30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اے عاشقانِ رسول! بے شک جذبات میں آکر عارِضی طور پر رونا اور توبہ کرنا بھی اگر بربنائے اِخلاص ہے تو اِنْ شَآءَاللہ عَزَّوَجَلَّ ضرور رنگ لائے گا ۔ اپنا ذِہن بنائیے کہ میں نے اپنے آپ کو لازمی سُدھارنا ہے ، اپنے گناہوں کو یاد کرکے نَدامت کے ساتھ رو رو کر توبہ وعہد کیجئے کہ اب اِنْ شَآءَاللہ عَزَّوَجَلَّ میں فلاں فلاں گناہ نہیں کروں گا ۔ خبردار! یہاں شیطان آپ کو مشورہ دے گا کہ جذباتی فیصلہ اچھا نہیں ہوتا اپنی اصلاح آہستہ آہستہ کرنی چاہئے ، ایک دم سے ہی مولوی مَت بن جانا ، ہاتھوں ہاتھ سنتوں کی تربیت کے مَدَنی قافلے میں عاشِقانِ رسول کے ساتھ سفر کرنا مناسب نہیں ، بس دھیرے دھیرے کوشِش جاری رکھ ، ابھی تو ساری زندَگی پڑی ہے ، ابھی تو تیری عُمر ہی کیا ہے ! ابھی تو تیری شادی بھی نہیں ہوئی ، شادی کے بعد داڑھی بڑھا لینا بلکہ حج کیلئے جانا تو مدینۂ منوّرہ زَادَھَا اللہُ شَرَفاً وَّ تَعْظِیْماً سے داڑھی رکھ کر آنا ، جب بوڑھا ہوجائے تو عمامہ سجالینا وغیرہ وغیرہ۔ اے عاشقانِ رسول! خد ا کی قسم ! یہ شیطان کا بہت ہی خطر ناک وار ہے ۔ توبہ میں تاخیر انتہائی خطرناک ہے ، ہوسکتا ہے میری اِس بات پرشیطان فوراً وسوسہ ڈالنے لگا ہو کہ میں تجھے توبہ سے کہاں روکتا ہوں بے شک فوراً اور ابھی ابھی توبہ کرلے ۔
ارے میرے بھولے بھالے اسلامی بھائیو! گالوں پر چند بار ہلکی ہلکی چپت مار لینے کا نام توبہ نہیں ۔ توبہ کے تین رُکْن ہیں اگر ان میں سے ایک بھی رُکن(رُکْ۔ نْ) کم ہو تو پھر توبہ قَبول نہیں ہوگی۔ وہ تین رُکن یہ ہیں : (۱) اعترافِ جرم(۲)ندامت(یعنی کئے ہوئے گناہ پر شرمندگی)(۳) عزمِ ترک۔ یعنی گناہ چھوڑنے کا عزم ، نیز اگر گناہ قابلِ تلافی ہوتو اُس کی تلافی بھی لازِم ، مَثَلاً بے نمازی کی توبہ اُسی وقت سچی توبہ کہلائے گی جبکہ رہ جانے والی نَمازوں کی قضا بھی کرے ۔ کسی کا مال یا پیسے چھین یا دبالئے تھے تو توبہ اُسی صورت میں مکمَّل ہوگی جبکہ اُس کو لوٹائے یا اُس سے مُعاف کروائے۔ خالی SORRY کہہ دینا یا اوپری طور پرمُعافی مانگ لینا کافی نہیں ہوتا جب تک صاحِبِ حق مُعاف نہ کردے ، ہاں اگر صاحِبِ حق فوت ہوچکا ہے تو اُس کے وُرَثا کو پیسے لوٹائے اگر ورثا بھی نہ رہے ہوں یا کچھ معلوم ہی نہیں کہ کس کس کے پیسے کھاڈالے تھے تو اُتنی رقم کسی فقیر یا مسکین کو خیرات کردے۔ حقوق العباد کے ان اَحکامات کی تفصیلی معلومات کیلئے دعوتِ اسلامی کے اِشاعتی اِداریمکتبۃُ الْمدینہ کا رسالہ ’’ظلم کا انجام‘‘ پڑھئے۔
آہِستہ آہِستہ نہیں فوراً اصلاح ہونی چاہئے
بہرحال آہستہ آہستہ سدھرنے کا ذِہن بنائے رکھنا خطرناک ہوتا ہے کہ موت صرف بوڑھوں ، کینسر یا ہارٹ کے مریضوں ہی کو آتی ہے ایسا نہیں ، روزانہ نہ جانے کتنے ہی کڑیل جوان حادِثات کا شکار ہوکر اچانک موت کے گھاٹ اُتر جاتے ہیں ۔ سیلاب و زلزلے کے ذَرِیعے بھی اچانک موت آدبوچتی ہے۔
2لاکھ 20 ہزار سے زائد اموات
ابھی پچھلے ہی دنوں کی بات ہے ، سونامی(سمندری زلزلے ) کی یہ آفت ، جو کہ بالکل اچانک ہی نازِل ہوئی تھی ، 20-1-2005کے جنگ اخبار کی خبر کے مطابِق اِس آفت سے گیارہ مَمالِک میں مرنے والوں کی تعداد 2لاکھ20ہزار سے زائد ہے ، یہ حادِثہ سراپا عبرت ہے ، اِس نے ساری دنیا کو ہلاکر رکھ دیا مگر آہ! گناہوں میں کمی آنے کا نہیں سنا گیا! عبرت کی خاطر ’’ روزنامہ جنگ‘‘ 20-1-2005کا ایک آرٹیکل حسبِ ضرورت تصرف کے ساتھ پیش کرتا ہوں :
’’انڈونیشیا‘‘ کے صوبے ’’آچے ‘‘کا دارالحکومت بندہ آچے ’’سونامی‘‘ یعنی سَمُندری زلزلے سے سب سے زِیادہ مُتَأَ ثِّر ہوا ۔ صِرف اِس شہر میں مرنے والوں کی تعداد ایک لاکھ سے بڑھ چکی ہے ۔ ’’بندہ آچے‘‘ میں موجود صحافی نے اس شہر کی تباہی کا آنکھوں دیکھا حال بیان کرتے ہوئے بتایا کہ یہ سرسبز و شاداب ، خوب صورت اور زندَگی سے بھرپور شہر کوئی اور نہیں 26دسمبر 2004ء سے پہلے کا بندہ آچے ہے ، پھر سونامی ( یعنی سمندری زلزلہ) آیا اور اُس نے منٹوں میں اِس ہنستے بستے شہرکو ملبے کا ڈھیر بنادیا۔ سونامی اپنے ساتھ نہ صرف اِس شہر کی خوب صورتی اور شادابی لے گیا بلکہ ہزاروں خاندانوں کو تباہ اور ہزاروں کو اَدھورا چھوڑ گیا۔ ایک غیر سرکاری اِنڈونیشی تنظیم کے اَعداد و شمار کے مطابِق ساڑھے تین لاکھ کی آبادی کے ’’بندہ آچے ‘‘ کی تقریباً 60فی صد آبادی سونامی کی بھینٹ چڑ ھ چکی ہے ۔ اس شہر میں ابھی تک جگہ جگہ لاشیں بکھری پڑی ہیں اور روزانہ ہزاروں لاشوں کو اجتماعی طور پر دفن کیا جارہا ہے ۔ جو سونامی سے بچ گئے ہیں وہ کیمپوں میں سسکتے ہوئے اپنے بچھڑنے والوں کو یاد کر رہے ہیں ۔ یہاں بَہُت سے افراد ایسے ہیں جو اپنا پورا خاندان کھوچکے ہیں ، ان کی آنکھوں میں موجود حسرت اور تلاش شاید کبھی ختم نہیں ہوگی ، یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنی آنکھوں کے سامنے اپنے پیاروں کو موت کے منہ میں جاتے دیکھا ، ان کے دکھ کی گہرائی کا اندازہ لگایا ہی نہیں جاسکتا ۔ پہلے زلزلے نے شہر کو ہلاکر رکھ دیا اور پھر سونامی نے وہ تباہی مچائی جو اس نسل نے دنیا میں کہیں نہیں دیکھی ۔ کہتے ہیں ، اگر یہ طوفان دن کے بجائے رات کو آتا تو جو بچ گئے ہیں شا ید وہ بھی نہ بچ پاتے ، سونامی جہاں جہاں سے گزرا راستے میں آنے والی ہر چیز کو تہس نہس کرتا چلاگیا اور اپنے پیچھے صِرف تباہی اور موت چھوڑ گیا۔ ’’بندہ آچے‘‘ کے وَسط(یعنی درمیان) میں بہنے والا یہ پر سکون دریا شِمال سے جنوب کی طرف بہتا ہے لیکن سونامی کے چنگھاڑتے ہوئے طوفان نے اِسے جنوب سے شمال کی سمت بہنے پر مجبور کردیا ۔
پیارے پیارے اسلامی بھائیو! خدا کی قسم ! اس تازہ ترین قِصّے میں ہمارے لئے عبرت عبرت اور سراسر عبرت ہے ، کیا اب بھی ہم توبہ پرآمادہ نہیں ہوں گے ؟ بربادی او ر ویرانی کا یہ واقعہ کوئی نیا نہیں ، ایسا پہلے بھی ہوتا رہا ہے جس کی خبر ہمیں خود اللہ پاک کی سچّی کتاب دے رہی ہے ، البتّہ قراٰنی واقعات اور موجودہ تباہی کے واقعات میں یہ فرق ہے کہ قراٰنِ کریم میں بیان کردہ واقعات میں تباہی و بربادی کا عذابِ الٰہی ہونا ہمیں یقینی طور پر معلوم ہے اور موجودہ واقعات میں عذاب ہونے یا نہ ہونے دونوں کا احتمال (یعنی پہلو) ہے لیکن اتنی بات تو یقینی ہے کہ جو لوگ اِن طوفانوں ، سیلابوں میں مرگئے یا مر جائیں گے ان کی دنیا ختم ہوگئی اور آخرت کا مرحلہ شروع ہوگیا نیز توبہ و نیکیوں کی مہلت بھی ختم ہوگئی لہٰذا ہمارے لئے ان موجودہ واقعات میں بھی عبرت یقینا
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع