30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
مرکزی مجلسِ شوریٰ ‘‘کے رُکن مُفْتِی ٔ دعوتِ اِسلامی الحاج اَلحافِظ اَلقاری حضرتِ علّامہ مولانا مفتی محمد فاروق العطاری المدنی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِالْغَنِی کے بارے میں میراحُسنِ ظن ہے کہ وہ دعوتِ اسلامی کے مخلِص مبلِّغ اور اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ سے ڈرنے والے بزرگ تھے اورگویا اس حدیث ِ پاک کے مصداق تھے : ’’ کُنْ فِی الدُّنْیَا کَاَنَّکَ غَرِیْبٌیعنی دنیا میں اس طرح رہو کہ گویا تم مسافر ہو ۔‘‘(صحیح البخاری ج۴ ص۲۲۳ حدیث۶۴۱۶) ۱۸محرم الحرام۱۴۲۷ھ بمطابق 17-2-2006 بروز جُمُعَہ نَمازِ جمعہ کی ادائیگی کے بعداپنی قِیام گاہ (واقِع گلشنِ اقبال، بابُ المدینہ کراچی )میں اچانک حَرَکتِ قلب بند ہونے کے سبب بَعُمر تقریباً 30 برس جوانی کے عالم میں انتقال فرماگئے تھے ۔آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ کو صحرائے مدینہ ، باب المدینہ کراچی میں دفن کیا گیا ۔ وِصال شریف کے تقریباً3سال 7مہینے 10دن بعدیعنی 25رجب المرجَّب ۱۴۳۰ھ بمطابق 18-7-2009 ہفتہ اور اتوار کی درمیانی رات باب المدینہ کراچی میں کئی گھنٹے تک موسلادھار برسات ہوئی جس کی وجہ سے مفتیِٔ دعوتِ اسلامی حافظ محمد فاروق عطاریعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِالْباریکی قَبْر درمیان سے کُھل گئی ۔ جو اسلامی بھائی صحرائے مدینہ میں حفاظتی اُمورپرمُتَعَیَّنہیں اُنہوں نے صبح کے وقت دیکھا کہ قبر سے سبز رنگ کی روشنی نکل رہی ہے ۔عارضی طور پرقَبْر دُرُست کرنے والے اسلامی بھائیوں کا حلفیہ ( یعنی قسم کھا کر) کچھ یوں بیان ہے کہ ہم نے دیکھا کہ تدفین کے تقریبًا ساڑھے تین سال بعد بھی مفتیِ دعوتِ اسلامیقُدِّسَ سِرُّہُ السَّامی کی مبارَک لاش اور کفن اِس طرح سلامت تھے کہ گویا ابھی ابھی انتقال ہوا ہو ، تکفین کے وقت سر پر رکھا جانے والا سبز سبز عمامہ شریف آپ کے سرِمبارک پر اپنے جلوے لٹا رہا تھا ، عمامے شریف کی سیدھی جانب کان کے نزدیک آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ کی زُلفوں کا کچھ حصہ اپنی بہاریں دکھا رہا تھا، پیشانی نُورانی تھی اور چہرہ مبارک بھی قبلہ رُخ تھا ۔ مفتیِ دعوتِ اسلامی کی قَبْر مبارک سے خوشبوکی ایسی لَپٹیں آرہی تھیں کہ ہمارے مشامِ جاں مُعَطَّر ہوگئے ۔قَبْر میں بارش کا پانی اترجانے کی وجہ سے یہ امکان تھا کہ قَبْر مزید دھنس جائے اورسلیں مرحوم کے وجُودِ مسعود کو صدمہ پہنچا ئیں لہٰذا اس واقعے کے تقریباً دس روز بعد یعنی شبِ بدھ ۶ شعبانُ المعظم ۱۴۳۰ھ ( 28-7-2009) بَشُمُول مفتیان کرام و عُلَمائے عِظام ہزارہا اسلامی بھائیوں کاکثیر مجمع ہوا، غلامزادہ ابو اُسَید حاجی عُبَیدرضا ابنِ عطارؔمدنی سلَّمہُ اللّٰہ الغنی پہلے سے موجود شگاف کے ذریعے قَبْر کے اندر اترے تاکہ یہ اندازہ لگائیں کہ آیا منتقلی کیلئے جسمِ مبارَک باہَر نکالنے کی حاجت ہے یا اندر رہتے ہوئے بھی قَبْر شریف کی تعمیرِ نو ممکن ہے۔ انہوں نے اندر کا جائزہ لیا اور اندر ہی سے دعوتِ اسلامی کے دارالافتاء اہلسنّت کے مفتی صاحِب کو صورتِ حال بیان کی انہوں نے بدن مبارَک باہَرنہ نکالنے کا حکم فرمایا ، غلامزادہ حاجی عُبید رضا کومُووی کیمرہ دیاگیا چنانچہ پُرانی قَبْر کے اندرونی ماحول اور اوپر سے مِّٹی وغیرہ گرنے کے باوُجُود اَلْحَمْدُ للّٰہ عَزَّوَجَلَّ انہوں نے عمامہ شریف، پیشانی مبارک اور زُلفوں کے بعض حصّے کی کامیاب مووی بنالی جو کہ کچھ ہی دیر بعد ’’ ’’ صحرائے مدینہ‘‘ میں لگائی گئی مختلف اسکرینوں پر ہزاروں اسلامی بھائیوں کو دکھا دی گئی، اُس وقت لوگوں کے جذبات دِیدَنی تھے، یہ روح پرور منظر دیکھ کر بے شُمار اسلامی بھائی اشکبار ہوگئے۔اس کے بعدآنے والی رات یعنی بدھ اور جمعرات کی درمیانی شب ۷شعبانُ المعظَّم۱۴۳۰ھ (29-7-2009) کو دعوت اسلامی کے مَدَنی چینل پر براہِ راست ’’خُصوصی مَدَنی مُکالَمہ ‘‘ نشر کیا گیا جس میں دنیا کے مختلف مُمالِک کے لاکھوں ناظِرین کو کیمرے کے اندر محفوظ کردہ قَبْر کا اندرونی منظر اور مفتیٔ دعوت اسلامی قُدِّسَ سِرُّہُ السّامی کی تقریباً ساڑھے تین سال پُرانی صحیح سلامت لاش مبارک کے عمامہ شریف، پیشانی مبارک اور گیسو مبارک کے کچھ بالوں کی زیارت کروائی گئی ۔ چونکہ یہ خبر ہر طرف جنگل کی آگ کی طرح پھیل چکی تھی لہٰذا مختلف شہروں کے جدا جدا عَلاقوں کے اسلامی بھائیوں کے بیانات کالُبِّ لُباب ہے کہ خُصوصی مدنی مکالمے کے دوران کئی گلیاں اور بازار اس طرح سُونے ہو گئے تھے جس طرح مسلمانوں کے علاقوں میں رَمَضانُ الْمبارَک میں اِفطار کے وقت ہوتے ہیں اور. T.Vپر گھر گھر سے ’’ ’’ خُصوصی مدنی مکالمے‘‘ کی آواز سنائی دے رہی تھی ۔ ہوٹلوں ، نائی کی دکانوں وغیرہ میں جہاں جہاں T.V. سیٹ موجود تھے وہاں عوام ہُجوم درہُجوم جمع ہو کر مَدَنی چینل پر مفتیٔ دعوتِ اسلامی قدّس سرہ السّامی کی مَدَنی بہاروں کے نظّارے کر رہے تھے۔ ایک اطِّلاع کے مطابق مدنی چینل پر ’’ ’’ خُصوصی مدنی مُکالمہ‘‘ سُن کر اور مفتیٔ دعوتِ اسلامیقُدِّسَ سِرُّہُ السّامی کی تقریبًا ساڑھے تین سال پُرانی مبارک لاش کی رُوح پرور جھلکیاں دیکھ کر ایک غیر مسلم مشرَّف بہ اسلام ہو گیا۔ اَلْحَمْدُللّٰہ عَزَّوَجَلَّ دعوتِ اسلامی کے اِشاعتی ادارے مکتبۃ المدینہ نے اِس سلسلے میں شبِ براء ت ۱۴۳۰ھ کے مبارَک موقع پرایک تاریخی V.C.Dبنام ’’ ’’ مفتیٔ دعوتِ اسلامی کی جب قَبْر کھلی‘‘ جاری کر دی چند ہی روز میں بہت بڑی تعداد میں V.C.Ds فروخت ہوگئیں ۔
جَبِیں مَیلی نہیں ہوتی دَہَن مَیلا نہیں ہوتا
غلامانِ محمد کا کفن مَیلا نہیں ہوتا
اللّٰہ ربُّ الْعِزَّت عَزَّوَجَلَّ کی ان پر رحمت ہو اور ان کے صدقے ہماری مغفرت ہو ،
اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم
صَلُّوْ ا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللّٰہُ تعالٰی عَلٰی محمَّد
قبر میں میِّت کے سا تھ تبرکات رکھئے
جب کسی اسلامی بھائی یا اسلامی بہن کا انتقال ہو جائے تو تدفین کے وقت کچھ نہ کچھ تبرکات میِّت کے ساتھ رکھ دیجئے، اِنْ شَآءَاللہ عَزَّوَجَلَّ یہ عمل میِّت کے لئے سکون و اطمینان اور نکیرین کے سوالات کے جواب دینے میں مددگار ثابت ہو گا۔
حضرت سیِّدنا امیر معاویہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی وصیَّت
حضرتِ سیِّدناامیر معاویہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے اپنے اِنتقال کے وقت وصیت فرمائی : ’’ ایک دن حضور اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی علیہ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم حاجت کے لئے تشریف لے گئے ۔ میں لوٹا لے کر ہمراہ رکاب سعادت مآب ہُوا۔ حضورپُرنورصَلَّی اللہُ تَعَالٰی علیہ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اپنا پہنا ہوا ایک کُرتا مجھے بطورِانعام عطافرمایا، وہ کُرتا میں نے آج کے لئے سنبھال رکھا تھا۔ اور ایک روز حضورِ انورصَلَّی اللہُ تَعَالٰی علیہ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ناخن و مُوئے مبارک تراشے، وہ میں نے لے کر اس دن کے لئے سنبھال رکھے تھے، جب میں مرجاؤں تو قمیص سراپا تقدیس کو میرے کفن میں رکھنااورموئے
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع