنے گا؟‘‘ ان سب کی یہ باتیں سن کر وہ شخص کہنے لگا : ’’تم سب اپنی دنیا کے لئے ر ورہے ہو، تم میں سے ہر شخص میرے لئے نہیں بلکہ اپنا نفع ختم ہوجانے کے خوف سے رو رہا ہے، کیا تم میں سے کوئی ایسا بھی ہے جسے اس بات نے رُلایا ہو کہ مرنے کے بعد قبر میں میرا کیا حال ہوگا ، عنقریب مجھے وحشت ناک ، تنگ وتاریک قبر میں چھوڑ دیا جائے گا ، کیا تم میں سے کوئی اس بات پر بھی رویا کہ مجھے مرنے کے بعد مُنْکَرنَکِیْر (یعنی قبر میں سوالات کرنے والے فرشتوں )سے واسطہ پڑے گا!کیاتم میں سے کوئی اس خوف سے بھی رویا کہ مجھے میرے پرور دگار  عَزَّوَجَلَّ کے سامنے حساب وکتاب کے لئے کھڑا کیا جائے گا !آہ! تم میں سے کوئی بھی میری اُخروی پریشانیوں کی وجہ سے نہیں رویا بلکہ ہر ایک اپنی دنیا کی وجہ سے رو رہا ہے ۔‘‘اس گفتگو کے کچھ ہی دیر بعد اس کی رُوح قَفَسِ عُنْصَریسے پرواز کرگئی ۔

(عیون الحکایات ص۹۸ملخصًا)   

       میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!اس حکایت میں ہمارے لئے عبرت ہی عبرت ہے کہ وہ اہل وعیال جن کے عیش وآرام کے لئے ہم اپنی نیندیں قربان کردیتے ہیں ، جنہیں آسائشیں دینے کے لئے ہم بڑی خوشی سے مشقتیں برداشت کرتے ہیں ، جن کی راحتوں کے لئے ہم خود کو غموں کے حوالے کردیتے ہیں ، جونہی ہمارا سفرِ زندگی ختم ہوتا ہے انہیں ہماری نہیں اپنی فکر ستانے لگتی ہے کہ اِس کے جانے کے بعد ہمارا کیا بنے گا ؟ کاش وہ یہ بھی سوچتے کہ مرنے کے بعد اِس کا کیا بنے گا؟اور ہمارے لئے دعائے مغفرت وایصالِ ثواب کی کثرت کرتے ۔   ؎

جبکہ پَیکِ اَجَل روح لے جائیگا      جسمِ بے جاں تڑپ کر ٹَھہَر جائیگا

لَحد میں کوئی تیری نہیں آئے گا         تجھ کو دفنا کے ہر اِک پلٹ جائے گا

 (وسائلِ بخشش، ص۵۵۳)

عمل نے کام آنا ہے

       میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!دوسروں کی دُنیاروشن کرنے کے لئے اپنی قبر میں اندھیرا مت کیجئے، دَولت و مال اور اَہلِ وعِیال کیمَحَبَّت میں نیکیاں چھوڑئیے نہ گناہوں میں پڑئیے کہ ان سب کا ساتھ تو آنکھ بند ہوتے ہی چھوٹ جائے گا جبکہ نیکیاںاِنْ شَآءَاللہ  عَزَّوَجَلَّ   قَبْروآخِرت بلکہ دنیامیں بھی کام آئیں گی، مگرافسوس !کہ آج ہماری اکثریت کی توانائیاں صبح سے لے کر شام تک اپنی دُنیوی زندگی کو ہی بہتر سے بہتر اور مزیدار بنانے کی دوڑ دھوپ میں صرف ہورہی ہیں ، سامانِ آخرت کی فکر بہت کم دکھائی دیتی ہے ، یاد رکھئے !نیک اعمال کی قدر آج نہیں تو کل ضرور معلوم ہوجائے گی مگر اس وقت سوائے حسرت کے کچھ ہاتھ نہ آئے گا ، جیسا کہ

مُردے کی حسرت !

        دعوتِ اسلامی کے اِشاعتی اِدارے مکتبۃ المدینہ کے مطبوعہ32 صفحات پر مشتمل رسالے   ’’قبر کا امتحان ‘‘ کے صفحہ ر شیخِ طریقت امیرِ اہلسنّت حضرتِ علّامہ مولانا محمدالیاس عطّارؔ قادری دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ نقل کرتے ہیں : حضرت سیِّدُنا عطاء بن یساررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں : ’’جب میِّت کو قبرمیں رکھا جاتا ہے توسب سے پہلے اُسکا عمل آ کر اسکی بائیں ران کو حَرَکت دیتا اور کہتا ہے :  میں تیرا عمل ہوں ۔ وہ مُردہ پوچھتا ہے :   ’’میرے بال بچّے کہاں ہیں ؟  میری نعمتیں ، میری دَولتیں کہاں ہیں ؟‘‘ تو عمل کہتا ہے : ’’یہ سب تیرے پیچھے رَہ گئے اور میرے سوا تیری قبر میں کوئی نہیں آیا۔‘‘ وہ مُردہ حسرت سے کہتا ہے : ’’اے کاش! میں نے اپنے بال بچوں ، اپنی نعمتوں اور دولتوں کے مقابلے میں تجھے ترجیح دی ہوتی کیونکہ تیرے سوا میرے ساتھ کوئی نہیں آیا۔ ‘‘   (شرح الصدور، باب ضمۃ القبر لکل احد، ص۱۱۱، ۱۱۲)

گھپ اندھیری قبر میں جب جائے گا       بے عمل!بے انتِہا گھبرائے گا

    کام مال و زر وہاں نہ آئے گا             غافِل انساں یاد رکھ پچھتائے گا

 (وسائلِ بخشش ، ص۳۷۶)

صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب !               صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد   

نیک و بَد دونوں کو حسرت ہو گی

        محبوبِ ربِّ ذوالجلال ، صاحبِ جُودونَوال، پیکرِ حسن وجمال صَلَّی اللہُ تَعَالٰی علیہ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم   نے فرمایا :  جو بھی یہاں سے مر کر جاتا ہے نادِم ضرور ہوتا ہے۔ صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضوَان نے عرض کی :    ’’یارسولَ اللّٰہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی علیہ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم !نَدامت کس بات کی؟ فرمایا : اگر وہ نیک ہو تو نادِم ہوتا ہے کہ کاش کچھ اور نیکی کر لیتا اور اگر خطاکار ہو تو ندامت اور حسرت کرتا ہے کہ وہ (گناہوں سے) کیوں باز نہ آیا۔ (جامع الترمذی، کتاب الزہد، باب ما جاء فی ذہاب البصر، الحدیث۱۱۴۲، ج۴، ص۱۸۱)

             مُفَسِّرِشَہِیرحکیمُ الْاُمَّت حضر  ت ِ مفتی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الحَنّان    ’’مراٰۃُ المناجیح ‘‘جلد 7کے صفحہ 378پر اس حدیث کے تحت لکھتے ہیں :  لہٰذا ہر شخص کو چاہیے کہ موت سے پہلے زندگی کو ، بیماری سے پہلے تندرستی کو، مشغولیت سے پہلے فراغت کو غنیمت جانے جتنا موقع ملے(  نیکی)کر گزرے     ؎

اُترتے چاند ڈھلتی چاندنی جو ہوسکے کرلے     اندھیرا پاکھ آتا ہے یہ دو دن کی اُجالی ہے

اِس دنیا کا ایک ہی پھیرا مڑ نہیں آنا دُوجی وار        جو کرنا ہے کرلے یار! ہوجا سمجھدار

         حتیّٰ  کہ اگر کوئی شخص اپنی ساری زندگی سجدہ سجود میں گزار دے وہ یہ کہے گا کہ میری عمر اور زیادہ کیوں نہ ہوئی کہ میں سجدے سجود اور زیادہ کرلیتا اور آج اس سے بھی اونچا درجہ پاتا! اس

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن