30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
امر نہ واقِع ہوا ہو جس سے اُس کے نکاح سے نکل جائے ۔ (بہارِ شریعت ج اوّل ص ۸۱۲ )
سُوال : اپنی مرحومہ بیوی کو شوہر غسل دے سکتا ہے یا نہیں ؟
جواب : نہیں دے سکتا ۔ فُقَہائے کرام رَحِمَہُمُ اللّٰہُ السّلامفرماتے ہیں : عورت مر جائے تو شوہر نہ اُسے نہلا سکتا ہے نہ چُھو سکتا ہے اور دیکھنے کی مُمانَعَت نہیں ۔ ( ایضاًص۸۱۳، دُرِّمُختارج۳ص۱۰۵، )
سُوال : کیا شوہر اپنی مرحومہ بیوی کا منہ بھی نہیں دیکھ سکتا ؟
جواب : منہ دیکھ سکتا ہے ۔ بہارِشریعت میں ہے : عوام میں جو یہ مشہور ہے کہ شوہر عورت کے جنازہ کو نہ کندھا دے سکتا ہے نہ قَبْر میں اُتار سکتا ہے نہ ہی مُنہ دیکھ سکتا ہے یہ محض غَلَط ہے ۔ صرف نہلانے اور اُس کے بدن کو بلا حائل ہاتھ لگانے کی مُمانَعَت ہے ۔ (بہارِ شریعت ج اوّل ص ۸۱۲)
سُوال : میاں اپنی بیوی کو نہیں نہلا سکتا جبکہ بیوی اپنے میاں کو نہلا سکتی ہے اس میں کیا حکمت ہے ؟
جواب : شوہر کا مرنے کے فوراً بعد نِکاح ٹوٹ جاتا ہے جبکہ عورت کا عدّت تک بعض احکام میں نِکاح باقی رہتا ہے ۔ چُنانچِہ میرے آقا اعلیٰ حضرت عَلَیْہِ رَحمَۃُ ربِّ الْعِزَّت فرماتے ہیں : شوہر بعدِ وفات اپنی عورت کو دیکھ سکتا ہے مگر اُس کے بدن کو چُھونے کی اجازت نہیں ، اس لئے کہ موت واقِع ہو جانے سے نِکاح مُنْقَطَع ہو جاتا( یعنی ٹوٹ جاتا )ہے ۔ اور عورَت جب تک عدّت میں ہے اپنے شوہرِ مُردہ کا بدن چُھو سکتی ہے ، اُسے غسل دے سکتی ہے جبکہ اس سے پہلے بائن(یعنی ایسی طلاق جس میں دوبارہ نِکاح کی ضَرورت ہو صرف رُجوع کر لینے سے کام نہ چل سکتا ہو)نہ ہو چکی ہو، اِس لئے کہ عدّت کی وجہ سے عورَت کے حق میں اس کا نِکاح باقی رہتا ہے ۔ ( فتاویٰ رضویہ ج۲۲ ص ۲۳۴)

غمِ مدینہ و بقیع و مغفرت و
بے حساب جنّت الفردوس میں
آقا کے پڑوس کا طالب
![]()
۱ رجب المرجب ۱۴۳۰ھ
2009-06-24