30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
نہیں ،ایک شخص کے دو دِل نہیں،عورت کے بیک وقت دو شوہر نہیں اسی طرح مُرید کے دو شیخ نہیں۔ ([1]) البتہ دوسرے جامع شرائط پیر سے بیعتِ برکت کرتے ہوئے طالِب ہونے میں حرج نہیں ہے۔ اِسی طرح کے ایک سُوال کے جواب میں اعلیٰ حضرت،اِمامِ اَہلسنَّت مولانا شاہ امام احمد رضا خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن فرماتے ہیں: جوشخص کسی شیخ جامع شرائط کے ہاتھ پربیعت ہو چکا ہو تو دوسرے کے ہاتھ پربیعت نہ چاہئے۔ اکابرِ طریقت فرماتے ہیں: ”لَا یُفْلِحُ مُرِیدٌ بَیْنَ شَیْخَیْنِ جو مُرید دو پیروں کے دَرمیان مشترک ہو وہ کامیاب نہیں ہوتا۔“خصوصاً جبکہ اس سے کشُودِکار (یعنی مطلب کا حصول) بھی ہوچکا ہو،حدیث میں اِرشاد ہوا: مَنْ رُزِقَ فِيْ شَيْءٍ فَلْيَلْزَمْهُ جسے اللہتعالیٰ کسی شے میں رزق دے وہ اس کو لازم پکڑے۔ ([2]) دوسرے جامع شرائط سے طلبِ فیض میں حرج نہیں اگرچہ وہ کسی سلسلۂ صریحہ کا ہو مگر اپنی اِرادت شیخِ اوّل ہی سے رکھے اور اس سے جو فیض حاصل ہو اسے بھی اپنے شیخ ہی کا فیض جانے۔ ([3])
ہاں! اگر کوئی سلسلۂ عالیہ قادریہ میں بیعت ہو تو اسے کسی اور سے طالِب ہونا ضَروری نہیں کیونکہ سلسلۂ عالیہ قادریہ تمام سَلاسِل سے اَفضل ہے اور تمام سَلاسِل اسی کی طرف راجع ہیں۔ فتاویٰ رضویہ میں ہے : ان (یعنی خاندانِ مداریہ والوں ) سے طالِب ہونا ہرگز کچھ ضرورنہیں، بلکہ جب اَفضلُ السَّلَاسِل سلسلہ علیہ، عالیہ، صحیحہ، متصلہ، قادریہ، طیبہ میں شیخ جامع شرائط کے ہاتھ پرفخربیعت نصیب ہوچکاہے تو اسے دوسری طرف اصلاً توجہ وپریشان نظرہی نہ چاہئے۔ ([4]) اللہ عَزَّوَجَلَّ ہمیں اپنے پیر و مرشد کا ہمیشہ وفادار بنائے اور انہیں راضی رکھنے کی توفیق عطافرمائے ،اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وَسَلَّم۔
سدا پیر و مُرشِد رہیں مجھ سے راضی
کبھی بھی نہ ہوں یہ خفا یاالٰہی
بنا دے مجھے ایک دَر کا بنا دے
میں ہر دَم رہوں باوفا یاالٰہی (وسائلِ بخشش)
پیرو مُرشِد سے فیض حاصل کرنے کا طریقہ
سُوال : فیض کسے کہتے ہیں؟ نیزپیر و مُرشِد سے فیض حاصل کرنے کا کیا طریقہ ہے ؟
جواب: فیض کی تعریف کرتے ہوئے میرے آقا اعلیٰ حضرت عَلَیْہِ رَحْمَۃُرَبِّ الْعِزَّت فرماتے ہیں: فیض بَرَکات اور نورانیت کا دوسرے پر اِلقاء فرمانا ہے۔ ([5]) فیض حاصل کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ مُرید اپنے پیر و مُرشِد سے کامل مَحبَّت کرے۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع