دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Pulsirat ki Dehshat | پُل صراط کی دہشت

book_icon
پُل صراط کی دہشت

بہترین اور اچھے گھوڑوں اور اُونٹوں کی طرح (گزریں گے ) اور فِرشتے کہتے ہوں گے : ’’رَبِّ سَلِّمْ ، رَبِّ سَلِّمْ‘‘(یعنی اے  پَروَردَگار سلامتی سے گزار ، اے پروَر دگار سلامتی سے گزار )بعض مسلمان نجات پائیں گے ، بعض زخمی ہوں گے ، بعض اَوندھے ہوں گے ، بعض منہ کے بل جہنَّم میں گرپڑیں گے۔           (مُسندِ اِمام احمد ج۹ص۴۱۵ حدیث۲۴۸۴۷)

         صَدرُالشَّریعہ،بَدرُالطَّریقہحضرتِ علّامہ مولانامفتی محمد امجد علی اعظمی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہ ِالْقَوِی لکھتے ہیں : صراط حق ہے ۔ یہ ایک پُل ہے کہ پشتِ جہنَّم پرنصب (یعنی قائم)کیا جائے گا۔ بال سے زیادہ باریک اور تلوار سے زیادہ تیز ہوگا  ۔ جنَّت میں جانے کا یہی راستہ ہے۔ سب سے پہلے نبی صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم گزر فرمائیں گے ، پھر اور انبیا و مرسلین ، پھر یہ اُمت پھر اور اُمتیں گزریں گی  اور حسب اختلافِ اعمال پُل صراط پر لوگ مختلف طرح سے گزریں گے ، بعض تو ایسے تیزی کے ساتھ گزریں گے جیسے بجلی کا کَوندا کہ ابھی چمکا اور ابھی غائب ہوگیا اور بعض تیز ہواکی طرح ، کوئی ایسے جیسے پرند اڑتا ہے اور بعض جیسے گھوڑا دوڑتا ہے اور بعض جیسے آدمی دوڑتا ہے ، یہاں تک کہ بعض شخص سرین پر گھسٹتے ہوئے اور کوئی چیونٹی کی چال جائے گا اور پُل صراط کے دونوں جانب بڑے بڑے آنکڑے (اللہ پاک ہی جانے کہ وہ کتنے بڑے ہو ں گے) لٹکتے ہوں گے ، جس شخص کے بارے میں حکم ہوگا اُسے پکڑلیں گے ، مگر بعض تو زخمی ہو کرنجات پا جائیں گے اور بعض کو جہنَّم میں گرا دیں گے   اور یہ ہلاک ہوا۔

(بہارِ شریعت ج ۱ ص ۱۴۷ ۔ ۱۴۸)

یا الٰہی جب چلُوں تاریک راہِ پُل صراط                   آفتابِ ہاشِمی نورُالْھُدیٰ کا ساتھ ہو

    یا الٰہی جب سر شمشیر پر چلنا پڑے                              ربِّ سلِّم کہنے والے غمزُدا ([1]) کا ساتھ ہو

یاالٰہی! نامۂ اعمال جب کُھلنے لگیں

عیب پوشِ خلق ستارِخطا کا ساتھ ہو (حدائقِ بخشش ص۱۳۳)

 آخِرت میں تنگی کا ایک سبب

          اے عاشقانِ رسول! جہنَّم کی آگ تاریک ہوگی اور پُل صراط اندھیرے میں ڈوباہوا ہوگا۔ فقط وُہی کامیاب ہوگا جس پر ربُّ الاکرم   کا فضل و کرم ہوگا۔ چنانچِہ حضرتِ سیِّدُنا سہل بن عبداللّٰہ تستری عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہ ِالْقَوِیسے مروی ہے کہ جس پر دنیا میں تنگی ہوئی اُس پر آخرت میں کشادَگی ہوگی اور جس پر دُنیا میں کشادَگی ہوئی اُس پر آخرت میں تنگی ہوگی۔

  (حِلْیَۃُ الْاولیاء ج۱۰ص۲۰۷حدیث۱۴۹۵۸ماخوذاً )

            حضرتِ سیِّدُنا سعید بن ابو ہلال رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِنے فرمایا کہ میرے پاس یہ بات پہنچی ہے کہ قیامت کے روز پُل صراط بعض لوگوں پر بال سے بھی باریک ہوگا اور بعض کے لئے گھر اور وسیع وادی کی طرح ہوگا۔        (شُعَبُ الْاِیمان ج۱ ص۳۳۳)

اہلِ صراط رُوحِ امیں کو خبر کریں                           جاتی ہے اُمّتِ نبوی فرش پر کریں

سرکار! ہم کمینوں کے اطوار پر نہ جائیں                    آقا حُضور! اپنے کرم پر نظر کریں

مال زِیادہ تو وبال بھی زیادہ

                اے عاشقانِ رسول!دستُور ہے کہ جتنا مال زِیادہ اُتنا ہی وَبال بھی زِیادہ۔ سفر کا بھی اُصول ہے کہ بس یا ریل گاڑی وغیرہ میں جس کے پاس زِیادہ سامان ہوتا ہے وہ اُتنا ہی پریشان ہوتا ہے۔ نیزجو لوگ ہوائی جہاز کے ذَرِیعے ایک مُلک سے دوسرے ملک کا سفر کرتے ہیں اُن کو تجرِبہ ہوگا کہ زِیادہ سامان والے کسٹم وغیرہ میں کس قدر پریشا ن ہوتے ہیں ! اِسی طرح جس کے پاس دنیا کے مال کا بوجھ کم ہوگا اُسے آخِرت میں آسانی رہے گی ۔ چُنانچِہ

’’بھاری بوجھ‘‘ کی تعریف

   حضرتِ سیِّدُنا انس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے فرمایا کہ اللہ پاک کے  محبوب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم حضرتِ ابو ذَرّ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کا ہاتھ پکڑ کر تشریف لائے اور ان سے فرمایا : اے ابوذَرّ! کیا تمہیں خبر ہے کہ ہمارے آگے ایک سخت گھاٹی ہے ، اس پر صرف ہلکے بوجھ والے گزر سکیں گے ؟ ایک صاحب نے عرض کی :  یارَسُولَ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! میں بھاری بوجھ والوں میں سے ہوں یا ہلکے بوجھ والوں میں سے؟ فرمایا : کیا تیر ے پاس آج کا کھانا ہے ؟ عرض کی : جی ہاں ۔ فرمایا : کل کا کھانا ہے؟  عر ض کی  : جی ہاں ۔ پھر فرمایا : پرسوں کا کھانا ہے؟ عرض کی : جی نہیں ! آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا: اگر تیرے پاس تین دنوں کا کھانا ہوتا تو توبھاری بو جھ والوں سے ہوتا۔    (مُعْجَم اَ وْسَط ج۳ ص۳۴۸ حدیث۴۸۰۹)

رَحمۃً  لِّلْعٰلمیں !  تیری  دُہائی  دب  گیا

اب تو مولیٰ بے طرح([2]) سر پر گُنہ کا بار ہے

بوجھ ہی بوجھ

     پیارے پیارے اسلامی بھائیو! ہمارے یہاں تین دن کے کھانے کے ذخیرے کی تو بات ہی کہاں ہے ، محض حرص کے باعث طرح طرح کی غذاؤں سے فرج بھرا رہتا ہے اوربلا ضرورت ہر چیز کا انبار لگا رہتا ہے ۔ آہ! ہم حریصوں کا کیا بنے گا! دولت کی کثرت کا بوجھ ، مزید مال بڑھائے چلے جانے کی ہوَس کا بوجھ ، کئی کئی دکانوں اور کارخانوں کا بوجھ ، بلکہ طرح طرح کے گناہوں کا بھی بوجھ مثَلاًسُودورشوت کا بوجھ ، دھوکے بازیوں کا بوجھ ، دوسروں کا مالِ ناحق دبا لینے کا بوجھ ہائے! ہائے !سر وں پر اب توبوجھ اور بوجھ ہی بوجھ ہے ، آہ !اِس قَدَر بوجھ کے ہوتے ہوئے پُل صراط سے



[1]   غمزدہ کے معنیٰ : غمگین اور ’’غمزدا‘‘ کے معنیٰ  : دوسروں کا غم دُور کرنے والا۔

[2]   بے طرح : یعنی بے حد۔

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن