30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اے عاشقانِ رسول! جن خوش بختوں کاایمان پر خاتمہ ہوگا وہ بالآخر نجات پا جائیں گے اور جس کاایمان برباد ہوگیا اور بغیر توبہ وتجدید ایمان مرگیا اُس کی نجات کی کوئی صورت ہی نہیں ۔ ہر ایک کو ڈرنا ضروری ہے کہ نہ معلوم میرا کیا بنے گا ! پُل صراط جہنَّم پر بنا ہوا ہے ، اور اُس پر سے گزرے بغیر جنت میں داخلہ ممکن نہیں ۔
پُلْ صراط سے گزرنے کالرزہ خیز تصوُّر
حُجَّۃُ الْاِسلام امام محمد بن محمد بن محمد غزالی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الوالیفرماتے ہیں : جو شخص اِس دنیا میں صراطِ مستقیم(یعنی سیدھے رستے) پر قائم رہا وہ بروزِ قِیامت پُل صراط پر ہلکا پھلکا ہوکر نجات پالے گا اور جودنیا میں استِقامت سے ہٹ گیا ، نافرمانیوں اور گناہوں کے سبب اُس کی پیٹھ بھاری ہوئی تو پہلے ہی قدم میں پُل صِراط سے پھسل کر گر پڑے گا ۔ اے بندۂ ناتواں ! ذرا غور تو کرجب تو پُل صراط اور اُس کی باریکی کودیکھے گا تو کس قَدَر گھبرائے گا ، پھر اُس کے نیچے جہنَّم کی ہو ل ناک سیاہی پر تیری نظر پڑے گی ، نیچے سے جہنّم کا جوش و خروش سنائی دے گا ، آگ کے بلند شعلوں کی چیخ پکا ر تیرے کانوں سے ٹکرائے گی ، تو سوچ تو سہی! اُس وقت تجھ پر کس قدر دَہشت طاری ہوگی۔ یاد رکھ! تیرا دل چاہے کتنا ہی بے قرارو بے کل ہو ، قدم پھسل رہے ہوں اور پیٹھ پر اِس قَدَر بوجھ ہو کہ اِتنا بوجھ اٹھا کر ہموار زمین پر چلنابھی تیرے لئے دشوار ہو ، تو لاکھ کمزوری کی حالت میں ہو مگر تجھے پُل صراط پر چلنا ہی پڑے گا ، تُو تصور تو کر کہ بال سے باریک اور تلوار کی دھار سے تیز پُل صراط پر نہ چاہتے ہوئے بھی جب تُوپہلا قدم رکھے گا اور اُس کی سخت تیزی کو محسوس کرے گا مگر پھر بھی دوسرا قدم اُٹھا نے پر مجبور ہوگا ، لوگ تیرے سامنے پھسل پھسل کر جہنَّم میں گر رہے ہوں گے ، فرشتے لوگوں کو بڑے بڑے کانٹوں اور لوہے کے آنکڑوں سے کھینچ کھینچ کر جہنَّم میں جھونک رہے ہوں گے ، تو دیکھ رہا ہوگا کہ وہ لوگ روتے چلاتے سر کے بل جہنَّم میں گِرتے جارہے ہیں ، تو سوچ اُس وقت خوف کے مارے تیری کیا حالت بنی ہوگی !
جہنّم میں گرنے والوں کی چیخ پکار
جہنَّم کی گہرائیوں سے آہ و بُکا اور ہائے !اُوہ! کی چیخ پُکا ر تیرے کانوں میں پڑ رہی ہوگی ، بے شمار لوگ پل صراط سے پھسل کر جہنَّم میں جاپڑیں گے ، تو سوچ تو سہی اگر تیرا قدم بھی پھسل گیا تو تیرا کیا بنے گا ! اُس وقت کی شرم و ندامت تجھے کچھ فائدہ نہ دے گی ، اُ س وقت تیری حسرت بھری فریادکچھ اِس طرح ہوگی : ’’آہ! میں اِسی دن سے ڈرتا تھا ، ہائے کاش! میں اپنی آخرت کیلئے کچھ آگے بھیجتا ، اے کاش! میں رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی علیہ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے بتائے ہوئے راستے پر چلتا ، ہائے کاش! میں فلاں کو دوست نہ بناتا ، اے کاش! میں مٹی ہوجاتا ، اے کاش! میں بھولا بسرا ہوجاتا ، اے کاش! میری ماں ہی مجھے نہ جنتی ۔ ‘‘ ( اِحیاءُ الْعُلوم ج۵ص۲۸۵ مُلَخّصاً )
کاشکے نہ دنیا میں پیدا میںہوا ہوتا قبر و حشر کا ہر غم ختم ہو گیا ہوتا
کاش! ایسا ہوجاتا خاک بن کے طیبہ کی مصطَفٰے کے قدموں سے میں لپٹ گیا ہوتا
آہ! سلبِ ایماں کا خوف کھائے جاتا ہے
کاشکے مری ماں نے ہی نہیں جنا ہوتا
حُجّۃُ الاسلام امام محمد بن محمد بن محمد غزالیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الوالی مزید فرماتے ہیں : قیامت کے ہوشربا حالات میں وُہی شخص زِیادہ محفوظ ہوگا جو دنیا میں اِس کے معاملے میں زِیادہ فکر مند(یعنی خوف زَدہ)رہاکرے گا ، کیوں کہ اللہ پاک کسی پر دو خو ف جمع نہیں کرتا لہٰذا جو آدَمی دنیا میں پُل صراط اور قیامت کے بھیانک حالات سے ڈرا وہ آخر ت میں اِن سے نجات پالے گا ۔ اور خوف سے ہماری مُراد عورَتوں والا(کمزور دلی والا)خوف نہیں کہ سنتے ہی(عارِضی طور پر) دل نرم پڑجائے اور آنسوبہنے لگیں پھر جلد ہی سب کچھ بھول کر بندہ لَھْو و لَعِب (یعنی کھیل کود) میںمشغول ہوجائے۔ خوف کااِس طرح کے رونے دھونے سے کوئی تعلُّق نہیں بلکہ انسان جس چیز سے ڈرتا ہے اُس سے دُور بھاگتاہے اور جس چیز سے رغبت رکھتا ہے اُس کی طلب بھی کرتا ہے ، پس آخرت میں آپ کو وہی خوف نجات دلائے گا جو کہ اللہ کریم کی اطاعت و فرماں برداری پر آمادہ کرے اور نافرمانی اور گناہوں سے باز رکھے ۔
نیزعورَتوں کے(کمزور دلی ) والے خوف سے بھی بڑھ کر بے وُقُوفوں والا خوف ہے کہ جب وہ (قیامت کے )ہول ناک مناظر کے بارے میں ( کوئی بیان وغیرہ )سنتے ہیں تو فوراً اُن کی زَبان پر اِستعاذَہ(اِس۔ تِ۔ عَاذَہ) یعنی پناہ مانگنے والے کلمات جاری ہوجاتے ہیں اور وہ کہنے لگتے ہیں : میں اللہ پاک کی مدد چاہتا ہوں ، یا اللہ پاک ! مجھے بچالے ! بچالے! وغیرہ ، اس کے باوجود وہ گناہوں پر ڈٹے رہتے ہیں جو اِن کی ہلاکت کا باعث ہیں ، شیطان ان کے پناہ مانگنے پر ہنستا ہے۔ ([1]) (یعنی یہ سب صِرف جذباتی اور عارِضی الفاظ ہوتے ہیں ، خوفِ حقیقی کی وجہ سے نکلے ہوئے نہیں ہوتے ۔ ان کو جذباتی اور عارِضی الفاظ اِس لئے کہا جا رہا ہے کہ ایک طرف پناہ بھی مانگ رہے ہوتے ہیں مگر دوسری طرف گناہوں پرمثلِ سابق(یعنی پہلے ہی کی طرح) دِلیری بھی موجود رَہتی ہے ، گناہ کو ترک کردینے کا عزم نہیں ہوتا۔ مَثَلاً بے نمازی ہے توبے نَمازی اور داڑھی مُنڈا داڑھی مُنڈا ہی رَہتا ہے ، جھوٹا جھوٹ بولنا ترک کرنے کا عزم کرتا ہی نہیں ، سود ، رشوت ، حرام کمائی اور دھوکے بازی کا خوگر یہ کام چھوڑتا ہی نہیں ، پرائی عورَتوں اور اَمردوں کے ساتھ بدنگاہی کرنے والا ، فلم بینی اور گانے باجوں کا رَسیااپنے گناہوں سے بچنے کا حقیقی ذِہن بناتا ہی نہیں ، غیر شرعی لباس پہننے والا ، لوگوں پر ظلم کرنے والا ، زانی ، شرابی ، ماں باپ کو ستانے والا ، بال بچوں کو شریعت و سنت کے مطابق تربیت نہ دینے والا ، بے نمازیوں اور ماڈَرن دوستوں کی تباہ کن صحبتوں میں بیٹھنے والا وغیرہ وغیرہ اپنے اپنے گناہوں پر حسبِ معمول قائم رَہتا ہے)
آہِستہ آہِستہ نہیں ایک دم گناھوں کو چھوڑ دے
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع