30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
درگزر فرما الہٰی بہرِ شاہِ بحروبَر (وسائلِ بخشش ، ص۷۴۳)
لذت پر نہیں ہلاکت پر نظر رکھئے
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!آج گناہوں میں لذت ضرور محسوس ہوتی ہے مگر ان کی ہلاکت خیزیاں ہمیں اُس جہان میں بھگتنی ہوں گی جہاں سے واپسی کی کوئی صورت نہیں ہے !ان گناہوں کو چھوڑنا کڑوی گولی کی مثل سہی مگرصحت کا خواہشمند دوا کی کڑواہٹ کی پرواہ نہیں کرتا بلکہ شفا کو اپنا مقصود جانتا ہے ۔اس بات کو ایک حکایت سے سمجھنے کی کوشش کیجئے، چُنانچِہ
ایک شخص جسے دال بڑی پسند تھی اور وہ کسی دوسرے کھانے حتی کہ گوشت کو بھی خاطر میں نہ لاتا تھا ۔ اس کا دوست اسے مرغی کھانے کی دعوت دیتا لیکن وہ یہ کہہ کر اس دعوت کو ٹھکرا دیتا کہ اس دال میں جو لذت ہے کسی اور کھانے میں کہاں ؟ آخر کار ایک دن جب اس کے دوست نے اسے مرغی کھانے کی دعوت دی تو اس نے سوچا کہ آج مرغی بھی کھا کر دیکھ لیتے ہیں کہ اس کا ذائقہ کیسا ہے اور مرغی کھانے لگا ۔جب اس نے پہلا لقمہ منہ میں رکھا تو اسے اتنی لذت محسوس ہوئی کہ اپنی من پسند دال کو بھول گیا اور کہنے لگا : ’’ہٹاؤ اس دال کو ، اب میں مرغی ہی کھایا کروں گا ۔‘‘ بلاتشبیہ جب تک کوئی شخص محض گناہوں کی لذت میں مبتلا اور نیکیوں کے سکون سے ناآشنا ہوتا ہے ، اسے یہ گناہ ہی رونق ِ زندگی محسوس ہوتے ہیں لیکن جب اسے نیکیوں کا نور حاصل ہوجاتا ہے تو وہ گناہوں کی لذت کو بھول جاتا ہے اور نیکیوں کے ذریعے سکون ِ قلب کا متلاشی ہوجاتا ہے ۔
نیکیوں میں یارسولَ اللّٰہ دل لگ جائے کاش! اورگناہوں سے مجھے ہوجائے نفرت یارسول
لمحہ لمحہ بڑھ رہی ہیں ہائے! نافرمانیاں اورگناہوں کی نہیں جاتی ہے عادت یارسول
(وسائلِ بخشش ، ص۷۷)
تُوْبُوْا اِلَی اللّٰہِ(یعنیاللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی بارگاہ میں توبہ کرو)
اَسْتَغْفِرُ اللّٰہَ (میں اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی بارگاہ میں توبہ کرتا ہوں ۔)
صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد
قبرکو جنت کا باغ بنانے والے اعمال
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! یہ دُنیا دارُالْعَمَل(یعنی عمل کرنے کی جگہ)اور آخرت دارُ الْجَزَاء (یعنی بدلہ ملنے کی جگہ)ہے ، جوہم یہاں بوئیں گے وہی آخرت میں کاٹیں گے ، گندم بَو کر چاول کی فصل حاصل کرنے کی چاہت کودیوانے کا خواب ہی کہا جاسکتا ہے ۔ اس لئے سمجھداری کا تقاضا یہی ہے کہ جو آپ کاٹنا چاہتے ہیں اُسی کا بیج بوئیے۔ لہٰذاجنت میں جانے کے لئے جنت میں لے جانے والے اعمال کرنے ہوں گے ، وہ جنت جہاں ایک انتہائی خوب صورت جہان آباد ہے، جس میں موت کا آزار نہیں ، بیماریاں اور قرض داریاں نہیں ، جس میں بڑھاپے کی کمزوری نہیں ، غریبی ، ناداری، معذوری اور مجبوری نہیں بلکہ یہ وہ مقام ہے جہاں زندگی کی ساری رعنائیاں جمع کر دی گئی ہیں ۔حسین حُوریں ، مزیدار کھانے اور پھل ایسے کہ لوگ تصور نہیں کر سکتے، بستر اور لباس ایسے عمدہ کہ آج بادشاہوں کو نصیب نہیں ، کمرے اور محل ایسے شاندار کہ دُنیا کے بڑے بڑے محلات ان کے سامنے چھوٹے دکھائی دیں ۔ پھر یہ سب کچھ ہمیشہ کے لئے ملے گا ، اس میں کمی کا اندیشہ ہے نہ چِھن جانے کا کھٹکا، لیکن نیکیاں کمانے کے لئے کچھ تو محنت کرنی پڑے گی، انسان روزگار میں بھی تو مشقت اٹھاتا ہے کہ اس کے نتیجے میں روزی ملتی ہے۔آج ہم مال کو بہت اہم سمجھتے ہیں مگر یاد رکھئے کہ بالفرض ہماری قَبْر سونے سے بھر دی جائے، ہمارا سارا سرمایہ اس میں منتقل کردیا جائے تو بھی ہمیں راحت کا ایک لمحہ نہیں دلوا سکتا، یہ زمین یہ پلاٹ بھی ہمارے کسی کام نہ آئیں گے ، ہم سمجھتے ہیں کہ یہ زمین ہماری ہے؟ نہیں ! بلکہ ہم اس کے ہیں کہ ایک دن اسی میں سَماجائیں گے ۔اولادو احباب اوررشتہ دار صرف خاک میں لٹانا جانتے ہیں ، پھر صرف اعمال ہی ہمارے رفیقِ قبر ہوں گے ۔ دنیا والوں کی اَشک باریاں اوراُداسیاں برزَخ میں ہمارے کیا کام آئیں گی ، سوگواروں کی کثرت کیا فائدہ دے گی ! کبھی آپ نے سوچا؟اے کاش! فکرِ آخرت ہم پر ایسی غالب ہوجائے کہ جب تاریکی دیکھیں تو قَبْر کا اندھیرا یاد آجائے ، کوئی تکلیف پہنچے تو قبروحشر کی پریشانیاں سامنے آجائیں ، سونے لگیں توموت اور قَبْر میں لیٹنا یاد آجائے ، اے کاش! ہمارا دل نیکیوں میں ایسا لگ جائے کہ گناہ کے خیال سے بھی دُور بھاگیں ! آئیے ! قَبْر کو رونق بخشنے اور اسے آرام دہ بنانے والے چند اعمال کے بارے میں جانتے ہیں : چُنانچِہ
(1تا5) نماز ، روزہ ، حج اورزکوٰۃ وغیرہ
حضرتِ سیِّدُنا کعب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے مروی ہے کہ جب نیک آدمی کو قَبْر میں رکھا جاتا ہے تو اس کے اعمالِ صالحہ، نماز، روزہ، حج، جہاد اور صدقہ وغیرہ اس کے پاس جمع ہوجاتے ہیں ، جب عذاب کے فرشتے اس کے پیروں کی طرف سے آتے ہیں تو نَماز کہتی ہے : اس سے دور رہو، تمہارا یہاں کوئی کام نہیں ، یہ ان پیروں پر کھڑا ہوکر اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی عبادت کیاکرتا تھا۔ پھر وہ فرشتے سر کی طرف سے آتے ہیں تو روزہ کہتا ہے : تمہارے لئے اس طرف کوئی راہ نہیں ہے کیونکہ دنیا میں اللّٰہ تَعَالٰی کی خوشنودی کے لئے اس نے بہت روزے رکھے اور طویل بھوک پیاس برداشت کی،
فرشتے اس کے جسم کے دوسرے حصوں کی طرف سے آتے ہیں تو حج اور جہاد کہتے ہیں کہ ہٹ جاؤ، اس نے اپنے جسم کوتکلیف میں ڈال کر اللّٰہ تَعَالٰی کی رضا کے لئے حج اور جہاد کیا تھا لہٰذا تمہارے لئے یہاں کوئی جگہ نہیں ہے ۔ پھر وہ ہاتھوں کی طرف سے آتے ہیں تو صدقہ کہتا ہے : میرے دوست سے ہٹ جاؤ، ان ہاتھوں سے کتنے صدقات نکلے ہیں جو محض اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی رضاکے لئے دیئے گئے اور ان ہاتھوں سے نکل کر وہ بارگاہِ الٰہی میں مقبولیت کے درجے پر فائز ہوئے لہٰذا یہاں تمہارا کوئی کام نہیں ہے۔ پھر اس میت کو کہا جاتا ہے کہ تیری زندگی اور موت دونوں بہترین ہیں اور رحمت کے فرشتے اس کی قَبْر میں جنت کا فرش بچھاتے ہیں ، اس کے لئے جنتی لباس لاتے ہیں ، حدِ نگاہ تک اس کی قَبْر کو فراخ کردیا جاتا ہے اور جنت کی ایک قندیل اس کی قَبْر میں روشن کردی جاتی ہے جس سے وہ قیامت کے دن تک روشنی حاصل کرتا رہے گا۔(مکاشفۃ القلوب، باب فی بیان القبر وسؤالہ، ص۱۷۱)
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع