30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اِیمان سلامت لے کر جانے میں کامیاب ہو جاتا ہے اِس ضِمن میں ایک حِکایت مُلاحظہ کیجیے چنانچہ دعوتِ اسلامی کے اِشاعتی ادارے مکتبۃُ المدینہ کی مطبوعہ 561 صفحات پر مشتمل کتاب”ملفوظاتِ اعلیٰ حضرت“ صَفْحَہ493 پر ہے: ”امام فخرُالدِّین رازی رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ کی نزع کا جب وقت آیا ،شیطان آیا کہ اس وقت شیطان پوری جان توڑ کوشش کرتا ہے کہ کسی طرح اس (مرنے والے کا) کا اِیمان سلب ہوجائے (یعنی چھین لیا جائے) ، اگر اس وقت پھرگیا تو پھر کبھی نہ لوٹے گا۔ اُس نے اِن سے پوچھا کہ تم نے عمر بھر مُناظروں مُباحثوں میں گزاری ،خدا کو بھی پہچانا؟ آپ نے فرمایا : بیشک خدا ایک ہے۔اس نے کہا: اس پر کیا دَلیل؟ آپ نے ایک دلیل قائم فرمائی، وہ خبیث مُعَلِّمُ الْمَلَکُوْت (یعنی فرشتوں کا اُستاد) رہ چکا ہے اس نے وہ دلیل توڑ دی۔ اُنہوں نے دوسری دلیل قائم کی اُس نے وہ بھی توڑ دی۔ یہاں تک کہ ۳۶۰ دلیلیں حضرت نے قائم کیں اور اس نے سب توڑ دیں۔ اب یہ سخت پریشا نی میں اور نہایت مایوس۔ آپ کے پیر حضرت نجمُ الدین کبریٰ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کہیں دُور دَراز مقام پر وُضو فرما رہے تھے، وہاں سے آپ نے آواز د ی” کہہ کیوں نہیں دیتا کہ میں نے خُدا کو بے دلیل ایک مانا ۔“اِس حِکایت سے معلوم ہوا کہ کسی مُرشِدِ کامل کے ہاتھ میں ہاتھ دے دیناچاہیے کہ ان کی باطنی توجہ وَسوسۂ شیطانی کو بھی دفع کرتی ہے اور اِیمان کی حفاظت کا بھی ایک مضبوط ذَریعہ ہے۔
دَمِ نَزع شیطاں نہ اِیمان لے لے حِفاظت کی فرما دُعا غوثِ اعظم
مُریدین کی موت توبہ پہ ہو گی ہے یہ آپ ہی کا کہا غوثِ اعظم
مِری موت بھی آئے توبہ پہ مُرشِد! ہوں میں بھی مُرید آپ کا غوثِ اعظم
کرم آپ کا گر ہوا تو یقیناً نہ ہو گا بُرا خاتِمہ غوثِ اعظم
سُوال : مُرید ہونے کا اصل مقصد بھی اِرشاد فرما د یجیے۔
جواب : مُرید ہونے کا اصل مقصد یہ ہے کہ اِنسان مُرشدِ کامل کی رہنمائی اور باطنی توجّہ کی بَرکت سے سیدھے راستے پر چل کر اپنی زندگی شریعت وسنَّت کے مطابق گزار سکے اور اگر راہِ باطن ومعرِفت پر چلنا ہو تو پھر بیعت ہونا ضروری ہے کیونکہ یہ راستہ اِنتہائی کٹھن اور باریک ہے جسے بغیر کسی رہبر کے طے کرنا اپنے آپ کو ہلاکت پر پیش کرنا ہے لہٰذا اس راستے کو کامیابی وکامرانی کے ساتھ طے کرنے کے لیے اِنسان کو مُرشدِ کامل کی ضَرورت ہوتی ہے۔ حُجَّۃُ الْاِسْلَام حضرتِ سیِّدُنا امام محمد غزالی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْوَالِی فرماتے ہیں: مُرید کو کسی مُرشِد و اُستاد کی حاجت ہوتی ہے جو اس کی سیدھے راستے کی طرف رہنمائی کرے کیونکہ دِین کا راستہ اِنتہائی باریک ہے جبکہ اس کے مقابلے میں شیطانی راستے بکثرت اور نمایاں ہیں تو جس کا کوئی مُرشد نہ ہو جو اس کی تربیت کرے تو یقیناً شیطان اسے اپنے راستے کی طرف لے جاتا ہے۔ جو پُر خطر وادیوں میں بغیر کسی کی رہنمائی کے چلتا ہے وہ خود کو ہلاکت پر پیش کرتا ہے جیسے خود بخود اُگنے والا پودا جلد ہی سُوکھ جاتا ہے اور اگر وہ لمبے عرصے تک باقی بھی رہے تو اس کے پتے تو نکل آئیں گے لیکن وہ پھل دار نہیں ہو گا۔ مُرید پر ضَروری ہے کہ وہ مُرشِد کا دَامن اس طرح تھام لے جس طرح اَندھا نہر کے کنارے اپنی جان نہر پار کرانے والے کے حوالے کر دیتا ہے اور اس کی اِتباع میں کسی قسم کی مخالفت نہیں کرتا اور نہ ہی اسے چھوڑتا ہے۔ ([1])
میٹھے میٹھےا سلامی بھائیو! معلوم ہوا کہ مُرید ہونے میں دِینی و اُخروی فوائد پیشِ نظر ہونے چاہئیں مگر بدقسمتی سے فی زمانہ بیشتر لوگوں نے ’’پیری مُریدی‘‘ جیسے اَہم منصب کو بھی محض حُصولِ دُنیا کا ذَریعہ بنا رکھا ہے۔ لوگ پیرِ کامل کا مِعیار یہ سمجھتے ہیں کہ پیر تعویذات یا عملیات میں ماہر ہو جو ہر دُنیوی مشکل حل کر دیا کرے، اگرچہ پیرِکامل کی بَرکت سے بہت سارے دُنیوی مَسائل بھی حل ہوتے ہیں تاہم اسی چیز کو پیرِ کامل کا مِعیار سمجھ لینا اور جہاں کوئی مسئلہ حل نہ ہوا وہاں پیر صاحب کے کامِل ہونے میں شکوک و شبہات میں پڑ جانا سَرا سر جہالت و حماقت ہے لہٰذا مُرید ہوتے وقت مُرشِدِ کامِل کی حقیقی پہچان اور مُرید ہونے کے مَقاصد کو پیشِ نظر رکھنا ضروری ہے ۔
ازپئے غوثُ الوریٰ یامصطَفٰے
میرے اِیماں کی حِفاظت کیجئے
از طفیلِ مُرشِدی دِل سے مِرے
دُور دُنیا کی مَحبَّت کیجئے (وسائلِ بخشش)
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع