دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Peeri Mureedi ki Shari Haisiyat | پیری مریدی کی شرعی حیثیت

book_icon
پیری مریدی کی شرعی حیثیت

بیعت ہونے کے فَوائد و بَرکات

سُوال : بیعت ہونے  سے کیا کیا فَوائد و برکات  حاصل  ہوتے  ہیں؟  

جواب : کسی پیرِ کامل کے ہاتھ میں ہاتھ دے کر بیعت ہونے سے پیرِکامل سے نسبت  حاصل ہو جاتی ہے جس کی بدولت باطِن کی اِصلاح کے ساتھ ساتھ نیکیوں سے محبت اور گناہوں سے نفرت کا جذبہ بیدار  ہوتا ہے۔ پیرِکامل  کی صحبت اور اس کے فَوائد بیان کرتے ہوئے حضرتِ سیِّدُنا فقیہ عبدُالواحد بن عا شر عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَادِر  فرماتے ہیں: عارفِ کامل کی صحبت اِختیار کرو۔ وہ تمہیں ہلاکت کے راستے سے بچائے گا۔ اس کا دیکھنا تمہیں اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی یاد دِلائے گا اور وہ بڑے نفیس طریقے سے نَفْس کا مُحاسَبہ کراتے ہوئے اور”خَطَراتِ قلْب“ (یعنی دل میں پیدا ہونے والے شیطانی وَساوس) سے مَحفوظ فرماتے ہوئے تمہیں اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے ملا دےگا۔اس کی صحبت کے سبب تمہارے فرائض و نوافل محفوظ ہو جائیں گے۔”تصفیۂ قلب“ (یعنی دل کی صفائی)  کے ساتھ ”ذکرِ کثیر“کی دولت میسر آئے گی اور وہ اللہ  عَزَّ وَجَلَّ سے متعلقہ سارے اُمور میں تمہاری مدد فرمائے  گا۔ ([1])  

اعلیٰ حضرت،امامِ اہلسنَّت مولانا شاہ امام احمد رضا خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن  کیبارگاہ میں سُوال ہوا کہ”مُرید ہونا واجب ہے یاسنَّت؟ نیز مُرید کیوں ہوا کرتے ہیں؟  مُرشِد کی کیوں ضرورت ہے اور اس سے کیا کیا فَوائد حاصل ہوتے ہیں؟ “ تو آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے جواباً اِرشاد فرمایا: مُرید ہونا سنَّت ہے اور اس سے فائدہ حضورسیِّدِعالَم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّم سے اِتصالِ مسلسل۔  (صِرَاطَ الَّذِیْنَ اَنْعَمْتَ عَلَیْهِمْ ﴰ )  (پ۱،الفاتحہ : ۶)  ترجمۂ کنزالایمان: ”راستہ ان کا جن پر تو نے اِحسان کیا۔“میں اس کی طرف ہدایت ہے،یہاں تک فرمایا گیا:  مَن لَّا شَیْخَ لَہٗ فَشَیْخُہُ الشَّیْطٰن جس کا کوئی پیر نہیں اس کا پیر شیطان ہے۔ ([2])  صحتِ عقیدت کے ساتھ سلسلہ صحیحہ متصلہ میں اگر اِنتساب باقی رہا تو نظر والے تو اس کے بَرکات ابھی دیکھتے ہیں جنہیں نظر نہیں وہ نزع میں، قبر میں، حشر میں اس کے فوائد دیکھیں گے۔ ([3])   

بیعت ہونے کے فَوائد میں سے یہ بھی ہے کہ یہ  پیرانِ عظام یا اِن سلسلوں کے اَکابرین وبانیان اپنے مُریدین و متعلقین سے کسی بھی وقت غافل نہیں رہتے اور مشکل مقام پر ان کی مدد فرماتے ہیں چنانچہ حضرتِ سَیِّدُنا امام عبدُ الوہاب شعرانی قُدِّسَ  سِرُّہُ النّوْرَانِی فرماتے ہیں:  بے شک سب اَئمہ و اولیا و عُلَمائے ربانیین (و مشائخِ  کرامرَحِمَہُمُ اللّٰہ ُ السَّلَام) اپنے پَیروکاروں اور مُریدوں کی شفاعت کرتے ہیں،جب ان کے مُرید کی روح نکلتی ہے ،جب منکر نکیر اس  سے قبر میں سُوال کرتے ہیں،جب حشر میں اس کا نامۂ اعمال کھلتا ہے،جب اس سے حساب لیا جاتا ہے،جب اس کے اَعمال تولے جاتے ہیں اورجب وہ پل صِراط پر چلتا ہے تو ان تمام مَراحِل میں وہ اس کی نگہبانی کرتے ہیں اور کسی بھی جگہ اس سے  غافل نہیں ہوتے۔ ([4])

ہے عصیاں کے بیمار کا دَم لبوں پر

خدارا لو جلدی خبر غوثِ اعظم

تمہیں میرے حالات کی سب خبر ہے

پریشاں ہوں میں کس قدر غوثِ اعظم      (وسائلِ بخشش)

پیرِکامل کی بَرکت سے اِیمان سلامت رہا

سُوال :  نزع کے وقت پیرِ کامل کا اپنے مُرید کی مدد کرنے کا کوئی واقعہ ہو تو برائے کرم   بیان فرما دیجیے۔  

جواب : جب نزع کا وقت ہوتا ہے تو اس مشکل ترین  وقت میں شیطان اپنے چَیلوں کو مرنے والے کے دوستوں اور رِشتے داروں کی شکلوں میں لیکر آپہنچتا ہے جو اسے دینِ اسلام سے بہکانے کی کوشش کرتے ہیں ،اگر اِنسان کسی پیرِ کامل کا مُرید ہو تو  شیطان کے ان  حیلوں کو  ناکام بناتے ہوئے اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی رحمت اور پیرِ کامل کی بَرکت سے اپنا



[1]   آدابِ مرشدِ کامل، ص۸۲

[2]   اس کی وضاحت کرتے ہوئے اعلیٰ حضرت عَلَیْہِ رَحْمَۃُرَبِّ الْعِزَّت فرماتے ہیں:ہر بد مذہب فَلاح سے دُور ہلاکت میں چُور ہے،  مطلقا ًبے پیرا ہے اور اِبلیس ا س کا پیر،  اگر چہ بظاہر کسی انسان کا مُرید ہوبلکہ خود پیر بنے راہِ سلوک میں قدم رکھے نہ رکھے ہر طرح لَا یُفْلِحُ  وَشَیْخُہُ الشَّیْطَان (فلاح نہیں پائے گا اور اس کا پیر شیطان ہے۔ ) کامِصداق ہے۔ سُنِّی صحیح العقیدہ کہ راہِ سلوک نہ پڑا اگر فسق کرے فلاح پر نہیں مگر پھر بھی نہ بے پیرا ہے نہ اس کا پیر شیطان،  بلکہ جس شیخ جامع شرائط کا مُرید ہو ا س کا مُرید ہے ورنہ مُرشدِ عام کا ۔ (یعنی کَلَامُ اللہ و کلام الرسول و کلامِ ائمہ شریعت و طریقت و کلامِ علمائے دین اہلِ رُشد  و ہدایت ہے اسی سلسلۂ صحیحہ پر کہ عوام کا ہادی کلامِ علماء،  علماء کا رہنما کلامِ ائمہ،  ائمہ کا مُرشِد کلامِ رسول ،  رسول کا پیشوا کلامُ اللہ جَلَّ وَعَلا وَ  صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّم۔) (فتاویٰ رضویہ ، ۲۱ / ۵۱۹-۵۰۵)  

[3]   فتاویٰ رضویہ ، ۲۶ / ۵۷۰ ملتقطا 

[4]   میزانُ  الکبریٰ ، ۱ / ۶۵ 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن