30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ایہہ تَن میرا (میرا یہ سارا جسم) چَشْمَاں (آنکھیں) رَجّاں (جی بھر جانا) لُوں لُوں (بدن کا ہر ایک انگ، جز) مُڈھ (جڑ) کَجّاں (بند کرنا، ڈھک دینا) کِتے وَل (کس طرف) بھَجّاں (بھاگنا) مرشِد دا دیدار (مرشِد کی زیارت)
حضرت سلطان باہو رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ اپنے مشہورِ زمانہ عارفانہ کلام میں فرماتے ہیں : کاش میرا یہ سارا بدن آنکھ بن جائے ، بلکہ ہر روئیں کے ساتھ لاکھوں آنکھیں پیدا ہو جائیں تا کہ ایک بند کروں تو دوسری کھل جائے پھر بھی میرا جی مرشِد کے دیدار سے نہ بھرے گا۔ جی بھر کے دیکھنے کے باوجود بھی کسی کروٹ قرار نہیں کیونکہ دوسرا اس جیسا کوئی ہے ہی نہیں کہ جس کی طرف بھاگ کر جاؤں، بلکہ مرشِد کی زیارت تو میرے لیے لاکھ کروڑ حج کے برابر ہے ۔
اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی امیراہلِسنّت پَر رَحْمت ہو اور ان کے صدْقے ہماری بے حساب مغفِرت ہو۔
صَلُّوا عَلَی الْحَبیب! صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! مرید ین و مُتَعَلِّقِین کا اپنے پیرومرشِد اور امیر سے مُعافی مانگنا تو سمجھ میں آتا ہے مگر ایک ایسی ہستی جو مرجعِ خلائق ہواور لاکھوں مسلمان اس کے دامنِ کرم سے وابستہ ہوکر اس کے مرید بن چکے ہوں، وہ اس طرح عاجزی اپناتے ہوئے اپنے مریدوں سے مُعافی مانگنے میں عار
مَحسوس نہ کرے تو یہی کہا جاسکتا ہے کہ یہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا امیر اَہلسنّت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ پر خُصوصی کرم ہے ۔ آپ کا یہ انداز ہرمسلمان کے لئے مشعلِ راہ ہے ۔
میرا پیر، میراپیر، میرا پیر، میرا پیر، میراپیر
چور ڈاکو آندے نے ، نمازی بن جاندے نے
عاشق لندن پیرس دے حاجی بن جاندے نے
مٹھا مرشِد دیکھو تقدیراں اے سنواردا
میرا پیر، میراپیر، میرا پیر، میرا پیر، میراپیر
مرشِد دا دیدار وے باہو، لکھ کروڑاں حجاں ھُو
کنی پیاری گل اے دسی سانوں حضرت باہو
جلوا دیکھو مرشِد دا، سینہ پیا ٹھاردا
میرا پیر، میراپیر، میرا پیر، میرا پیر، میراپیر
نہ میں عالم نہ میں حافظ نہ میں ناظم نہ میں قاری
مرشِد نال ہوئی یاری ہوگیا یارو عطاری
شالا رکھے قائم رکھے سگ عطار دا
میرا پیر، میراپیر، میرا پیر، میرا پیر، میراپیر
صَلُّوا عَلَی الْحَبیب! صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
دو عالم کے مالِک و مختار باذنِ پروردگار، مکی مَدَنی سرکار صَلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا فرمانِ ذی وقار ہے : جس پر کوئی احسان کیا جائے اور وہ طاقت رکھتا ہو تو اس احسان کا بدلہ ضرور دے ورنہ احسان کرنے والے کی تعريف ہی کر دے کيونکہ جس نے احسان کرنے والے کی تعريف کی اس نے شکریہ ادا کيا اور جس نے کسی کے احسان کو چھپايا اس نے ناشکری کی۔
(الترمذی، ابواب البروالصلۃ ، باب ماجاء فی المتشبع۔۔۔الخ، الحدیث : ۲۰٤١، ج٢، ص٤١٧)
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!معلوم ہوا جب کسی کااحسان چھپانا کفرانِ نعمت یعنی ناشکری ہے تو اس شخص کی ناشکری کا عالَم کیا ہو گا جو اپنے سب سے بڑے محسن یعنی پیر و مرشِد کے احسان کو یکلخت بھلا دے جن کی برکت سے اسے اپنی اور اپنے رب 1 کی پہچان ملی۔ چنانچہ،
فتاویٰ رضویہ شریف میں اعلیٰ حضرت، امام اہلسنت، مجدد دین و ملت، پروانۂ شمع رسالت، مولانا شاہ امام احمد رضا خان عَلَیْہِ رَحمَۃُ الرَّحْمٰن نے حضرت شاہ ولی اللہ دہلوی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہ ِالْقَوِی کا یہ قول نقل فرمایا ہے کہ شیخ کی تعظیم خالقِ کائنات کی تعظیم ہے اور شیخ کی نعمت کا شکر اس نعمت کو عطا کرنے والے اللہ کا شکر ہے ۔ (فتاویٰ رضویہ، ج۲۷، ص ۸۵۔۔۔ کلماتِ طیبات فصل چہارم درمکتوبات شاہ ولی اللہ دہلوی مطبع مجتبائی دہلی ص ۱۶۳ ) جو شخص اپنے محسن کے احسانات بھول جائے ، ان کا تذکرہ کرے نہ شکریہ ادا کرے تو وہ قربِ خداوندی سے بھی محروم رہتا ہے ۔ جیسا کہ سرکارِ والا تَبار، ہم بے کسوں کے مددگار صَلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا فرمانِ نصیحت نشان ہے : جو لوگوں کا شکر ادا نہيں کرتا وہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا شکر گزار بھی نہيں ہو سکتا۔(ابو داود، کتاب الادب، باب فی شکر المعروف، الحدیث : ۴۸۱۱، ج٤، ص٣٣٥)
اللہ کے محبوب، دانائے غیوب صَلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا فرمانِ عبرت نشان ہے : جس نے کسی مسلمان کو تکلیف دی اس نے مجھے تکلیف دی اور جس نے مجھے تکلیف دی اس نے
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع