30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
سُوال : مُرشِدِ کامل کہ جس کے ہاتھ پر بیعت کرنا دُرُست ہو اس کی کیا شَرائط ہیں ؟
جواب : مُرشدِ کامل کہ جس کے ہاتھ پر بیعت کرنا دُرُست ہو اس کی شَرائط بیان کرتے ہوئے اعلیٰ حضرت ،امام اہلسنَّت مولانا شاہ امام احمد رضا خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰنفرماتے ہیں : بیعت لینے اور مسندِ اِرشاد پر بیٹھنے کے لئے چارشَرطیں ضَروری ہیں: ایک یہ کہ سُنّی صحیحُ العقیدہ ہو اس لئے کہ بدمذہب دوزخ کے کتے ہیں اور بدترین مخلوق، جیسا کہ حدیث میں آیا ہے۔دوسری شرط ضَروری عِلم کا ہونا، اس لئے کہ بے علم خُدا کو پہچان نہیں سکتا۔تیسری یہ کہ کبیرہ گناہوں سے پرہیز کرنا اس لئے کہ فاسِق کی توہین واجب ہے اور مُرشِد واجبُ التعظیم ہے دونوں چیزیں کیسے اکھٹی ہوں گی۔چوتھی اجازتِ صحیح مُتَّصِل ہو جیسا کہ اس پر اہلِ باطن کا اِجما ع ہے۔جس شخص میں اِن شَرائط میں سے کوئی ایک شرط نہ ہو تو اس کو پیر نہیں پکڑنا چاہئے۔ ([1])
صَدرُ الشَّریعہ، بَدرُ الطَّریقہ حضرتِ علّامہ مولانا مفتی محمد امجد علی اعظمی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی فرماتے ہیں : جب مُرید ہونا ہو تو اچھی طرح تفتیش کر لیں، ورنہ اگر (کسی ایسے کو پیر بنا لیا جو) بد مذہب ہوا تو اِیمان سے بھی ہاتھ دھو بیٹھیں گے۔
اے بسا اِبلیس آدم روئے ہست
پس بہر دستے نباید داد دست ([2])
کبھی اِبلیس آدمی کی شکل میں آتا ہے، لہٰذا ہر ہاتھ میں ہاتھ نہیں دینا چاہیے (یعنی ہر کسی سے بیعت نہیں کرنی چاہیے۔)
سُوال : کیا خط،ٹیلیفون یا اِجتماعِ عام میں لاؤڈ اسپیکر کے ذَریعے بیعت ہو سکتی ہے؟
جواب : فتاویٰ رضویہ جلد 26 صفحہ 585 پر ہے: ’’بذریعۂ قاصِد (نمائندہ) یا خط مُرید ہو سکتا ہے۔‘‘جب نُمائندے یا خط کے ذَریعے مُرید ہو سکتا ہے تو ٹیلی فون اور لاؤڈ اسپیکر پر تو بدرجۂ اَوْلیٰ بیعت ہو سکتی ہے۔
سُوال : اگر کسی سے کُفر سرزد ہو گیا ہو تو اسے اپنے کُفر سے توبہ کرنے کے بعد اپنے سابِقہ مُرشِد سے ہی تجدیدِ بیعت کرنا ضَروری ہے؟
جواب : کُفر بکنے سے جس طرح پچھلے تمام نیک اَعمال مثلاً نَماز، روزہ اور حج وغیرہ ضائِع ہو جاتے ہیں ایسے ہی بیعت بھی ختم ہو جاتی ہے، توبہ کرنے کے بعد سابقہ مُرشِد یا کسی بھی جامع شرائط پیر کا مُرید ہوا جا سکتا ہے،سابقہ مُرشِد سے ہی بیعت کرنا ضَروری نہیں۔
دوسروں کواپنے پیر کی بیعت کی ترغیب دِلاناکیسا؟
سُوال : زید کو اپنے پِیر صاحِب سے بَہُت عقیدت ہے لہٰذا جو کسی کے مُرید نہیں ہیں وہ اُنہیں اپنے پِیر صاحب سے بیعت ہونے کی ترغیب دِلاتا ہے۔ بکر اس پر زید کو بُرا بھلا کہتا ہے اور اِعتراض کرتا ہے کہ ترغیب نہ دِلاؤ جسے مُرید ہونا ہو گا وہ خود ہی ہو جائے گا۔ دونوں میں حق بجانِب کون ہے؟
جواب : پیر اُمورِ آخِرت کے لیے بنایا جاتا ہے تاکہ اُس کی رہنمائی اور باطنی توجّہ کی بَرَکت سے مُرید اللہ عَزَّ وَجَلَّ اور اس کے پیارے رسُول صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کی ناراضی والے کاموں سے بچتے ہوئے ’’رِضائے رَبُّ الانام کے مَدَنی کام‘‘کے مطابق اپنی زندگی کے شب و روز گزار سکے۔ اب غور کر لیا جائے کہ یہ بات نیکی ہے یا بدی؟ اگر نیکی ہے اور یقیناً نیکی ہے تو اس کی ترغیب دِلانے والا نیکی کی دعوت دینے والا ہوا اور اس کا یہ فعل حکمِ قرآنی (وَ تَعَاوَنُوْا عَلَى الْبِرِّ وَ التَّقْوٰى ۪-) (پ۶، اَلْمَائِدَة: ۲) ترجمۂ کنزُ الایمان: ’’اور نیکی اور پرہیزگاری پر ایک دوسرے کی مدد کرو۔‘‘میں داخِل ہے لہٰذا زید ثواب کا مستحق ہے۔ اگر اس کے ترغیب دِلانے پر کوئی مُرید ہو کر نیکی کے راستے پر گامزن ہو گیا تو اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّوَجَلَّ زید کے لیے ثوابِ جارِیہ کا سامان ہو گا۔
مُرید ہوتے ہوئے کسی دوسرے پِیرکا مُرید ہونا
سُوال : ایک پیر کے مُرید ہوتے ہوئے کسی دوسرے پیر سے بھی مُرید ہو سکتے ہیں یا نہیں؟ نیز کسی دوسرے پیر صاحب سے طالِب ہونا کیسا ہے ؟
جواب : ایک پیر کے مُرید ہوتے ہوئے کسی دوسرے پیر سے مُرید نہیں ہو سکتے چنانچہ حضرتِ سیِّدُنا علی بن وفار عَلَیْہِ رَحْمَۃُاللّٰہِ الْغَفَّارفرماتے ہیں: جس طرح جہان کے دومعبود
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع