دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Partnership Aur Is Ke Zaroori Ahkam | شرکت اور اس کے ضروری احکام

book_icon
شرکت اور اس کے ضروری احکام
            

پارٹنر شپ (Partnership) میں پارٹنرزکا کم زیادہ وقت دینا

پارٹنر شپ میں یہ ضروری نہیں کہ دونوں پارٹنر برابر کا وقت دیں اور برابر ہی کام کریں بلکہ ایک پارٹنر کم وقت دے ، کم کام کرے اور دوسرا پارٹنر زیادہ وقت دے، زیادہ کام کرے تو اس میں کوئی حرج نہیں۔

سرمایہ (Capital)برابر یا کم زیادہ ہو تو نفع و نقصان کا حکم

دونوں پارٹنرز کا سرمایہ چاہے برابر ہو یا ایک پارٹنر کا کم اور دوسرے کا زیادہ۔ نفع (Profit)کا اصول یہ ہے کہ نفع باہمی رضامندی سے جتنا چاہیں مقرر کرسکتے ہیں لیکن فیصد (Percentage)میں ہی مقرر کرنا ہوگا۔ البتہ اگر نقصان (Loss)ہوتا ہے تو وہ سرمایہ (Capital)کے تناسب (Ratio)سے ہی دونوں کو برداشت کرنا ہوگا۔ مثلاً ایک پارٹنر کا سرمایہ 5,00,000 روپے اور دوسرے کا سرمایہ 15,00,000 روپے ہے تو یہ باہمی رضامندی سے نفع سرمایہ کے تناسب سے ( ایک پارٹنر کا 25 فیصد اور دوسرے کا 75 فیصد بھی) طے کرسکتے ہیں اور اس سے ہٹ کر مثلاً دونوں کا برابر برابر یا ایک پارٹنر کا 60 فیصد اور دوسرے کا 40 فیصد بھی طے کرسکتے ہیں لیکن اگر نقصان ہو تو وہ دونوں پارٹنرز کے درمیان سرمایہ کی فیصد کےا عتبار سے ہی ڈالا جائے گا یعنی مذکورہ مثال میں 5,00,000 روپے سرمایہ والے کو 25 فیصد نقصان برداشت کرنا ہوگا اور 15,00,000 روپے سرمایہ والے کو 75 فیصد نقصان برداشت کرنا ہوگا۔

نفع ونقصان (Profit & Loss)کی تقسیم کاری کا طریقہ

کاروبار میں اخراجات (Expenses)نکال کر سرمایہ (Capital) سے زائد جو رقم بچے اسے نفع (Profit) کہتے ہیں اور اگر اخراجات (Expenses)نکال کر سرمایہ (Capital) سے بھی کم بچے تو یہ کمی نقصان (Loss) کہلاتی ہے ۔ اگر اخراجات (Expenses) نکال کر سرمایہ (Capital) سے زائد رقم بچے تو اسے تمام پارٹنرز طے شدہ فیصد (Percentage)کے اعتبار سے آپس میں تقسیم کرلیں گے۔ اگر اخراجات (Expenses) نکال کر سرمایہ (Capital) سے زائد کچھ نہ بچا بلکہ صرف سرمایہ (Capital) کے برابر ہی رقم بچی تو جس پارٹنر نے جتنا سرمایہ لگایا تھا اتنی رقم اس کو دے دی جائے گی۔ اگر اخراجات (Expenses) نکال کر سرمایہ (Capital) سے کم رقم بچی تو جتنی کمی ہے وہ پہلے نفع (Profit) سے پوری کی جائے گی یعنی جتنا نفع پارٹنرز لے چکے ہیں وہ تناسب (Ratio)کے اعتبار سے اتنا نفع واپس کریں گے کہ سرمایہ (Capital) کی رقم پوری ہوجائے۔ اگر لیا ہوا نفع واپس کرنے کے بعد بھی کیپٹل کی رقم پوری نہ ہو تو پھر یہ نقصان پارٹنرز کو انویسٹمنٹ (Investment)کے تناسب (Ratio)سے برداشت کرنا ہوگا یعنی جس کی جتنی فیصد انویسٹمنٹ تھی اس کو نقصان بھی اتنا ہی فیصد برداشت کرنا ہوگا۔

فکسڈ (Fixed)نفع مقرر کرنا

پارٹنر شپ میں نفع فیصد(Percentage) میں طے کرنا ضروری ہے، فکس رقم نفع میں مقرر کرنا، جائز نہیں کیونکہ یہ معلوم نہیں کہ نفع کتنا ہوگا ا ب اگر ٹوٹل نفع اتنا ہی ہوا جتنا ایک پارٹنر کے لئے فکس کیا تھا تو سب کا سب ایک ہی پارٹنر کو مل جائے گا مثلاً ایک پارٹنر کے لئے پانچ ہزار روپے نفع مقرر کرلیا تھا اور نفع ہوا ہی ٹوٹل پانچ ہزار تو دوسرے پارٹنر کو کچھ نہیں ملے گا۔ اسی لئے شریعتِ مطہرہ نے فیصد کے حساب سے نفع مقرر کرنے کا حکم دیا تاکہ جتنا بھی نفع ہو تمام پارٹنرز میں فیصد(Percentage) کے اعتبار سے تقسیم ہوجائے۔

کیا نفع (Profit)کل سرمایہ (Capital)کی فیصد پر طے کیا جاسکتا ہے؟

جی نہیں! سرمایہ کی فیصد طے کرنے کا مطلب نفع فکس کرنا ہی ہے مثلاً 50 لاکھ روپے سرمایہ ہے اس کا اگر 30 فیصد نفع مقرر کیا تو پندرہ لاکھ روپے بنے جو کہ فکس نفع ہے اور نفع فکس کرنا، جائز نہیں۔ لہٰذا اس کے بجائے نفع کی فیصد مقرر کی جائے یعنی جتنا بھی نفع ہوگا اس کا اتنا فیصد ملے گا اب چاہے نفع کم ہو یا زیادہ اس کا جو تناسب (Ratio) فریقین کے لئے مقرر ہے وہ دیا جائے گا اس طرح رقم فکس نہیں ہوگی۔

نفع ونقصان (Profit & Loss)کا حساب کتنے عرصے بعد کیا جائے؟

شرعی اصولوں کے مطابق شرکت قائم ہوجانے کے بعد دو یا زائد افراد یا دوسرے الفاظ میں دو فریق جو مل کر کام کرتے ہیں یہ ایک طرح سے ایک کمپنی (Company)قائم کرتے ہیں اب یہ کمپنی کے لئے جو کچھ خریدیں اور بیچیں گےاس کا حساب رکھیں گے اور جب چاہیں یہ دیکھ سکتے ہیں کہ یہ کمپنی کہاں کھڑی ہے یعنی نفع ہو رہا ہے یا نہیں ؟ رہی یہ بات کہ حساب کتاب ہر ڈیل (Deal)پر کرکے نفع تقسیم کرنا ہے یا سال بعد یا کسی بھی موقع پر کرنا، یہ ایک اختیاری اور انتظامی مسئلہ ہے فریقین اس کو اپنی مرضی سے طے کر سکتے ہیں۔ اگر صرف ایک پارٹنر کے پاس سرمایہ ہو دوسرے کے پاس کچھ نہ ہو تو نفع و نقصان میں شرکت کا کیا طریقہ ہوگا؟ اگر صرف ایک پارٹنر کے پاس سرمایہ ہے دوسرے کے پاس سرمایہ لگانے کے لئےمال نہیں ہے اور دونوں نفع نقصان میں شرکت کی بنیاد پر پارٹنر شپ کرنا چاہتے ہیں تو اس کا آسان طریقہ یہ ہے کہ جس کے پاس مال ہے وہ مثلاً اپنا آدھا مال دوسرے پارٹنر کو بطورِ قرض دے دے اور قرض واپس کرنے کی کوئی ممکنہ مدت طے کر لیں ۔ اب دونوں پارٹنرز اپنی اپنی طرف سے سرمایہ ملاکر پارٹنر شپ کرلیں اور قرض لینے والا مقررہ مدت پر قرض واپس کر دے۔

کام نہ کرنے والے پارٹنر کا زیادہ نفع لیناکیسا؟

جو پارٹنر کام نہیں کر رہا یعنی اس نے سرمایہ تو ملایا ہے لیکن سلیپنگ پارٹنر(Sleeping Partner) ہے وہ اپنے سرمایہ (Capital) کے تناسب سے زیادہ نفع مقرر نہیں کر سکتا مثلاً اس پارٹنر نے 30 فیصد رقم ملائی اور کام بھی نہیں کر رہا تو یہ نفع 30 فیصد تک ہی مقرر کرسکتا ہے اس سے زیادہ نفع اس کے لئے مقرر نہیں کیا جاسکتا۔

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن