دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Qabar main Aanay wala Dost | قبر میں آنے والا دوست

book_icon
قبر میں آنے والا دوست

نے اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ  سے دعا کی تھی کہ جس طرح میں دنیا میں علم میں مصروف ہوں اسی طرح آخرت میں بھی مصروف رہوں ۔لہٰذایہاں پر بھی مجھے یہی مصروفیت نصیب ہوئی ہے ۔(شرح الصدور ص۰۹۱)

(۴)شیخین کے دیوانے کی نجات

        شیخِ طریقت امیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ اپنے رسالے ’’ ’’مردے کے صدمے‘‘  صفحہ 38پر لکھتے ہیں :   ’’ ایک شخص کوانتِقال کے بعد خواب میں دیکھ کر پوچھا گیا :   ما فَعَلَ اللّٰہُ بِکَیعنی اللّٰہ  عَزَّوَجَلَّ نے آپ کے ساتھ کیا مُعامَلہ فرمایا؟ جواب دیا :  اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ   نے میری مغفرت فرما دی۔ پوچھا : مُنکَر نکیر کے ساتھ کیسی گزری ؟ جواب دیا : اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ   کے کرم سے میں نے اُن سے عرض کی، حضرات ابوبکر صِدّیق و عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا کے وسیلے سے مجھے چھوڑ دیجئے۔ تو ان میں سے ایک نے دوسرے سے کہا :  اِس نے بَہُت ہی بُزُرگ ہستیوں کا وسیلہ پیش کیا ہے لھٰذا اس کو چھوڑ دو ۔ چُنانچِہ وہ مجھے چھوڑ کر تشریف لے گئے۔                   (مُلَخَّصاً مِنْ شَرْح الصُّدُور، باب فتنۃ القبر  الخ،  ص۱۴۱)

 (۵) اولیاء کے نام لیوا کی نجات

ایک نیک شخص جو حضرتِ سیِّدُنا ابویزید  عَلَیْہِ رَحمَۃُالمجیدکے دیوا نے اور آپ کے غاشیہ بردار یعنی فرماں بردار خادِم تھے، اُن کی وفات ہو گئی ، تدفین کے بعد قَبْر شریف کے پاس موجودبعض افراد نے سُنا وہ مُنکَر نکیر سے کہہ رہے تھے :  ’’ مجھ سے کیوں سُوالات کرتے ہو میں تو ابویزید کے غاشیہ برداروں میں سے ہوں ۔‘‘ چُنانچِہ مُنکر نکیر انہیں چھوڑ کر تشریف لے گئے ۔

  (مُلَخَّصاً مِنْ شَرْح الصُّدُور، باب فتنۃ القبر  الخ،  ص۱۴۲)

        دعوت اسلامی کے سنتوں کی تربیّت کے لئے مَدَنی قافِلوں میں سفر اور روزا نہ  فکرِ مدینہ کے ذریعے مَدَنی انعامات کا رسالہ پُر کر کے ہر ماہ اپنے یہاں کے ذَیلی نگران کو جمع کروانے کا معمول بنا لیجئے۔اِنْ شَآءَاللہ  عَزَّوَجَلَّ  اِس کی برکت سے ایمان کی حفاظت اورسنّتوں پر عمل کا ذہن بنے گا نیز عذابِ قبر سے نَجات کا سامان ہو گا۔(مُردے کے صدمے ، ص۹۳)

(۶) بے شک مجھے دوجنتیں عطا کی گئیں

        امیرُالمؤمنینحضرتِ سیدنا عمر فاروق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے زمانہ ٔمبارک میں ایک نوجوان بہت متقی و پرہیز گار وعبادت گزار تھا ۔حضرت عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ بھی اس کی عبادت پر تعجب کیا کرتے تھے ۔وہ نوجوان نمازِ عشاء مسجد میں ادا کرنے کے بعداپنے بوڑھے باپ کی خدمت کرنے کے لئے جایا کرتا تھا ۔ راستے میں ایک خوبرو عورت اسے اپنی طرف بلاتی اور چھیڑتی تھی، لیکن یہ نوجوان اس پر توجہ دئیے بغیر نگاہیں جھکائے جایا کرتا تھا ۔ آخر کار ایک دن وہ نوجوان شیطان کے ورغلانے اور اس عورت کی دعوت پر برائی کے ارادے سے اس کی جانب بڑھا، لیکن جب دروازے پر پہنچا تو اسے اللّٰہ  تَعَالٰی کا یہ فرمانِ عالیشان یاد آ گیا :

اِنَّ الَّذِیْنَ اتَّقَوْا اِذَا مَسَّهُمْ طٰٓىٕفٌ مِّنَ الشَّیْطٰنِ تَذَكَّرُوْا فَاِذَاهُمْ مُّبْصِرُوْنَۚ(۲۰۱) (پ۹، الاعراف ۱۰۲)

ترجمۂ کنزالایمان : بے شک وہ جو ڈر والے ہیں جب انہیں کسی شیطانی خیال کی ٹھیس لگتی ہے ہوشیارہوجاتے ہیں اسی وقت ان کی آنکھیں کھل جاتی ہیں ۔

        اس آیتِ پاک کے یاد آتے ہی اس کے دل پر اللّٰہ  تَعَالٰی کا خوف اس قدر غالب ہوا کہ وہ بے ہوش ہو کر زمین پر گر گیا ۔جب یہ بہت دیر تک گھر نہ پہنچا تو اس کا بوڑھا باپ اسے تلاش کرتا ہوا وہاں پہنچا اور لوگوں کی مدد سے اسے اٹھوا کر گھر لے آیا۔ہوش آنے پر باپ نے تمام واقعہ دریافت کیا ، نوجوان نے پورا واقعہ بیان کر کے جب اس آیت ِ پاک کا ذکر کیا تو ایک مرتبہ پھر اس پر اللّٰہ تَعَالٰی کا شدید خوف غالب ہوا ، اس نے ایک زور دار چیخ ماری اور اس کا دم نکل گیا۔راتوں رات ہی اس کے غسل و کفن ودفن کا انتظام کر دیاگیا ۔صبح جب یہ واقعہ حضرتِ سیدنا عمرفاروق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی خدمت میں پیش کیا گیا تو آپ اس کے باپ کے پاس تعزیت کے لئے تشریف لے گئے۔آپ نے اس سے فرمایا کہ   ’’ہمیں رات کو ہی اطلاع کیوں نہیں دی ، ہم بھی جنازے میں شریک ہو جاتے ؟‘‘اس نے عرض کی ،   ’’امیر المومنین! آپ کے آرام کا خیال کرتے ہوئے مناسب معلوم نہ ہوا۔‘‘آپ نے فرمایا کہ   ’’مجھے اس کی قَبْر پر لے چلو۔‘‘وہاں پہنچ کر آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے یہ آیتِ مبارکہ پڑھی :   

وَ لِمَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهٖ جَنَّتٰنِۚ(۴۶) (پ۷۲، الرحمن : ۶۴)

ترجمۂ کنزالایمان : اور جو اپنے رب کے حضور کھڑے ہونے سے ڈرے اس کے لئے دو جنتیں ہیں ۔

        تو قَبْر میں سے اس نوجوان نے بلند آواز کے ساتھ پکار کر کہا :   ’’یا امیر َالمومنین!بیشک میرے رب  عَزَّوَجَلَّ نے مجھے دو جنتیں عطا فرمائی ہیں ۔‘‘(شرح الصدورص۲۱۳)

(۷)درجات میں فرق

            ایک بُزرگ فرماتے ہیں کہ میں نے خدا  تَعَالٰی سے دعا کی کہ وہ مجھے اہلِ قبور کے مقامات دکھادے۔ ایک روز کیا دیکھتا ہوں کہ قبریں پھٹ گئیں ۔ اب ان میں سے کچھ مردے تو   ’’ریشم‘‘ پر سورہے ہیں اور کچھ   ’’دیباج‘‘ پر، کچھ   ’’پھولوں کی سیج ‘‘پر اور کچھ ’’ ’’ تختوں ‘‘ پر، کچھ ہنس رہے ہیں تو کچھ رو رہے ہیں ۔ یہ دیکھ کر میں نے عرض کی :  یااللّٰہ عَزَّوَجَلَّ  اگر تو چاہتا تو ان سب کو ایک ہی مقام عطا فرمادیتا! تو قَبْر والوں ہی میں سے کسی نے پکارا کہ اے فلاں ! یہ قبریں اعمال کی منازل ہیں ، جو   ’’سندس نشین‘‘ ہیں وہ خوش خلق تھے، جو   ’’حریر و دیباج نشین‘‘ ہیں وہ شہداء ہیں ، جو   ’’پھولوں کی سیج‘‘پر سونے والے ہیں وہ روزہ دار ہیں اور   ’’تخت والے‘‘  اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ  کے لئے آپس میں مَحَبَّت کرنے والے ہیں ، جبکہ رونے والے گنہگار اور ہنسنے والے توبہ شعار ہیں ۔(شرح الصدور، ص۱۸۷)   

(۸)مفتیِٔ دعوتِ اسلامی کی جب قبر کُھلی

        شیخِ طریقت، امیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ اپنی کتاب ’’ ’’غیبت کی تباہ کاریاں ‘‘   صفحہ466پر لکھتے ہیں :  تبلیغِ قرآن وسنّت کی عالمگیر غیر سیاسی تحریک ، دعوتِ اسلامی کی ’’ ’’

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن