دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Qabar ka Imtihan | قبرکا امتحان

Qabar Ka Holnaak Manzar

book_icon
قبرکا امتحان

قبْر کا ھولناک منظر

  میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! ہمیں بھی ایک دن مرنا اور اندھیری قبر میں اُترنا پڑیگا ،  ہاں !ہاں !ہم اپنے دفْن کرنے والوں کو دیکھ اور سُن رہے ہونگے،  جب وہ مِٹّی ڈال رہے ہونگے یہ دردناک منظر بھی نظر آرہا ہوگا،  لیکن بول کچھ نہیں سکیں گے، دفْن کرنے کے بعد ہمارے ناز اٹھانے والے رخصت ہورہے ہوں گے ، قبر میں انکے قدموں کی چاپ سنائی دے رہی ہوگی،  دل ڈوبا جا رہا ہوگا،  اتنے میں اپنے لمبے لمبے دانتوں سے قبر کی دیواروں کو چیرتے ہوئے خوفناک شکلوں والے کالے کالے مَہِیب بالوں کو لٹکائے دوفِرِشتے منکَر نکیرقَبر میں آموجود ہونگے،  انکی آنکھوں سے شعلے نکل رہے ہونگے اور وہ سختی کیساتھ بٹھائیں گے اور کَرَخْت ( یعنی سخت)  لہجے میں سُوالات کریں گے ، دنیا کی رنگینیوں میں گم صِرْف دُنیوی امتحان ہی کی فکر کرنے والوں ،  فلمیں ڈِرامے دیکھنے والوں ،  گانے باجے سننے والوں ،  داڑھی منڈانے والوں ، داڑھی کو ایک مٹھّی سے گھٹانے والوں ،  حرام روزی کمانے والوں سُود اور رِشوت کا لین دین کرنے والوں ،  اپنے عُہدے اور مَنصب سے ناجائز فائدہ اٹھاکر مظلوموں کی آہیں لینے والوں ،  جھوٹ بولنے والوں ،  غیبت اورچُغَل خوری کرنے والوں ،  ماں باپ کا دل دُکھانے والو ں ،  اپنی اولاد کو شریعت و سنّت کے مطابِق تربیّت نہ دلانے والوں ،  مذہبی رنگ نہ چڑھ جائے اِس بُری نیّت سے اپنی اَولاد کوسُنّتوں بھرے مَدَنی ماحول اور دعوتِ اسلامی کے اجتِماعات سے رَو کنے والوں ،  اپنی اَولاد کو داڑھی مبارک سجانے سے روکنے والوں ،  بے پردَگی کرنے والیوں اورکُھلے بال لے کر گلیوں اور بازاروں میں گھومنے والیوں ،  میک اَپ کرکے شاپنگ سینٹروں اوررشتے داروں کے گھروں پر بے پر دہ جانے والیو ں اور دِلیری کے ساتھ طرح طرح کے گناہوں میں رَچے بسے رہنے والوں سے اگر اللہ عَزَّ وَجَلَّ ناراض ہوگیا اوراس کے پیارے محبوب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ روٹھ گئے اور گناہوں کے سبب مَعَاذَاللہ عَزَّ وَجَلَّ ایمان برباد ہوگیا تو کیابنے گا؟    بڑے سخت لہجے میں سُوالات ہو رہے ہیں :  مَنْ رَّبُّکَ؟      ’’یعنی تیرا رب کون ہے ؟    ‘‘  آہ! رب عَزَّ وَجَلَّ کو کب یاد کیاتھا!جواب نہیں بن پڑ رہا جوا یمان برباد کر بیٹھا اُس کی زَبان سے نکل رہا ہے:  ھَیْھَاتَ ھَیْھَاتَ لَااَدْرِی ’’یعنی افسوس !  افسوس! مجھے کچھ نہیں معلوم ۔   ‘‘ پھر پوچھا جائیگا: مَادِیْنُک  ’’ یعنی تیرا دین کیا ہے ؟    ‘‘  قَبْر میں مُردہ سوچ رہا ہے کہ میں نے تو آج تک دُنیا ہی بسائی تھی،  قبر کے امتِحان کی تیّاری کی طرف کبھی ذِہن ہی نہیں گیا تھا، بس صرف دنیا کی رنگینیوں ہی میں کھویا ہوا تھا، مجھے قَبْرکے امتِحان کا کہاں پتا تھا! کچھ سمجھ نہیں آرہی اور زَبان سے نکل رہا ہے :  ھَیْھَاتَ ھَیْھَاتَ لَا اَدْرِی ’’یعنی افسوس !افسوس! مجھے کچھ نہیں معلوم ۔    ‘‘  پھر ایک حسین و جمیل نور برساتاجلوہ دِکھایا جائے گا اور سُوال ہوگا :  مَا کُنْتَ تَقُوْلُ فِیْ ھٰذَا الرَّجُل ’’یعنی ان کے بارے میں تو کیا کہتا تھا؟    ‘‘  پہچان کیسے ہوگی!  داڑھی سے تو اُنْسِیَّت تھی ہی نہیں ، غیرمسلموں کا طریقہ عزیز تھا،  داڑھی مُنڈانے کا معمول رہا،  یہ تو داڑھی شریف والی شخصیَّت ہے،  بچّے نے زُلفیں رکھی تھیں تو اُس کو مار مار کرکٹوانے پر مجبور کیا تھا، یہ بزُرگ تو زُلفوں والے ہیں ، کی چین (KEY CHAIN) میں فلم ایکٹریس کا فوٹو رکھا تھا، اپنی سُوزوکی کے پیچھے بھی فلم ایکٹریس کا فوٹو لگا کر دوسروں کو بدنگاہی کی دعوتِ عام دے رکھی تھی،  گھر میں بھی ایکٹریس کی تصاویر آویزاں کر رکھی تھیں ،  مجھے تو فنکاروں اور گُلوکاروں کی پہچان تھی معلوم نہیں یہ کون صاحِب ہیں ؟     آہ! جس کاخاتمہ ایمان پر نہیں ہُوا اُس کے منہ سے نکلے گا:  ھَیْھَاتَ ھَیْھَاتَ لَااَدْرِی  ’’یعنی افسوس !افسوس!  مجھے کچھ نہیں معلوم۔    ‘‘ اتنے میں جنّت کی کِھڑکی کُھلے گی اور فوراً بند ہوجائیگی پھرجہنّم کی کھِڑکی کُھلے گی اور کہا جائیگا:  اگرتُونے دُرُست جواب دیے ہوتے تو تیرے لئے وہ جنّت کی کھِڑکی تھی۔     یہ سن کراُسے حسرت بالائے حسرت ہوگی، کفن کو آ گ کے کفن سے تبدیل کردیا جائیگا، آگ کا بچھونا قبر میں بچھایا جائیگا، سانپ اور بچھّو لپٹ جائیں گے۔    
آج مچھّر کا بھی ڈنک آہ! سہا جاتا نہیں 
قبر میں بچھّو کے ڈنک کیسے سہے گا بھائی؟     

جلوۂ جا ناں صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ

نَمازیوں ،  رَمَضان کے روزے رکھنے والوں ، حج ادا کرنے والوں ،  پوری زکوٰۃ نکالنے والوں ،  فلموں ڈِراموں سے دور بھاگنے والوں ،  وعدہ خِلافی،  بد اَخلاقی، بدنگاہی ،  جھوٹ ،  غیبت، چُغلی اوربے پردگیوں سے بچنے والوں ،  اللہ کی رِضا کیلئے میٹھے بول بولنے والوں ،  دعوتِ اسلامی  کے مُبَلِّغوں ،  سنّتوں پر عمل کرکے دوسروں کو سنتیں  سکھانے والوں ، فیضانِ سنّت کا درس دینے اور سننے والوں ، نیکی کی دعوت کی دُھو میں مچانے والو ں ،  دعوتِ اسلامی کے سنّتوں کی تربیّت کے مَدَنی قافِلوں میں سفر کرنے والوں ،  اپنے چہرے کو ایک مُٹھّی داڑھی سے آراستہ کرنے والوں ،  اپنے سر پرعِمامہ شریف کا تاج سجانے والوں ،  سنّتوں بھرا لباس پہننے والوں کو مُبارَک ہوکہ جب مومِن قبر میں جائیگا او ر اُس سے سُوال ہوگا: مَنْ رَّبُّکَ؟   ’’یعنی تیرا رب کون ہے ؟    ‘‘وہ کہے گا: رَبِّیَ اﷲ  ’’یعنی میرا رب اللہ عَزَّ وَجَلَّ ہے۔   ‘‘  مَادِیْنُکَ؟     ’’یعنی تیرا دین کیا ہے ؟   ‘‘ زَبان سے نکلے گا: دِیْنِیَ الْاِسْلَام  ’’یعنی میرا دین اسلام ہے‘‘   (اَلۡحَمۡدُ لِلّٰہ عَزَّ وَجَلَّ اِسی اسلام کی مَحَبَّت میں تو دعوتِ اسلامی کے  مَدَنی قافِلے میں سفر کیاکرتا تھا ۔   اسی اسلام کی مَحَبَّت میں تو میں مُعاشَرے کے طعنے سہتا تھا،  سنّتوں پر عمل کرتا دیکھ کر لوگ مذاق اڑاتے تھے ،  مگر میں ہنسی خوشی برداشت کیا کرتا تھا،  اسی دینِ اسلام کی خاطِر میری زندَگی وَقْف تھی)  پھر کسی کارَحمت بھرا جلوہ دکھایا جائے گا،  توخوش نصیب نَمازیوں ،  روزہ داروں ، حاجیوں ،  فرض ہونے کی صورت میں پوری زکوٰۃ ادا کرنے والوں ،  سنّتوں پر عمل کرنے والوں ،  نیکی کی دعوت کی دھومیں مچانے والوں اورمَدَنی قافلوں میں سنّتوں بھرا سفر کرنے والوں کا دل خوشی سے جھوم اُٹھے گا۔   کیونکہ دُنیا ہی میں بقولِ مفتی احمدیار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الحَنّان عُشّاق کی یہ کیفیت ہوتی ہے:       ؎  
روح  نہ کیوں ہومُضْطَرِب موت کے انتِظار میں سنتا ہوں مجھ کو دیکھنے آئیں گے وہ مزار میں 
 اور اس حسرت کو بھی زندگی بھرپروان چڑ ھایا تھاکہ :     ؎ 
قبر میں سرکار آئیں تو میں قدموں پر گروں    گر فِرشتے بھی اٹھائیں تومیں اُن سے یوں کہوں 
اب توپائے نازسے میں اے فِرشتوکیوں اُٹھوں مر کے پہنچا ہوں یہاں اِس دلرُبا کے واسطے
        تو جب سرکارِ نامدار، مدینے کے تاجدار ، ہم غریبوں کے غمگسار ، بے کسوں کے مدد گار ،  شَہَنْشاہِ والا تَبار ، صاحِبِ پسینۂ خوشبو دار ، شفیعِ رو زِ شمار جناب احمدِ مختار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے بارے میں پوچھا جائے گا: مَا کُنْتَ تَقُوْلُ فِیْ ھٰذَا الرَّجُل؟    ’’اِس مَرد کے بارے  میں تُو کیا کہتا تھا‘‘ ؟    تو زَبان سے بے ساختہ جاری ہوگا: ہُوَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ، ’’یعنی یہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے رسول صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ہیں ‘‘ ،  (یہی تو میرے وہ آقا صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  ہیں ،  جن کا ذکرِ خیر سن کر میں جھومتا تھا اور نامِ نامی اسمِ گرامی سن کر عقیدت سے انگوٹھے چومتا تھا،  یہ تومیرے وُہی میٹھے میٹھے آقامحَمَّدٌرَّسولُ اللّٰہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  ہیں کہ جن کی یا د میرے لئے سرمایۂ حیات تھی، یہی تو میرے پیارے پیارے آقا صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ہیں کہ جن کا ذِکر میرے دل کاسُرور اور میری آنکھوں کانور تھا)      ؎ 
تمہاری یاد کو کیسے نہ زندَگی سمجھوں یِہی تو ایک سہارا ہے زندَگی کیلئے
مِرے تو آپ ہی سب کچھ ہیں رَحمتِ عالم میں جی رہا ہوں زمانے میں آپ ہی کیلئے
     اور جب سرکا ر صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ جلوہ دکھا کرتشریف لے جانے لگیں گے تو  اِنْ شَآءَاللہ عَزَّ وَجَلَّ قدموں سے لپٹ کر عرض ہوگی: یارسولَ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ     ؎ 
دل بھی پیاسا نظر بھی ہے پیاسی کیا ہے ایسی بھی جانے کی جلدی
ٹھہرو! ٹھہرو! ذرا جانِ عالم! ہم نے جی بھر کے دیکھا نہیں ہے
    اے کا ش !ہمیشہ کیلئے ہماری قبر ہمارے میٹھے میٹھے آقا صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ اپنے جلووں سے بسادیں ۔   بقولِ مولیٰنا حسنؔ رضا خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن پھر تو…   ؎
کیوں کریں بزمِ شبستانِ جِناں کی خواہش
جلوئہ یار جو شمعِ شبِ تنہائی ہو
آخِری سُوال کاجواب دینے کے بعد جہنّم کی کِھڑکی کُھلے گی اور معاً (یعنی فوراً )  بند ہوجائے گی اور جنّت کی کِھڑکی کُھلے گی اور کہا جائیگا:  اگرتُو نے دُرُست جوا بات نہ د ئیے ہوتے تو تیرے لئے وہ دوزخ کی کِھڑکی تھی ۔    یہ سن کراُسے خوشی بالائے خوشی ہوگی، اب جنّتی کفن ہوگا ، جنّتی بچھونا ہوگا، قبر تاحدِّنظر وَسیع ہوگی اور مزے ہی مزے ہونگے ۔       ؎
قبر میں لہرائیں گے تا حشر چشمے نور کے
جلوہ فرما ہوگی جب طلعت رسولُ اللّٰہ  کی
 (حدائق بخشش شریف)  
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

جہنّم کے درواز ے پر نام

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی بارگاہ میں جھٹ پٹ اپنے گُناہوں سے تو بہ کرلیجئے۔    سرکارِ مدینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا فرمانِ عبرت نشان ہے:   ’’جو کوئی جان بوجھ کر ایک نَمازبھی ترک کر دیتا ہے اس کانام جہنَّم کے اس دروازے پر لکھ دیاجائے گا جس سے وہ جہنَّم میں داخل ہوگا۔   ‘‘   (حِلْیَۃُ الْاولیاء ج۷ ص۲۹۹ حدیث۱۰۵۹۰) نمازوں کی پابندی کیجئے بہارِ شریعت جلداوّل صفحہ434 پر ہے:  ’’غیّ جہنَّم میں ایک وادی ہے ، جس کی گرمی اور گہرائی سب سے زیادہ ہے،  اس میں ایک کوآں ہے،  جس کا نام ’’ہبہب‘‘  ہے،  جب جہنَّم کی آگ بجھنے پر آتی ہے،  اللہ عَزَّ وَجَلَّ اس کوئیں کو کھول دیتا ہے ، جس سے و ہ بدستور بھڑکنے لگتی ہے۔    یہ کوآں بے نمازیوں اور زانیوں اور شرابیوں اور سود خواروں اور ماں باپ کو اِیذا دینے والوں کے لیے ہے۔   ‘‘ رَمضانُ المبارَک کے روزوں کا اہتمام کیجئے،  حدیثِ پاک میں ارشاد فرمایا :  ’’جو ماہ رَمَضان کا ایک روزہ بِلا عُذْرِ شَرْعی ومَرَض قَضا کردیتا ہے توزمانے بھر کے روزے اس کی قَضا نہیں ہوسکتے اگرچِہ بعد میں رکھ بھی لے۔   ‘‘   ( تِرمِذی ج۲ ص۱۷۵ حدیث ۷۳۳) میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! پچھلی نَمازیں یا روزے اگرباقی ہیں تو ان کاحساب کر لیجئے،  قَضا عُمری کرلیجئے اور جان بوجھ کر کی ہوئی تاخیر کے گناہ کی توبہ بھی کرلیجئے ۔    فلمیں ڈِرامے دیکھنے اور بد نگاہی کرنے والوں کو ڈرجانا چاہئے کہ مکاشَفۃُ القُلُوب میں ہے :   ’’ جو اپنی آنکھوں کو حرام سے پُر کرے گا اس کی آنکھوں میں قِیامت کے روز اللہ تَعَالٰی آگ بھردے گا۔   ‘‘  (مُکاشَفۃُ الْقُلوب ص۱۰)  ماں باپ کو ستانے والوں کیلئے دردناک عذاب کی وعید ہے چُنانچِہ حدیث شریف میں آتا ہے: مِعراج کی رات، سرورِ کائنات ، شاہِ موجودات   صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ایک منظر یہ بھی دیکھا کہ کچھ لوگ آگ کی شاخوں سے لٹکے ہوئے تھے ۔     عرض کی گئی :  ’’ یہ ماں باپ کو گالیاں بکتے تھے۔   ‘‘   (الکبائِرص۴۸) داڑھی مُنڈانے والوں یا ایک مُٹّھی سے گھٹانے والوں کیلئے مقامِ غور ہے کہ حدیثِ پاک میں آتا ہے:  ’’ مونچھوں کوخوب پست کروداڑھیوں کومُعافی دو  (یعنی بڑھنے دو)  اور یَہودِیوں جیسی صورت مت بناؤ۔    ‘‘  (شرح معانی الآثار ج۴ ص۲۸ حدیث۶۴۲۲، ۶۴۲۴)  
سرکار کا عاشِق بھی کیا داڑھی مُنڈاتا ہے؟   
کیوں عشق کا چہرے سے اظہار نہیں ہوتا؟   

کالے بِچّھو

پاکستان کے مشہور شہرکوئٹہ کے کسی قریبی گاؤں میں ایک لاوارِث کلین شیو  نوجوان مرا پایا گیا ، لوگوں نے مل کر اُس کو دفنا دیا ۔   اتنے میں مرحوم کے عزیز آپہنچے اورکہنے لگے کہ ہم اِس کی لاش کو نکال کر لے جائیں گے اور اپنے گاؤں میں دَفنا ئیں گے ۔   لہٰذا قبر دوبارہ کھودی گئی،  جب چہرے کی طرف سے سِل ہٹائی گئی تو لوگوں کی چیخیں نکل گئیں !کفن چِہرے سے ہٹا ہوا تھا اورکلین شیو نوجوان کے چِہرے پر کالے کالے بچھوؤں کی کالی کالی داڑھی بنی ہوئی تھی لوگوں نے گھبرا کر جلدی جلدی سِل رکھی مِٹّی ڈالی اور بھاگ گئے ۔    
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!ہم سب کو اللہ تَعَالٰی بچّھوؤں سے بچائے۔    آمین! جلدی جلدی پیار ے پیارے اور شہد سے بھی میٹھے آقا صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی سنّت چِہرے پر سجالیجئے اور جو اب تک مُنڈاتے یا خَشخَشی کرواتے رہے ہیں وہ اِس گناہ سے توبہ بھی کرلیں ۔   یاد رکھیئے !داڑھی منڈانا بھی حرام ہے اور ایک مٹھی سے گھٹانا بھی حرام۔    

گیسو رکھنا سنّت ہے

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!میرے مکّی مَدَنی آقا میٹھے میٹھے مصطَفٰے صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی مبارَک زُلفیں کبھی نصف  (یعنی آدھے) کان مبارَک تک تو کبھی کان مبارَک کی لَو تک اور بعض اوقات بڑھ جاتیں تو مبارَک شانوں یعنی کندھوں کوجھوم جھوم کر چومنے لگتیں۔      (الشمائل المحمدیۃ للترمذی ص۳۴، ۳۵، ۱۸)    ( ہاں حج و عمرہ کے احرام شریف سے باہَر ہونے کیلئے حَلق فرمایا یعنی بال مبارک مُنڈوائے ہیں )  انگلش بال رکھنا سنّت نہیں ،  گیسو  (زلفیں )  سنّت ہیں ۔   برائے کرم! اپنے سر پر سنّت کے مطابِق گیسو سجالیجئے ۔     نیز میٹھے میٹھے آقا صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی میٹھی میٹھی سنّت عمامہ شریف کا تاج بھی سرپر سجالیجئے ۔    

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن