30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ وَ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ علٰی سَیِّدِ الْمُرْسَلِیْنَ ط
اَمَّا بَعْدُ فَاَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ ط بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّ حِیْم ط
(مع دیگر دِلچسپ سُوال جواب)
شیطان لاکھ سُستی دِلائے یہ رسالہ (۳۲ صفحات) مکمل پڑھ لیجیے
اِنْ شَآءَاللّٰہ عَزَّ وَجَلَّ معلومات کا اَنمول خزانہ ہاتھ آئے گا۔
تاجدارِ رسالت ،شہنشاہِ نبوَّت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اِرشاد فرمایا: جو مجھ پر جمعہ کے دن اور رات 100مرتبہ دُرُود شریف پڑھے اللہ عَزَّ وَجَلَّ اس کی 100 حاجتیں پوری فرمائے گا۔70 آخرت کی اور 30 دُنیا کی اور اللہ عَزَّ وَجَلَّ ایک فرشتہ مقرر فرما دے گا جو اس دُرُود ِپاک کو میری قبر میں یوں پہنچائے گا جیسے تمہیں تحائف پیش کیے جاتے ہیں،بِلا شُبہ میرا عِلم میرے وصال کے بعد ویسا ہی ہو گا جیسا کہ میری حیات میں ہے۔ ([1])
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
سُوال : بیعت لینا اور بیعت کرنا کیسا ہے ؟ نیز پیری مُریدی کی شرعی حیثیت بھی بیان فرما دیجیے۔
جواب : بیعت کا لغوی معنیٰ بک جانا اور اِصطلاحِ شرع و تصوّف میں اس کی متعدد صورتیں ہیں جن میں ایک یہ ہے کہ کسی پیرِکامل کے ہاتھوں میں ہاتھ دے کر گزشتہ گناہوں سے توبہ کرنے،آئندہ گناہوں سے بچتے ہوئے نیک اَعمال کا اِرادہ کرنے اور اسے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی مَعْرِفَت کا ذریعہ بنانے کا نام بیعت ہے۔یہ سُنَّت ہے،آج کل کے عُرفِ عام میں اسے ”پیری مُریدی“ کہا جاتا ہے۔ بیعت کا ثبوت قرآنِ کریم میں موجود ہے چُنانچہ پارہ 15سورۂ بنی اسرائیل کی آیت نمبر 71 میں خدائے رحمٰن عَزَّ وَجَلَّ کا فرمانِ عالیشان ہے:
یَوْمَ نَدْعُوْا كُلَّ اُنَاسٍۭ بِاِمَامِهِمْۚ-
ترجمۂ کنزالایمان: جس دن ہم ہر جماعت کو اس کے امام کے ساتھ بلائیں گے۔
اِس آیتِ مُبارَکہ کے تحت مُفَسِّرِ شَہیر،حکیمُ الْامَّت حضرتِ مفتی احمد یا ر خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان فرماتے ہیں: اِس سے معلوم ہوا کہ دُنیا میں کسی صالح (نیک) کو اپنا امام بنا لینا چاہئے شریعت میں ’’تقلید‘‘ کر کے اور طریقت میں’’بیعت‘‘ کر کے تاکہ حشر اچھوں کے ساتھ ہو۔ اگر صالح (نیک) امام نہ ہو گا تو اس کا امام شیطان ہو گا۔اس آیت میں تقلید،بیعت اور مُریدی سب کا ثبوت ہے۔ ([2])
اعلیٰ حضرت،امامِ اہلسنَّت،مجدِّدِ دین وملّت مولانا شاہ امام احمد رضا خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن فرماتے ہیں: بیعت بیشک سنَّتِ محبوبہ (پسندیدہ سنَّت) ہے، امام اَجل، شیخ الشیوخ شہاب الحق والدین عمر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی عوارف شریف سے شاہ ولیُّ اﷲ دِہلوی کی”قولُ الجمیل“ تک اس کی تصریح اور اَئمہ و اکابر کا اس پر عمل ہے اور رَبُّ العزّت عَزَّ وَجَلَّ فرماتاہے:
اِنَّ الَّذِیْنَ یُبَایِعُوْنَكَ اِنَّمَا یُبَایِعُوْنَ اللّٰهَؕ-یَدُ اللّٰهِ فَوْقَ اَیْدِیْهِمْۚ- (پ۲۶،الفتح : ۱۰)
ترجَمۂ کنزالایمان: وہ جو تمہاری بیعت کرتے ہیں وہ تو اللّٰہ ہی سے بیعت کرتے ہیں، ان کے ہا تھوں پر اللّٰہ کا ہاتھ ہے۔
اور فرماتا ہے:
لَقَدْ رَضِیَ اللّٰهُ عَنِ الْمُؤْمِنِیْنَ اِذْ یُبَایِعُوْنَكَ تَحْتَ الشَّجَرَةِ (پ۲۶،الفتح : ۱۸)
ترجَمۂ کنزالایمان: بیشک اللّٰہ راضی ہوا ایمان والوں سے جب وہ اس پیڑ کے نیچے تمہاری بیعت کرتے تھے۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع