30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ہر اک لیکے کیا کیا نہ حسرت سِدھارا پڑا رہ گیا سب یونہی ٹھاٹھ سارا
جگہ جی لگانے کی دنیا نہیں ہے
یہ عبرت کی جا ہے تماشا نہیں ہے
یہی تجھ کو دُھن ہے رہوں سب سے بالا ہو زینت نرالی ہو فیشن نرالا
جیا کرتا ہے کیا یونہی مرنے والا تجھے حسن ظاہر نے دھوکے میں ڈالا
جگہ جی لگانے کی دنیا نہیں ہے
یہ عبرت کی جا ہے تماشا نہیں ہے
وہ ہے عیش و عشرت کا کوئی محل بھی جہاں تاک میں ہر گھڑی ہو اَجَل بھی
بس اب اپنے اِس جہل سے تو نکل بھی یہ جینے کا انداز اپنا بدل بھی
جگہ جی لگانے کی دنیا نہیں ہے
یہ عبرت کی جا ہے تماشا نہیں ہے
نہ دِلدادئہ شعر گوئی رہے گا نہ گرویدئہ شہرہ جوئی رہے گا
نہ کوئی رہا ہے نہ کوئی رہے گا رہے گا تو ذکر نکوئی رہے گا
جگہ جی لگانے کی دنیا نہیں ہے
یہ عبرت کی جا ہے تماشا نہیں ہے
جب اس بزم سے اٹھ گئے دوست اکثر اور اٹھتے چلے جا رہے ہیں برابر
یہ ہر وقت پیشِ نظر جب ہے منظر یہاں پر تِرا دل بہلتا ہے کیوں کر
جگہ جی لگانے کی دنیا نہیں ہے
یہ عبرت کی جا ہے تماشا نہیں ہے
جہاں میں کہیں شورِ ماتم بپا ہے کہیں فقر و فاقے سے آہ و بُکا ہے
کہیں شِکوئہ جَور و مکر و دغا ہے غرض ہر طرف سے یِہی بس صدا ہے
جگہ جی لگانے کی دنیا نہیں ہے
یہ عبرت کی جا ہے تماشا نہیں ہے
تجھے پہلے بچپن نے برسوں کھلایا جوانی نے پھر تجھ کو مجنوں بنایا
بڑھاپے نے پھر آکے کیا کیا ستایا اجل تیرا کر دے گی بالکل صفایا
جگہ جی لگانے کی دنیا نہیں ہے
یہ عبرت کی جا ہے تماشا نہیں ہے
بڑھاپے سے پاکر پیامِ قضا بھی نہ چونکا، نہ چیتا، نہ سنبھلا ذرا بھی
کوئی تیری غفلت کی ہے انتہا بھی جنوں کب تلک؟ ہوش میں اپنے آبھی
جگہ جی لگانے کی دنیا نہیں ہے
یہ عبرت کی جا ہے تماشا نہیں ہے
یہ فانی جہاں ہے مسلمان تجھ کو کرے گی یہ دنیا پریشان تجھ کو
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع