دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Pur asrar Khazana | پُراَسرار خزانہ

book_icon
پُراَسرار خزانہ

کھانا مکروہ ہے ٭مٹی کے برتن میں کھانا اَفضل ہے کہ جو اپنے گھر میں مٹی کے برتن بنواتا ہے فرشتے اُس گھر کی زِیارت کرنے آتے ہیں۔  ( ایضاًص۵۶۶)  ٭دسترخوان پر سبزی ہو تو فرشتے نازِل ہوتے ہیں۔ (اِحیاءُ العلوم ج۲ص۲۲) ٭ شروع کرنے سے قبل یہ دُعا پڑھ لی جائے،  اگر کھانے یا پینے میں زہر بھی ہوگا تو اِنْ شَآءَاللہ عَزَّ وَجَلَّ اَثر نہیں کرے گا۔دُعا یہ ہے:  بِسْمِ اللہِ الَّذِیْ لَا یَضُرُّ مَعَ اسْمِہٖ شَیْیٌٔ فِی الْاَرْضِ وَ لَا فیِ السَّمَاءِ یَا حَیُّی یَا قَیُّوْم۔ ([1])  ۔ترجمہ : اللہ تَعَالٰیکے نام سے شروع کرتا ہوں جس کے نام کی برکت سے زَمین وآسمان کی کوئی چیز نقصان نہیں پہنچا سکتی،  اے ہمیشہ زندہ وقائم رہنے والے۔ (اَلفِردَوس ج۱ص۲۸۲حدیث۱۱۰۶) ٭اگر شروع میں بِسمِ اللہ پڑھنا بھول گئے تو دَورانِ طَعام یا دآنے پر اس طرح کہہ لیجئے :   بِسمِ اللہِِ اَوَّلَہٗ وَاٰخِرَہٗ۔ ترجمہ: ’’اللہ عَزَّوَجَلَّ کے نام سے کھانے کی ابتدا اور انتہا ‘‘٭اوّل آخر نمک یا نمکین کھایئے کہ اِس سے70 بیماریاں دُور ہوتی ہیں ۔  (رَدُّالْمُحتَارج۹ص۵۶۲)  ٭سیدھے ہاتھ سے کھایئے، اُلٹے ہاتھ سے کھانا، پینا،  لینا،  دینا،  شیطان کا طریقہ ہے۔اکثر اسلامی بھائی نوالہ تو سیدھے ہاتھ سے ہی کھاتے ہیں ،  مگر جب منہ کے نیچے اُلٹا ہاتھ رکھتے ہیں تو بعض دانے اُس میں گرتے ہیں اور وہ اُلٹے ہی ہاتھ سے پھانک لیتے ہیں ،  اِسی طرح دسترخوان پر گرے ہوئے دانے اُلٹے ہی ہاتھ سے کھاتے ہیں ،  اُن کو چاہئے کہ وہ اُلٹے ہاتھ والے دانے سیدھے ہاتھ میں ڈال کر ہی منہ میں ڈالیں ٭ بائیں  (یعنی اُلٹے)  ہاتھ میں روٹی لے کر دَہنے  ( یعنی سیدھے)  ہاتھ سے نوالہ توڑنا دَفعِ تکبُّر کیلئے ہے ۔  (فتاوٰی رضویہ ج۲۱ ص۶۶۹)  ہاتھ بڑھا کر تھال یا سالن کے برتن کے عین بیچ میں اوپر کر کے روٹی اور ڈبل روٹی وغیرہ توڑنے کی عادت بنایئے، اِس طرح روٹی کے ذرّات یا روٹی پر تِل ہوئے تو برتن ہی میں گریں گے ورنہ دسترخوان پر گر کر ضائِع ہو سکتے ہیں ۔  (تل شاید زینت کیلئے ڈالتے ہیں ،  بغیر تل کی روٹی لینا ہی مناسب تا کہ تل گر کر ضائع ہونے کا بکھیڑا ہی نہ رہے) ٭ تین اُنگلیوں یعنی بیچ والی ، شہادت کی اور انگوٹھے سے کھانا کھایئے کہ یہ سنّتِ اَنبِیاء  عَلَیْہِمُ الصَّلَاۃُ وَالسَّلَامہے۔ اگر چاول کے دانے جدا جُدا ہوں اور تین اُنگلیوں سے نوالہ بننا ممکن نہ ہو تو چار یا پانچ اُنگلیوں سے کھا لیجئے  ٭  لقمہ چھوٹا لیجئے  اور چَپَڑ چَپَڑ کی آواز پیدا نہ ہو اِس احتیاط کے ساتھ اِس قَدَر چبایئے کہ منہ کی غذا پتلی ہو جائے،  یوں کرنے سے ہاضم لعاب بھی اچھی طرح شامل ہو جائے گا۔ اگر اچھی طرح چبائے بغیر نگل جائیں گے تو ہضم کرنے کیلئے معدے کو سخت زَحمت کرنی پڑے گی اور نتیجۃً طرح طرح کی بیماریوں کا سامنا ہو سکتا ہے لہٰذا دانتوں کا کام آنتوں سے مت لیجئے ۔  ٭ہر دو ایک لقمے کے بعد’’ یَا وَاجِدُ‘‘ پڑھنے سے پیٹ میں نور پیدا ہوتا ہے  ٭ فراغت کے بعد پہلے بیچ کی پھر شہادت کی اُنگلی اور آخر میں اَنگوٹھا تین تین بارچاٹئے۔ سرکارِ مدینہ صلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وَسَلَّم کھانے کے بعد مبارَک اُنگلیوں کو تین مرتبہ چاٹتے  ([2]) ٭برتن بھی چاٹ لیجئے ۔ حدیثِ پاک میں ہے:  کھانے کے بعد جو شخص برتن چاٹتا ہے تو وہ برتن اُس کیلئے دُعا کرتا ہے اور کہتا ہے،  اللہ عَزَّوَجَلَّ  تجھے جہنَّم کی آگ سے آزاد کرے جس طرح تو نے مجھے شیطان سے آزاد کیا ۔ ([3])  ؎  اور ایک رِوایت میں ہے کہ برتن اُس کیلئے اِسْتِغْفَار  (یعنی مغفرت کی دعا)  کرتاہے ([4])  ٭حُجَّۃُ الْاِسْلامحضرتِ سَیِّدُنا امام محمد بن محمد بن محمد غزالیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَالِی فرماتے ہیں :  جو  (کھانے کے بعد)  پیالے  ( یا رِکابی)  کو چاٹے اور دھو کر پی لے اُسے ایک غلام آزاد کرنے کا ثواب ملتا ہے۔ اور گرے ہوئے ٹکڑے اُٹھا کر کھانا جنَّت کی حوروں کا مہر ہے  ([5])   ٭ صلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وَسَلَّم   ہے: جو شخص کھانے کے گرے ہوئے ٹکڑوں کو اُٹھا کر کھائے وہ فراخی  ( یعنی کشادَگی)  کے ساتھ زندگی گزارتا ہے اور اُس کی اولاد میں خیریت رہتی ہے ([6])  ٭کھانے کے بعد دانتوں کا خلال ٭ کیجئے  کھانے



[1]    جس دعا میں:  ’’یَاحَیُّی یَاقَیُّوْم ‘‘  کے بجائے  ’’وَہُوَ السَّمِیعُ الْعَلِیم‘‘ ہے ، اس دعا کی فضلیت ’’ترمذی ‘‘  اور ’’ابن ماجہ ‘‘ میں اس طرح ہے،    فرمانِ مصطَفٰے صلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وَسَلَّم:جو بند ہ روزانہ صبح وشام 3مرتبہ یہ کلمات کہے:  ’’بِسْمِ اللّٰہِ الَّذِیْ لَایَضُرُّ مَعَ اسْمِہٖ شَیْیٌٔ فِی الْاَرْضِ وَلَا فیِ السَّمَاءِ وَہُوَ السَّمِیعُ الْعَلِیْم‘‘ تواسے کوئی چیزنقصان نہیں دے سکتی۔ (ترمذی ج۵ص۲۵۰حدیث۳۳۹۹، ابن ماجہ ج۴ص۲۸۴حدیث۳۸۶۹) 

[2]    الشمائل المحمدیۃ،  للترمذی ص ۹۶حدیث۱۳۳  

[3]    جَمْعُ الْجَوامِع لِلسُّیُوطی ج۱ ص۳۴۷حدیث ۲۵۵۸

[4]    

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن