30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اُس کے اَحکام بجا لائے اور ہر وہ جائز کام کرے جس سے وہ خوش و راضی ہو۔ اُس کی کامل تعظیم و توقیر کرے اور اپنے اَقوال و اَفعال و حرکات و سکنات میں اُس کی ہدایات کے مطابق (جو شریعت کے خلاف نہ ہوں) پابند رہے تاکہ اُس سے فُیوض و بَرَکات حاصل کرنے میں کامیاب ہو سکے۔
پیر و مُرشِد سے فیض حاصل کرنے کے لیے ضروری ہے کہ مُرید ہمیشہ اپنے آپ کو کمالات سے خالی سمجھے اگرچہ کتنا ہی علم وفضل والا کیوں نہ ہو کہ کچھ ہونے کی سمجھ انسان کو کہیں کا نہیں رہنے دیتی چنانچہ حضرتِ سیِّدُنا شیخ سعدی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی کے فرمان کا خُلاصہ ہے: بھر لینے والے کو چاہیے کہ جب کسی چیز کے حاصل کرنے کا اِرادہ کرے تو اگرچہ کمالات سے بھرا ہوا ہو مگر کمالات کو دروازے پر ہی چھوڑ دے (یعنی عاجزی اِختیار کرے) اور یہ خیال کرے کہ میں کچھ جانتا ہی نہیں۔ خالی ہو کر آئیگا تو کچھ پائے گا اور جو اپنے آپ کو بھرا ہوا سمجھے گا تو یاد رہے کہ بھرے برتن میں کوئی اور چیز نہیں ڈالی جا سکتی۔ ([1]) اللہ عَزَّ وَجَلَّ ہمیں اَولیائے کرام رَحِمَہُمُ اللّٰہُ السَّلَام کی سچی محبت نصیب کرے اور ان کے فیوض و برکات سے مالا مال فرمائے،اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وَسَلَّم۔
جو ہو اللّٰہ کا ولی اُس کا
فیض دُنیا میں عام ہوتا ہے (وسائلِ بخشش)
سُوال : مُرید اور طالِب میں کیا فرق ہے؟
جواب: مُرید اور طالِب میں فرق بیان کرتے ہوئے اعلیٰ حضرت عَلَیْہِ رَحْمَۃُرَبِّ الْعِزَّت فتاویٰ رضویہ،جلد 26 صفحہ 558پرفرماتے ہیں: مُرید غلام ہے اور طالِب وہ کہ غیبتِ شیخ (یعنی مُرشِد کی غیر موجودگی) میں بضرورت یا باوجودِ شیخ کسی مَصْلِحَت سے، جسے شیخ جانتا ہے یا مُریدِ شیخ غیر شیخ سے اِستفادہ کرے۔ اسے جو کچھ اس سے حاصل ہو وہ بھی فیضِ شیخ ہی جانے۔ ([2])
سُوال : کُتا کپڑوں سے چُھو جائے تو کیا کپڑے ناپاک ہو جاتے ہیں؟
جواب : کُتا کپڑوں سے چُھو جائے تو کپڑے ناپاک نہیں ہوتے بشرطیکہ اس کے بدن پر نجاست نہ لگی ہو، ورنہ ناپاک ہو جائیں گے چنانچہ صَدرُ الشَّریعہ، بَدرُالطَّریقہ حضرتِ علّامہ مولانا مفتی محمد امجد علی اعظمی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی فرماتے ہیں: کُتّا بدن یا کپڑے سے چھو جائے، تو اگرچہ اس کا جسم تر ہو بدن اور کپڑا پاک ہے، ہاں اگر اس کے بدن پر نَجاست لگی ہو تو اور بات ہے یا اس کا لُعاب (تھوک) لگے تو ناپاک کر دے گا۔ ([3])
سُوال: کیا شوقیہ کُتّا پال سکتے ہیں؟
جواب : شوقیہ طور پر کُتّا نہیں پال سکتے۔حدیثِ پاک میں ہے: جس گھر میں کُتّا یا تصویر ہو اس میں (رحمت کے) فرشتے داخل نہیں ہوتے۔ ([4]) شیخ الحدیث حضرتِ علّامہ عبدالمصطفیٰ اعظمی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی فرماتے ہیں: بعض بچے کتوں کے بچوں کو شوقیہ پالتے اور گھروں میں لاتے ہیں ماں باپ کو لازم ہے کہ بچوں کو اس سے روکیں اور اگر وہ نہ مانیں تو سختی کریں حدیث میں جن کتوں کے گھر میں رہنے سے رحمت کے فرشتوں کے نہ آنے کا ذکر ہے ان کتوں سے مُراد وہی کتے ہیں جن کو پالنا جائز نہیں ہے۔ ([5])
معلوم ہوا کہ شوقیہ طور پر کتا نہیں رکھ سکتے ،اگر کسی نے رکھا تو اس کے عمل میں سے روزانہ ایک قیراط ثواب کم ہوگا ،اَلبتہ کھیتی اور بکریوں کی حفاظت اور شکار کرنے کے لیے رکھ سکتے ہیں جیسا کہ ہادی ٔ راہِ نجات،سرورِ کائناتصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ نجات ہے: اگر کتّے ایک مخلوق نہ ہوتے تو میں انہیں قتل کرنے کا حکم دیتا پس ہر سیاہ کتّے کو مار دو اور جو لوگ گھروں میں کتا رکھتے ہیں ان کے عمل سے روزانہ ایک قیراط کم ہوتا ہے
[1] بوستانِ سعدی ، ص۱۴۰
[2] پیری مُریدی کے بارے میں مزید تفصیلات جاننے کے لیےدعوتِ اسلامی کے اِشاعتی ادارے مکتبۃُ المدینہ کی مطبوعہ 275 صَفحات پر مشتمل کتاب ، ’’آدابِ مُرشدِ کامل‘‘ کا مطالعہ کیجیے۔ (شعبہ فیضانِ مدنی مذاکرہ)
[3] بہارِ شریعت ، ۱ / ۳۹۵، حصّہ :۲
[4] بخاری ، کتاب المغازی، باب ۱۲، ۳ / ۱۹، حديث: ۴۰۰۲
[5] جنتی زیور، ص۴۴۱
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع