دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Qabar main Aanay wala Dost | قبر میں آنے والا دوست

book_icon
قبر میں آنے والا دوست

(شعب الایمان ، الحدیث ۵۷۴۰۱، ج۷، ص۸۲۳)

         مُفَسِّرِشَہِیرحکیمُ الْاُمَّت حضرتِ مفتی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الحَنّان اس حدیث پاک کے تحت فرماتے ہیں :   ’’یعنی مرتے وقت اُس کے وارِثین توچھوڑے ہوئے مال کی فِکْر میں ہوتے ہیں کہ کیا چھوڑے جارہا ہے ؟اور جو ملائکہ(یعنی فِرشتے) اس کی قبضِ رُوح وغیرہ کے لیے آتے ہیں وہ اُس کے اَعمال و عقائد کا حساب لگاتے ہیں ۔‘‘ (مراٰۃ المناجیح ، ج۷، ص۸۴)

دولتِ  دنیا کے  پیچھے  تُو  نہ جا     آخِرت میں مال کا ہے کام کیا

دل سے دنیا کی  مَحَبَّت  دور کر     دل نبی  کے  عِشْق  سے  معمور کر

لندن  و پیرس کے سپنے چھوڑ دے

                   بس مدینے ہی سے رِشتہ جوڑ لے  (وسائلِ بخشش ، ص۵۷۳)

صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب !             صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد   

اہل وعیال کو اپنا سب کچھ سمجھنے والے

        ہم دُنیامیں تنہا آئے تھے اور تنہا ہی لَوٹ جائیں گے ، لیکن اس دنیا میں ہم تنہا نہیں رہتے بلکہ بہت سے افراد مثلاًماں باپ ، بہن بھائی ، بیوی بچے ، عزیز واقارب اور دوست اَحباب وغیرہ ہماری زندگی کا حصہ ہوتے ہیں ، وہ ہمارا اور ہم ان کا خیال رکھتے ہیں اور رکھنا بھی چاہئے کیونکہ شریعت نے بھی ان کے حُقُوق بیان کئے ہیں ۔ فطری طور پر ہمیں ان سے مَحَبَّت ہوتی ہے مگر اکثر لوگ اپنے اہل وعیال کی مَحَبَّت میں ایساگُم ہوجاتے ہیں کہ پھر انہیں قبر یاد رہتی ہے نہ میدانِ مَحشر ، جس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ مُؤَذِّن  نَماز کے لئے بُلا رہا ہوتا ہے مگر یہ گھر والوں سے خوش گپیوں میں ایسے مگن ہوتے ہیں کہ بھری مَحفِل چھوڑ کر مسجِد کا رُخ کرنے کو اِن کاجی نہیں چاہتا ، ان کے بچوں کا کسی کے بچوں سے جھگڑا ہوجائے تو اپنی اولادکا قُصُور ہونے کے باوجود معافی مانگنے کے بجائے تُوتکار بلکہ ماردھاڑ پر اُتر آتے ہیں ، شریعت عورت سے پردے کا تقاضا کرتی ہے مگر یہ اپنے شوہر کو راضی رکھنے کے لئے بے پردگی کا اِشتہار بن کررہ جاتی ہے ، اسی طرحبعض نادان اپنے گھر والوں کی فرمائشیں اور ضرورتیں پوری کرنے کے لئے مالِ حرام کا وَبال بھی اپنے سر لے لیتے ہیں جو کہ سَراسرخسارے کا سودا ہے ، چُنانچِہ

 اپنے آپ کو ہلاکت میں ڈالنے والا بدنصیب

        ہمارے پیارے آقا، تمام نبیوں کے سَرْوَر، دو جہاں کے تاجْوَرصَلَّی اللہُ تَعَالٰی علیہ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  نے ارشاد فرمایا :

   ’’ لوگوں پر ایک زمانہ ایسا آئے گا کہ مؤمن کو اپنا دین بچانے کے لئے ایک پہاڑ سے دوسرے پہاڑ اورایک غار سے دوسری غار کی طرف بھاگنا پڑے گاتواس وقت روزی اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی ناراضی ہی سے حا صل کی جائے گی پھرجب ایسا زمانہ آجائے گا تو آدمی اپنے بیوی بچوں کے ہاتھوں ہلاک ہوگا ، اگر اس کے بیوی بچے نہ ہوں تو وہ اپنے والدین کے ہاتھوں ہلاک ہوگا، اگر اس کے والدین نہ ہوئے تو وہ رشتہ داروں اور پڑوسیوں کے ہاتھوں ہلاک ہوگا۔‘‘ صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضوَان نے عرض کی :   ’’یا رسولَ اللّٰہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی علیہ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ! وہ کیسے ؟ ‘‘ فرمایا :   ’’ وہ اُسے مال کی کمی کا طعنہ دیں گے تو آدمی اپنے آپ کو ہلاکت میں ڈالنے والے کاموں میں مصروف کر دے گا۔‘‘( تو گویا انہیں کے ہاتھوں ہلاک ہوا)(التر غیب والترھیب ، کتاب الادب ، باب فی العزلۃ لمن لایا من ۔۔۔الخ رقم۶۱، ج۳، ص ۹۹۲)

        اپنے گھر والوں کو حرام کما کر کھلانے والوں کو سنبھل جانا چاہئے کہ میدانِ محشرمیں کہ جہاں ایک ایک نیکی کی سخت حاجت ہوگی ، یہی   ’’اپنے‘‘ اس سے کیا سُلوک کریں گے؟ یہ جاننے کے لئے نیچے دی گئی روایت بار بار پڑھئے، چُنانچہ

 قیامت کے دن اہل و عیال کا دعوٰی

        مَروی ہے کہ مرد سے تعلُّق رکھنے والوں میں پہلے اس کی زوجہ اور اس کی اولاد ہے، مگریہ سب (یعنی بیوی ، بچے قیامت میں )اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ  کی بارگاہ میں عرض کریں گے : ’’اے ہمارے رب  عَزَّوَجَلَّ !ہمیں اِس شخص سے ہمارا حق لے کر دے، کیونکہ اِس نے کبھی ہمیں دینی اُمور نہیں سِکھائے اور یہ ہمیں حرام کھلاتاتھاجس کا ہمیں علم نہیں تھا۔‘‘ چنانچہ اُس شخص سے اُن کا بدلہ لیا جائے گا۔ ‘‘ایک اورروایت میں ہے کہ   ’’بندے کو مِیزان کے پاس لایاجائے گا، فِرِشتے پہاڑ کے برابر اس کی نیکیاں لائیں گے تو اس سے ا س کے عَیال کی خبر گیری اور خدمت کے بارے میں سوال ہوگا اور مال کے بارے میں پوچھا جائے گا کہ کہاں سے حاصل کیا ؟اور کہا ں خرچ کیا ؟حتی کہ اُس کے تمام اعمال اُن کے مطالبات میں خرچ ہو جائیں گے اور اس کے لئے کوئی نیکی باقی نہیں رہے گی ، اُس وقت فرشتے آواز دیں گے : ’’ یہ وہ شخص ہے جس کی نیکیاں اس کے اہل و عَیال لے گئے اور وہ اپنے اعمال کے ساتھ گِروی ہے۔‘‘

(قوت القلوب، باب ذکر التزویج الخ، ج۲ ص۸۷۴، ۹۷۴)

ہماری بگڑی ہوئی عادتیں نکل جائیں      ملے گناہوں کے امراض سے شِفا یا رب

رہیں بھلائی کی راہوں میں گامزن ہر دم      کریں نہ رُخ مرے پاؤں گناہ کا یارب

 (وسائلِ بخشش ، ص۶۵)

صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب !         صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

 کیوں روتے ہو؟

        ایک شخص شدید بیمار تھا ، ایسا لگتاتھا کہ دنیا میں کچھ ہی دیر کا مہمان ہے۔اس کے بچے، زوجہ اورماں باپ اِرد گرد کھڑے آنسو بہارہے تھے ۔اس نے اپنے والد سے پوچھا : ’’ ابا جان! آپ کو کس چیز نے رُلایا ؟‘‘ کہنے لگے :    ’’میرے جِگر کے ٹکڑے! جدائی کا غم رُلا رہا ہے، تمہارے مرنے کے بعد ہمارا کیا بنے گا ؟‘‘ اس شخص نے اپنی والدہ سے پوچھا :   ’’پیاری امّی جان!آپ کیوں رو رہی ہیں ؟‘‘ ماں نے جواب دیا :    ’’ میرے لال! دنیا سے تیری رُخصتی کا سوچ کر رو رہی ہوں ، میں تیرے بغیر کیسے رہ پاؤں گی؟‘‘ پھراپنی بیوی سے پوچھا :    ’’تمہیں کس چیز نے رونے پر مجبور

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن