30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
تمام تر آداب کو ملحوظِ خاطر رکھ کر ہی دُعا مانگی جائے تاکہ دُعا قبولیت کے زیادہ قریب ہو۔ رہی بات نماز کے بعد ہاتھوں کو اُٹھا کر دُعا مانگنے اور انہیں چہرے پر پھیرنے کی تو اس کے بارے میں اعلیٰ حضرت، امامِ اہلسنَّت، مجدِّدِ دین وملّت مولانا شاہ امام احمد رضا خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن فرماتے ہیں: نماز کے بعد دُعا مانگنا سُنَّت ہے اور ہاتھ اُٹھا کر دُعا مانگنا اور بعدِ دُعا منہ پر ہاتھوں کو پھیر لینا یہ بھی سُنَّت سے ثا بت ہے ۔ ([1])
دُعا کے بعد دونوں ہاتھ چہرے پر پھیرنے میں حِکمت
سُوال : دُعا کے بعد دونوں ہاتھ چہرے پر پھیرنے میں کیا حِکمت ہے؟
جواب : دُعا کے بعد دونوں ہاتھ چہرے پر پھیرنے میں یہ حکمت ہے کہ دُعا میں جو خیر و بَرَکت حاصِل ہوئی وہ چہرے سے مَس ہو جائے چنانچہ رَئِیْسُ الْمُتَکَلِّمِیْن حضرتِ علّامہ مولانا نقی علی خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْمَنَّان’’اَحْسَنُ الْوِعَاءِ لِآدَابِ الدُّعَاءِ‘‘ میں فرماتے ہیں: ”بعدِ فراغ (یعنی دُعا سے فارِغ ہونے کے بعد) دونوں ہاتھ چہرے پر پھیرے کہ وہ خیر و برکت جو بذریعہ دُعا حاصل ہوئی اَشر فُ الْاعضاء یعنی چہرے سے مُلاقِی (یعنی مَس) ہو۔“اس کے حاشیے ’’ذَ یْلُ الْمُدَّ عَا ءِ لِاَحْسَنِ الْوِعَاءِ‘‘میں اعلیٰ حضرت عَلَیْہِ رَحْمَۃُرَبِّ الْعِزَّت حدیثِ پاک نقل فرماتے ہیں کہ حضرتِ سَیِّدُنا عبدُ اللہ ابنِ مسعود رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے رِوایت ہے کہ نبیٔ کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اِرشاد فرمایا: جب تم اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی بارگاہ میں ہاتھ اُٹھا کر دُعا و سُوال کرو تو انہیں منہ پر پھیر لو کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ شرم و کرم والا ہے۔ جب بندہ دونوں ہاتھ اُٹھاتا اور سُوال کرتا ہے تو اللہ عَزَّ وَجَلَّ ہاتھ خالی پھیرنے سے شرماتا ہے لہٰذا اس خیر کو اپنے چہرے پر مسح کرو۔ ([2]) - ([3])
٭…٭…٭…٭…٭…٭
پیر ہونے کے لیے سیِّد ہونا ضروری نہیں
اعلیٰ حضرت،امامِ اہلسنَّت مولانا شاہ امام احمد رضا خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰنفرماتے ہیں: (پیر ہونے کے لئے سیِّد اور آلِ رسول ہونے کو ضروری سمجھنا ) یہ محض باطل ہے، پیر ہونے کے لئے وہی چار شَرطیں دَرکار ہیں،ساداتِ کرام سے ہونا کچھ ضَرورنہیں۔ہاں! ان شرطوں کے ساتھ سیِّدبھی ہو تو نُورٌ علیٰ نُور۔ باقی اسے شرط ضروری ٹھہرانا تمام سَلاسلِ طریقت کا باطل کرناہے۔ سلسلۂ عالیہ قادریہ سلسلۃُ الذہب میں سیِّدُنا امام علی رضا اور حضور سیِّدُنا غوثِ اعظمرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا کے درمیان جتنے حضرات ہیں کوئی ساداتِ کرام سے نہیں اور سلسلۂ عالیہ چشتیہ میں تو اَمیرُالمؤمنین مولیٰ علیکَرَّمَ اللّٰہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم کے بعد ہی سے امام حسن بصری (عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی) ہیں کہ نہ سیِّد نہ قریشی نہ عربی اورسلسلۂ عالیہ نقشبندیہ کا خاص آغاز ہی حضور سیِّدُنا صدیقِ اکبر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے ہے، اسی طرح دیگر سَلاسِل۔ (فتاویٰ رضویہ ، ۲۶/۵۷۶)