30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
نہ چھیڑو ذکر جنت اب مدینہ یاد آیا ہے
نہ چھیڑو ذِکرِ جنت اب مدینہ یاد آیا ہے
نبی کا سبز گنبد دِل کی آنکھوں میں سمایا ہے
مِلا کرتی ہیں منہ مانگی مرادیں تیرے روضے پر
غلاموں نے ترے دَر سے جو مانگا ہے وہ پایا ہے
نظر آتا ہے اُونچا آسمانوں سے ترا گنبد
بلند عرشِ معظم سے تری تربت کا پایا ہے
نہ ہوتا تو اگر تو اِین و آں کچھ بھی نہیں ہوتا
ترے باعث یہ سارا باغِ عالم لہلہایا ہے
خدا کی سلطنت کے تم ہو دولہا ی َارَسُوْلَ اللّٰہ
تمہارے واسطے رب نے یہ سب عالم سجایا ہے
شبِ اَسرا مبارکباد تھی یہ حور و غلماں میں
محمد کو خدائے پاک نے دُولہا بنایا ہے
تو ہے آئینۂ وَحدت کوئی کب مثل ہے تیرا
تو ہے سایہ خدا کا دوجہاں پر تیرا سایہ ہے
نمازوں میں اَذاں میں کلمہ میں اور عرش پر ہر جا
خدا نے نام تیرا نام سے اپنے ملایا ہے
علومِ اَولین و آخریں سے بھر دیا سینہ
خدا نے تجھ کو ہر اِک بات کا عالم بنایا ہے
زمیں کو چیرتے دوڑے ہوئے آئے ہیں خدمت میں
درختوں نے اِشارہ آپ کا جس وقت پایا ہے
اِجابت نے لیا بوسہ تمہارے پیارے ہونٹوں کا
دُعا کے واسطے جس وقت لب تم نے ہلایا ہے
یہ ممکن ہی نہیں بیڑی نہ کاٹو تم غلاموں کی
کہ جب قیدی ہرن کو قید سے تم نے چھڑایا ہے
تمہاری ذات پر کیونکر بھروسہ ہو نہ عالم کو
گنہگاروں کو تم نے نارِ دوزخ سے بچایا ہے
کوئی پرسانِ حال اپنا نہیں ہے ی َارَسُوْلَ اللّٰہ
جو اپنا ہے تو تو ہے اور باقی سب پرایا ہے
ثنائے مصطفیٰ وہ بھی رِوایاتِ صحیحہ سے
جمیلؔ قادری کیا خوب تیرے پاس مایہ ہے
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع