30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
یہ دونوں قَبْر والے عذاب دیئے جارہے ہیں اور کسی بڑی چیز میں (جس سے بچنا دشوار ہو) عذاب نہیں دیئے جارہے بلکہ ایک تو پیشاب کے چھینٹوں سے نہیں بچتا تھا اور دوسرا چُغل خوری کیا کرتا تھا پھر آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی علیہ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے کھجور کی تازہ ٹہنی منگوائی اوراسے آدھوں آدھ چِیرا اور ہر ایک کیقَبْر پر ایک ایک حصّہ گاڑ دیا اور فرمایا : جب تک یہ خشک نہ ہوں تب تک ان دونوں کے عذاب میں تَخفِیف ہوگی۔ ( سُنَنُ النَّسَائی ص۳۱ حدیث ۱۳صَحِیحُ البُخارِیّ ج۱ص۵۹حدیث۶۱۲)
حضرت سیِّدناعمر وبن دینار عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْغَفَّار کہتے ہیں کہ مدینہ طیبہ میں ایک شخص رہتا تھا جس کی بہن مدینہ کے نواح میں رہتی تھی۔ وہ بیمار ہوئی تو یہ شخص اس کی تیمارداری میں لگارہا مگر وہ اسی مرض میں انتقال کر گئی۔ اس شخص نے اپنی بہن کی تجہیز و تکفین کا انتظام کیا، جب دفن کرکے واپس آیا تو اُسے یاد آیا کہ وہ رقمکی ایک تھیلی قَبْرمیں بھول آیا ہے۔اس نے اپنے ایک دوست سے مدد طلب کی دونوں نے جاکر اس کی قَبْر کھود کر تھیلی نکال لی۔ تو اس نے دوست سے کہا : ’’ذرا ہٹنا میں دیکھوں تو سہی میری بہن کس حال میں ہے؟‘‘ اس نے لحد میں جھانک کردیکھا تو وہاں آگ بھڑک رہی تھی، وہ چپ چاپ واپس چلا آیا اور ماں سے پوچھا : ’’ کیا میری بہن میں کوئی خراب عادت تھی؟‘‘ ماں نے کہا : تیری بہن کی عادت تھی کہ وہ ہمسایوں کے دروازوں سے کان لگا کر ان کی باتیں سنتی تھی اور چغل خوری کیا کرتی تھی ۔‘‘ (مکاشفۃ القلوب، ص۱۷)
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! لوگوں میں فساد کروانے کے لئے اُن کی باتیں ایک دوسرے تک پہنچانا چغلی ہے ۔(شرح مسلم للنووی ج۱، ص۳۱۱)
چغل خور محبتوں کا چور ہے، آج ہمارے معاشرے میں محبتوں کی فضا آلودہ ہونے کا ایک بڑا سبب چغل خوری بھی ہے ، لوگوں کے درمیان چغلیاں کھا کر فساد برپا کرکے اپنا کلیجے میں ٹھنڈک محسوس کرنے والے کو کل جہنم کی بھڑکتی ہوئی آگ میں جلنا پڑے گا ، اگر کبھی زندگی میں یہ گناہ ہوا ہوتو توبہ کرکے یہ نیت کرلیجئے کہ ہم چغلی کھائیں گے نہ سُنیں گے ، اِنْ شَآءَاللہ عَزَّوَجَلَّ ۔
سنوں نہ فُحش کلامی نہ غیبت وچغلی
تری پسندکی باتیں فَقَط سنا یارب (وسائلِ بخشش ، ص۴۵)
صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد
حضرتِ سیِّدُناابی بکرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں کہ میں نبیِّ کریم، رء وفٌ رَّحیمعلیہ اَفْضَلُ الصَّلٰوۃِوَ التَّسلیمکے ساتھ چل رہا تھا اور آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی علیہ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے میرا ہاتھ تھاما ہوا تھا۔ ایک آدَمی آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی علیہ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے بائیں طرف تھا۔ اسی دوران ہم نے اپنے سامنے دو قبریں پائیں تو نُبُوَّت کے آفتاب ، جنابِ رسالت مآب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی علیہ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا : ’’ان دونوں کو عذاب ہو رہا ہے اور کسی بڑے اَمر کی وجہ سے نہیں ہو رہا، تم میں سے کون ہے جو مجھے ایک ٹہنی لا دے۔‘‘ ہم نے ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی کوشش کی تو میں سبقت لے گیا اور ایک ٹہنی(یعنی شاخ) لے کر حاضرِ خدمت ہو گیا۔ آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی علیہ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اس کے دو ٹکڑے کردیئے اوردونوں قبروں پر ایک ایک ٹکڑارکھ دیا پھر ارشاد فرمایا : ’’یہ جب تک تَر (یعنی سبزوتروتازہ )رہیں گے ان پر عذاب میں کمی رہے گی اور ان دونوں کو غیبت اور پیشاب کی وجہ سے عذاب ہو رہا ہے۔‘‘(مُسند اِمام احمد ج۷ص۴۰۳ حدیث۵۹۳۰۲)
صدرُ الشَّریعہ، بدرُ الطَّریقہ حضرتِ علّامہ مولیٰنامفتی محمد امجد علی اعظمی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِینے غیبت کی تعریف اس طرح بیان کی ہے : ’’ کسی شخص کے پوشیدہ عیب کو اس کی برائی کرنے کے طور پر ذکر کرنا۔‘‘(بہارِ شریعت حصّہ ۶۱ ص ۵۷۱)
شیخِ طریقت امیرِ اہلسنّت حضرت علّامہ مولانا محمد الیاس عطّارؔ قادری مَدَّظِلُّہُ الْعَالِی لکھتے ہیں : ماں باپ ، بھائی بہن، میاں بیوی، ساس بَہو ، سُسَر داماد، نَند بھاوَج بلکہ اہلِ خانہ و خاندان نیز استاد و شاگرد، سیٹھ و نوکر ، تاجِر و گاہگ، افسرو مزدور ، مالدار و نادار، حاکم و محکوم ، دنیا دار ودیندار، بوڑھا ہو یا جوان اَلْغَرَضتمام دینی اور دُنیوی شُعبوں سے تعلُّق رکھنے والے مسلمانوں کی بھاری اکثریّت اِس وقت غیبت کی خوفناک آفت کی لپیٹ میں ہے، افسوس !صد کروڑ افسوس!بے جا بک بک کی عادت کے سبب آج کل ہماری کوئی مجلس (بیٹھک) عُمُوماًغیبت سے خالی نہیں ہوتی۔
غیبت وچُغلی کی آفت سے بچیں یہ کرم یامصطَفٰے فرمایئے
ظاہر و باطن ہمارا ایک ہو یہ کرم یامصطَفٰے فرمایئے
صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد تُوبُوا اِلَی اللّٰہ!اَسْتَغْفِرُاللّٰہ (غیبت کی تباہ کاریاں ، ص۵۲)
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!غیبت کے بارے میں مزید معلومات اور اس سے بچنے کا ذہن بنانے کے لئے امیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کی کتاب ’’غیبت کی تباہ کاریاں ‘‘ کا ضرور مطالعہ کیجئے ، غیبت کے خلاف اعلانِ جنگ بھی کیجئے کہ ’’غیبت کریں گے نہ سُنیں گے ، اِنْ شَآءَاللہ عَزَّوَجَلَّ ۔‘‘
دعوت اسلامی کے اشاعتی ادارے ’’مکتبۃ المدینہ‘‘ کی مطبوعہ 853 صفحات پر مشتمل کتاب ’’جہنم میں لے جانے والے اعمال ‘‘ جلد اوّل کے صفحہ 444 پر ہے : ’’بے نمازی کو قبر میں دی جانے والی سزائیں یہ ہیں (۱) اس کی قبر کو اتنا تنگ کر دیا جائے گا کہ اس کی پسلیاں ایک دوسرے میں پیوست ہو جائیں گی (۲)اس کی قبر میں آگ بھڑکا دی جائے گی پھر وہ دن رات انگاروں پر
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع