30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ترجَمۂ کنزالایمان : پھر ہم ڈر والوں کو بچالیں گے اور ظالموں کو اس میں چھوڑدیں گے گھٹنوں کے بل گرے۔ (ِ اِبن ماجہ ج۴ ص۵۰۸ حدیث۴۲۸۱)
اے عاشقانِ رسول! اِس روایت سے معلوم ہوا کہ ہر ایک کو دوزخ سے گزرنا ہوگا ۔ خوفِ خدا رکھنے والے مسلمان بچا لئے جائیں گے اور مجرم وظالم لوگ جہنَّم میں گر پڑیں گے ۔ واقعی انتہائی دشوار معاملہ ہے ، ہائے !ہائے ! پھر بھی ہم خوابِ غفلت سے بیدار نہیں ہوتے۔
دل ہائے! گناہوں سے! بیزار نہیں ہوتا مغلوب شہا! نفسِ بدکار نہیں ہوتا
یہ سانس کی مالا اب ، بس ٹوٹنے والی ہے غفلت سے مگر دل کیوں بیدار نہیں ہوتا
گو لاکھ کروں کوشش ، اصلاح نہیں ہوتی پاکیزہ گناہوں سے کردار نہیں ہوتا
اے رب کے حبیب آؤ! اے میرے طبیب آؤ!
اچھا یہ گناہوں کا بیمار نہیں ہوتا (وسائلِ بخشش (مرمَّم) ص۱۶۳)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
صَحابی کا رونا(حکایت)
اے عاشقانِ صحابہ و اہلِ بیت !پُلْ صراط سے گزرنے کامُعاملہ آسان نہیں ، ہمارے بزرگانِ دین رَحِمَہُمُ اللہُ الْمُبِیْن اِس تعلُّق سے بے حد فکر مند رہا کرتے تھے۔ چُنانچِہ حضرتِ سیِّدنا عبدُ اللّٰہ بن رَواحہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکو ایک بار روتے دیکھ کر ان کی زَوجۂ محترمہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا نے عرض کی : آپ کو کس بات نے رُلایا ہے ؟ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا : مجھے اللّٰہ پاک کا یہ فرمان یاد آگیا وَ اِنْ مِّنْكُمْ اِلَّا وَارِدُهَاۚ- (ترجَمۂ کنزُالایمان : اور تم میں کوئی ایسا نہیں جس کا گزر دوزخ پر نہ ہو۔ (پ۱۶ ، مریم : ۷۱)) یوں یہ تو جان لیا کہ میں نے اس میں داخل ہونا ہے لیکن یہ نہیں جانتا کہ میں اس سے نجات حاصل کرسکوں گا یا نہیں ۔ (اَلْمُسْتَدْرَک ج۵ ص۸۱۰ حدیث ۸۷۸۶ ، اَلتَّخویف مِنَ النَّار ص ۲۴۴)
صَحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَانکا خوفِ خدا مرحبا! سُوْرَۃُ مَرْیَم کی آیت 71 میں لفظ ، ’’ وارِدُھَا‘‘ (یعنی دوزخ سے گزرنے) کے بارے میںحضرتِ سیِّدَتُنا حفصہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا اور سیِّدُنا عبد اللّٰہ بن رَواحہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ وغیرہ کے خیال میں بات یہ تھی کہ قراٰنِ کریم کے ان الفاظ میں ’’ وَارِدُھَا‘‘کے معنی دَاخِلُھَا(یعنی دوزخ میں داخل ہونے ) کے ہیں ۔ ([1])یاد رہے!اس آیتِ کریمہ وَ اِنْ مِّنْكُمْ اِلَّا وَارِدُهَاۚ- (ترجَمۂ کنزُالایمان : اور تم میں کوئی ایسا نہیں جس کا گزر دوزخ پر نہ ہو۔)کے تحت ’’خزائن العرفان ‘‘ میں ہے : (حضرتِ)حسن و قتادہ (رَحِمَہُمَا اللّٰہ ُتعالٰی وغیرہ)سے مروی ہے کہ دوزخ پر گزرنے سے پُلْ صراط پر گزرنا مراد ہے جو دوزخ پر ہے۔ (تفسیر خزائن العرفان ۵۷۹)
کاشکے مری ماں نے ہی نہیں جنا ہوتا
حضرتِ سیِّدُنا ابومیسرہ عَمْرْوبن شرحبیل علیہ رحمۃ اللّٰہِ الجلیل ایک بار بچھو نے پر آرام کیلئے تشریف لے گئے تو بے قرار ہو کر فرمانے لگے : کاش! میری ماں نے مجھ کوجنا ہی نہ ہوتا ۔ ان کی زوجۂ محترمہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِا نے عرض کی : آپ ایسا کیوں فرما رہے ہیں ؟ فرمایا : بے شک اللہ کریم نے جہنَّم پر گزرنے کی خبر دی ہے لیکن یہ خبر نہیں کہ ہم اُس سے نکلیں گے یا نہیں ۔ (اَلْبُدورُ السّافِرۃ ص۳۴۳)
پُلْ صراط پندَرَہ ہزار سال کی راہ ہے
پیارے پیارے اسلامی بھائیو! اللہ پاک ہم پر رحم فرمائے ، پُل صرا ط کا سفر نہایت ہی طویل (یعنی لمبا) ہے چُنانچِہ حضرتِ سیِّدُنا فضیل بن عیاض رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ سے منقول ہے : پُل صراط کا سفر پندرہ ہزا ر سال کی راہ ہے ، پانچ ہزار سال اوپر چڑھنے کے ، پانچ ہزار سال نیچے اُترنے کے اور پانچ ہزار سال برابرکے ۔ پُل صراط بال سے زِیادہ باریک اور تلوار کی دھار سے زیادہ تیز ہے اور وہ جہنَّم کی پشت پر بنا ہوا ہے اس پر سے وہ گزر سکے گا جو خوفِ خدا کے باعث کم زورہوگا۔ (اَلْبُدورُ السّافِرۃ ص۳۳۴)
پُل صراط سے بَآسانی کون گزر سکے گا؟
اے عاشقانِ رسول! تصوُّر کیجئے ! اُس وقت کیا گزر رہی ہوگی جب میدانِ قیامت میں سورج ایک میل پر رَہ کر آگ برسا رہا ہوگا ، لوگ ننگے بدن اور ننگے پاؤں زمین پر کھڑے ہوں گے ، بھیجے کھول رہے ہوں گے ، کلیجے پھٹ گئے ہوں گے ، دل اُبل کر گلے میں آگئے ہوں گے ، ایسے خوفناک حالات میں پُل صراط سے گزرنے کا مرحلہ درپیش ہوگا ۔ اِس سے گزرنے کیلئے دُنیوی اعتبار سے طاقت ور ، کڑیل(کَڑ۔ یَل) نوجوان یا پہلوان ، تیز رفتار ، خلاباز یا کراٹے باز ، اور ہٹّے کٹّے مُسٹَنڈے ہونے کی حاجت نہیں بلکہ حضرتِ سیِّدُنا فضیل بن عیاض رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ کے ارشاد کے مطابِق خوفِ خدا کے سبب کم زور رہنے والے پُل صراط کو بآسانی پار کر لیں گے۔
پُل صراط سے گزرنے والوں کے مختلف انداز
اُمُّ المؤمنین حضرتِ سیِّدَتُنا عائشہ صِدّیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا سے مروی ہے ، مصطَفٰے جانِ رحمت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا : جہنَّم پر ایک پُل ہے جو بال سے زِیادہ باریک اور تلوار سے زیادہ تیز ہے ، اس پر لوہے کے کنڈے اور کانٹے ہیں جوکہ اُسے پکڑیں گے جسے اللہ پاک چاہے گا ۔ لوگ اُس پر گزریں گے ، بعض پلک جھپکنے کی طرح ، بعض بجلی کی طرح ، بعض ہوا کی طرح ، بعض
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع