دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Paneer (Cheese) Ka Sharai Hukum | پنیر (cheese) کا شرعی حکم

book_icon
پنیر (cheese) کا شرعی حکم
            
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ رینیٹ (Rennet) اس مادہ کو کہتے ہیں، جو پنیر بنانے میں استعمال ہوتا ہے۔یہ مادہ اس جانور(بکری یا گائے وغیرہ ) کے پیٹ سے حاصل کیا جاتا ہے،جو ابھی تک دودھ پیتا ہے اور گھاس وغیرہ کھانا شروع نہیں کرتا۔اسے فارسی میں ”پنیر مایہ “ کہا جاتا ہے ۔ سوال یہ ہے کہ اگرحرام جانور، مردہ جانور ، یا غیر شرعی طور پر ذبح کیے ہوئے حلال جانور کے پیٹ سے یہ مادہ حاصل کیا جائے اور اس سے پنیر بنایا جائے ، تو کیا ایسے پنیر کا استعمال کرنا ، جائز ہے؟نیز اگر غیر مسلم لوگوں کا بنایا ہوا پنیر ہمارے پاس آتا ہے ،تو کیا اس پنیر کو استعمال کرنا ہمارے لیے جائز ہوگا ؟ بسم اللہ الرحمن الرحیم

الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق وا لصواب

حلال جانور کو اگر صحیح شرعی طریقے سے ذبح کیا ہو،تو اس سے حاصل ہونے والا رینیٹ (Rennet)/ پنیر مایہ ، سب علماء کے نزدیک حلال ہےاور اس سے بننے والا پنیر بھی حلال و جائز ہوگا۔ حلال جانور جو مُردار ہو جائے یعنی وہ جو بغیر ذبح مر جائے یا جسےصحیح شرعی طریقے سے ذبح نہ کیا گیا ہو،اس سے حاصل ہونے والا رینیٹ(Rennet)/ پنیر مایہ امام اعظم ابو حنیفہ رحمۃاللہ علیہ کے مذہب کے مطابق پاک ہے اور اس سے بنایا ہوا پنیر استعمال کرنا بھی حلال و جائز ہے۔یہی مذہب مختار ہے ، ہاں بطورِ احتیاط بہتر یہ ہے کہ اس طرح کے پنیر کو استعمال نہ کیا جائے۔ اور خنزیر یا حرام جانور( غیر ماکول اللحم ) سے حاصل ہونے والا رینیٹ (Rennet) / پنیر مایہ ، ناپاک و حرام ہوتا ہے اور اس سے بنایا ہوا پنیر استعمال کرنا بھی جائز نہیں ہے۔ اگر غیر مسلم لوگوں کا بنایا ہوا پنیر ہمارے پاس آئےاور یہ معلوم نہیں کہ کس جانور سے حاصل کردہ رینیٹ(Rennet)/ پنیر مایہ سے یہ پنیر بنایا گیا ہے،تو بھی اس پنیر کو استعمال کرنا ، جائز ہے، ہاں اگر یہ بات ثابت ہو جائے کہ یہ پنیر کسی حرام جانور سے حاصل کردہ رینیٹ (Rennet)/ پنیر مایہ سے بنایا گیا ہے ، تو اب اس کا استعمال کرنا ، جائز نہ ہوگا ۔

تفصیل کچھ یوں ہے کہ

حلال جانور جو مردار ہو جائے ، اس سے حاصل ہونے والا رینیٹ (Rennet)/ پنیر مایہ ،پاک و حلال ہوگا یا نہیں ؟ اس حوالے سے ائمہ مجتہدین کے مابین اختلاف ہے: ٭احناف کے ائمہ ثلاثہ (یعنی امام اعظم ابو حنیفہ ، امام ابو یوسف اور امام محمد رحمھم اللہ ) کا اس بات پر تو اتفاق ہے کہ جانور کے مرنے سے جانور کے وہی اَجزاء ناپاک قرارپاتے ہیں جن میں حیات ہوتی ہے اور جن اجزاء میں حیات نہیں ہوتی ، وہ اَجزاء جانور کے مرنے کی وجہ سے ناپاک قرار نہیں پاتے ، جیسے مردار کے بال ،وہ ہڈی جس پر دسومت نہ ہو ، اور اس کا دودھ وغیرہ۔ ٭اور اس بات پر بھی اتفاق ہے کہ جوحلال جانور ابھی چارہ کھانے کی عمر تک نہ پہنچا ہو، بلکہ ابھی فقط دودھ پیتا ہو وہ اگر مرجائے ،تو اس کے معدے سے زرد رنگ کا دودھ نما جو مادہ حاصل ہوتا ہے ، جسے رینیٹ(Rennet)/ پنیر مایہ کہا جاتا ہے ، اس میں بھی حیات نہیں ہوتی ، لہٰذا جانور کے مرجانے کی وجہ سے اس (مادے )کو مردار یا ناپاک نہیں قرار دیا جائے گا۔ ٭اور اس بات میں بھی اتفاق ہے کہ رینیٹ(Rennet)/ پنیر مایہ کا ظرف یعنی معدہ ، جس میں یہ موجود ہوتا ہے ، وہ چونکہ جانور کے جسم کا ایسا حصہ ہے جس میں حیات ہوتی ہے ، لہٰذا جانور کے مرجانے کی وجہ سے وہ ظرف / معدہ بھی مردار اور ناپاک قرار پائےگا ۔ ان اتفاقی باتوں کے بعد ایک پہلو یہ ہے کہ جانور کے مرنے کی وجہ سے جب وہ ظرف/ معدہ مردار اور ناپاک ہو گیا ،جس میں یہ رینیٹ(Rennet)/ پنیر مایہ ہے ، تو اب اس کی وجہ سے پنیر مایہ بھی ناپاک مانا جائے گایا نہیں ؟ اس میں ہمارے ائمہ کا اختلاف ہے۔ ٭ صاحبین یعنی امام ابو یوسف اور امام محمد رَحِمَھُمَا اللہُ کا مؤقف یہ ہے کہ جانور کے مرنے کی وجہ سےوہ ظرف (معدہ ) جس میں یہ رینیٹ(Rennet)/ پنیر مایہ ہوتا ہے ، وہ ناپاک ہوگیا ،تو اب اس کی وجہ سے رینیٹ(Rennet)/ پنیر مایہ بھی ناپاک قرار پائے گا۔پھراگریہ رینیٹ(Rennet)/ پنیر مایہ ،منجمد کیفیت میں حاصل ہوا ہے ، توظرف کے ناپاک ہونے کی وجہ سے اس کا فقط ظاہری اور اوپری حصہ ہی ناپاک قرار پائے گا ، لہٰذا منجمد کیفیت میں ہی اس کو اوپر سے دھوکر پاک کر لیا جائے ، تو یہ پاک ہو جائے گا اور پھر اس کے بعد اس سے پنیر بنانا اور اس پنیر کو کھانا ، جائز ہوگااور اگر رینیٹ(Rennet)/ پنیر مایہ منجمد نہیں ، بلکہ مائع کیفیت میں حاصل ہوا ، تو اب اس تمام کو ہی ناپاک مانا جائے گا اور وہ پاک نہیں ہو سکے گا، لہٰذا اس کو پنیر بنانے کے لیے استعمال کرنااور اس سے بنا ہوا پنیر کھانا ، جائز نہیں ہوگا۔ ٭ امام اعظم رضی اللہ تعالی عنہ کا مؤقف یہ ہے کہ جانور کے مرنے کی وجہ سےوہ ظرف (معدہ)جس میں یہ رینیٹ(Rennet)/ پنیر مایہ ہوتا ہے، وہ اگرچہ مردار و ناپاک ہوگیا ، لیکن اس کے اندر موجود چیز (رینیٹ(Rennet)/ پنیر مایہ) کو ناپاک قرار نہیں دیا جائے گا ، کیونکہ اصول یہ ہے کہ کوئی بھی چیز اپنے معدن (یعنی اپنے قدرتی و خلقی مقام) میں جب تک موجود ہے، اس وقت تک اسے ناپاک قرار نہیں دیا جا سکتا اور پھر جب یہ ظرف سے باہر آئے گا، تو اس وقت بھی اسے ناپاک نہیں قرار نہیں دیا جائےگا ، کیونکہ یہ اپنی اصل حیثیت کے اعتبار سے پاک ہی تھا ، اب فقط اسے ظرف سے باہر لایا گیا ہے اور کسی پاک چیز کو اس کے ظرف سے باہر لانا اس کے نجس (ناپاک)ہونے کا سبب نہیں ہے۔ (بخلاف جسم میں موجود خون کے ، کہ وہ اپنی اصل حیثیت کے اعتبار سے ناپاک تھا اور جسم میں موجود ہونے کی وجہ سے عارضی طور پر ہم نے ناپاکی کا حکم اس پر جاری نہیں کیا ، لیکن جب وہ جسم سے باہر آیا، تو اب اس کا اصل حکم نجس ہونا ،لوٹ آیا اور وہ ناپاک قرار پایا ) یہی وجہ ہے کہ جانور کا دودھ حالانکہ خون اور گوبر کے درمیان سے نکلتا ہے، لیکن اس کے باوجود پاک اورحلال ہوتا ہے۔

مذکورہ بالا تفصیل سے متعلق چند عبارات ملاحظہ فرمائیں

صاحب فتح القدیر امام ابن ہمام رحمۃ اللہ تعالی علیہ لکھتے ہیں: ”كل ما لا تحله الحياة من أجزاء الهوية محكوم بطهارته بعد موت ما هي جزؤه كالشعر والريش والمنقار والعظم ۔۔۔ واللبن والبيض الضعيف القشر والإنفحة، لا خلاف بين أصحابنا في ذلك، وإنما الخلاف بينهم في الإنفحة واللبن هل هما متنجسان؟ فقالا نعم لمجاورتهما الغشاء النجس، فإن كانت الإنفحة جامدة تطهر بالغسل وإلا تعذر طهرهما وقال أبوحنيفة: ليسا بمتنجسين، وعلى قياسهما قالوا في السخلة إذا سقطت من أمها وهي رطبة فيبست ثم وقعت في الماء لا ينجس لأنها كانت في معدنها ملتقطا ترجمہ: جاندار کے اَجزاء میں سے ہر وہ جزجس میں حیات نہیں ہوتی ، اس جز پر اس جاندار کے مرنےکے بعد بھی طہارت کا ہی حکم ہوگا ،جیسے بال، پر ، چونچ، ہڈی ، دودھ اور کمزور چھلکے والا انڈہ ، پنیر مایہ ، اس حوالے سے ہمارے ائمہ کے مابین کوئی اختلاف نہیں ہے۔ ائمہ کے مابین اختلاف اس بات پر ہے کہ پنیر مایہ اور دودھ متنجس قرار پائیں گے یا نہیں؟ صاحبین فرماتے ہیں کہ اپنے ناپاک ظرف کی مجاورت کی وجہ سے یہ دونوں چیزیں ناپاک ہو جائیں گی۔ پھر اگر پنیر مایہ منجمد تھا، تو وہ دھونے سے پاک ہو جائے گا، ورنہ اس کو پاک کرنا ، ممکن نہیں اور امام اعظم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ یہ دونوں چیزیں (ظرف کی مجاورت کی وجہ سے بھی )ناپاک نہیں ہوں گی ۔ ان دونوں چیزوں پر قیاس کرتے ہوئے ہی مشائخ نے مزید یہ فرمایا ہے کہ : ”بکری کا چھوٹا بچہ جو ابھی پیدا ہو کر ماں کے جسم سے نکل کر گرا اور اس کے جسم پررطوبت تھی ،پھر وہ خشک ہوگیا اورپانی میں گر گیا تو پانی ناپاک نہیں ہوگا، کیونکہ رطوبت اپنے معدن میں موجود تھی۔(1) بدائع میں ہے: ”وأما الإنفحة المائعة واللبن فطاهران عند أبي حنيفة، وعند أبي يوسف ومحمد نجسان، (لهما) أن اللبن وإن كان طاهرا في نفسه لكنه صار نجسا لمجاورة النجس، ولأبي حنيفة قوله تعالى﴿وَ اِنَّ لَكُمْ فِی الْاَنْعَامِ لَعِبْرَةًؕ-نُسْقِیْكُمْ مِّمَّا فِیْ بُطُوْنِهٖ مِنْۢ بَیْنِ فَرْثٍ وَّ دَمٍ لَّبَنًا خَالِصًا سَآىٕغًا لِّلشّٰرِبِیْنَ ﴾ النحل: 66 وصف اللبن مطلقا بالخلوص والسيوغ مع خروجه من بين فرث ودم، وذا آية الطهارة “ترجمہ:( مردار کے معدے سے) مائع شکل میں حاصل ہونے والا پنیر مایہ اور دودھ امام اعظم رَحِمَہُ اللہُ کے نزدیک پاک ہے اور امام ابویوسف و امام محمد رحمھما اللہ کے نزدیک یہ نجس ہیں۔ ان دونوں کی دلیل یہ ہے کہ دودھ اگرچہ اپنی ذات کے اعتبار سے پاک تھا، لیکن نجس چیز کی مجاورت کی وجہ سے یہ بھی نجس ہوگیا اور امام اعظم رضی اللہ عنہ کی دلیل یہ ہے کہ اللہ تعالی نے قرآن پاک میں ارشاد فرمایا ہے: ”اور بےشک تمہارے لیے چوپایوں میں نگاہ حاصل ہونے کی جگہ ہے ۔ ہم تمہیں پِلاتے ہیں اس چیز میں سے جوان کے پیٹ میں ہے ،گوبر اور خون کے بیچ میں سے خالص دودھ، گلے سے سہل اترتا پینے والوں کے لیے۔ “یہاں اللہ تعالی نے دودھ کی مطلقاً یہ صفت بیان کی ہے کہ یہ خالص اور سائغ ہے باوجود اس کے کہ یہ گوبر اور خون کے درمیا ن سے نکلتا ہے اور یہ اس کے پاک ہونے کی علامت ہے۔(2) الجوھرۃ النیرۃ میں مردار بکری کے حوالے سے ہے: ”يجوز أكل ما في جوفها سواء كان مائعا أو جامدا عند أبي حنيفة وعندهما إن كان مائعا لا يجوز، وإن كان جامدا وغسل جاز أكله وعند الشافعي لا يجوز أكله “ترجمہ:مردار بکری کے جوف میں جو ہے، اسے کھانا ، جائز ہے ،چاہے وہ مائع کیفیت میں ہو یا جامدکیفیت میں ہو ، یہ امام اعظم رضی اللہ عنہ کا مؤقف ہے اور صاحبین فرماتے ہیں کہ اگر تو وہ نکلنے والا مادہ مائع کیفیت میں ہو، تو اسے کھانا ، جائز نہیں اور اگر وہ جامد کیفیت میں ہو اور اسے دھو لیا جائے، تو اب اس کا کھانا ، جائز ہے اور امام شافعی رَحِمَہُ اللہُ کے نزدیک اس کا کھانا ، جائز نہیں۔(3) علامہ شامی علیہ الرحمۃ منحۃ الخالق میں لکھتے ہیں: ”قال ابن أمير حاج بعد أن تكلم على المسألة تنبيه وقد عرفت من هذا أن نفس الوعاء الذي سيصير كرشا نجس بالاتفاق وأن المراد بالإطلاق بكون المنفحة طاهرة عنده متنجسة عندهما إذا كانت مائعة هو ما اشتمل عليه الوعاء المذكور فقط ثم هذا كله إذا كانت المنفحة من شاة ميتة كما فسره المصنف أما إذا كانت من ذكية فهي طاهرة مطلقا بالإجماع. اهـ. حلية. “ترجمہ: ابن امیر حاج نے اس مسئلے پر کلام کرنے کے بعد فرمایا: ”تنبیہ: اس بحث سےآپ کو معلوم ہوگیا کہ وہ ظرف جو بعد میں اوجھڑی بن جائے گا ، وہ (جانور کے مر جانے سے )بالاتفاق نجس ہو جاتا ہےاور جو مطلقا ًیہ بیان کیا جاتا ہے کہ ” منفحۃ ‘‘ امام اعظم کے نزدیک پاک ہے اور صاحبین کے نزدیک ناپاک ہے ،جبکہ وہ مائع ہو “یہاں” منفحۃ ‘‘ سے مراد فقط وہ چیز ہے، جو اس ظرف کے اندر موجود ہے ۔ پھر یہ ساری تفصیل اس وقت ہے ،جب یہ” منفحۃ ‘‘ (پنیر مایہ) مردار بکری سے حاصل ہو ،جیسا کہ مصنف نے اس کی تفسیر بیان کی ، بہرحال اگر وہ ذبح شدہ بکری سے حاصل ہوا ،تو وہ مطلقا ًبالاِجماع پاک ہے۔اھ(4) مبسوط سرخسی میں ہے: ”وأبو حنيفة رحمه اللہ يقول: لو كان اللبن يتنجس بالموت لتنجس بالحلب أيضا، فإن ما أبين من الحي ميت، فإذا جاز أن يحلب اللبن، فيشرب عرفنا أنه لا حياة فيه، فلا يتنجس بالموت، ولا بنجاسة وعائه؛ لأنه في معدنه، ولا يعطى الشيء في معدنه حكم النجاسة.۔۔۔۔وعلى هذا إنفحة الميتة عند أبي حنيفة رحمه اللہ طاهرة مائعة كانت، أو جامدة بمنزلة اللبن،۔۔۔۔وأشار لأبي حنيفة رحمه اللہ في الكتاب إلى حرف، فقال؛ لأنها لم تكن إنفحة، ولا لبنا، وهي ميتة، ولا يضرها موت الشاة يعني أن اللبن، والإنفحة تنفصل من الشاة بصفة واحدة حية كانت الشاة، أو ميتة ذبحت، أو لم تذبح، فلا يكون لموت الشاة تأثير في اللبن، والإنفحة ملتقطا “ترجمہ:امام اعظم علیہ الرحمۃ فرماتے ہیں کہ اگر موت کی وجہ سے دودھ نجس ہوجاتا ہے،تو پھر دودھ دوہنے کی وجہ سے بھی نجس ہوناچاہیے ، کیونکہ زندہ جانور سے جو جز بھی جدا ہو جائے، وہ مردار ہوتا ہے، تو جب یہ جائز ہے کہ(جانور کی زندگی میں ) دودھ نکال کر پیا جائے ،تواس سے ہمیں معلوم ہوتا ہے، دودھ میں حیات نہیں ہوتی ، لہٰذا جانور کی موت سے یہ نجس بھی نہیں ہوگا اور نہ ہی ظرف کی نجاست کی وجہ سے یہ نجس شمار ہوگا ، کیونکہ دودھ اپنے معدن (فطری محل) میں ہوتا ہے اور جو شے اپنے معدن میں ہو اس پر نجاست کا حکم نہیں لگتا اور امام اعظم رَحِمَہُ اللہُ کے نزدیک مردار کے معدے سے حاصل ہونے والے پنیر مایہ کا بھی یہی دودھ والا حکم ہے ،چاہے وہ مائع کیفیت میں ہو یا جامد کیفیت میں ہو۔صاحب کتاب نے امام اعظم رضی اللہ تعالی عنہ کی دلیل کے طور پر ایک بات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: ” کہ وہ جانور کے مردار ہونے کی حالت میں پنیر مایہ اور دودھ نہیں بنا تھا اوربکری کا مر جانا بھی اسے مضر نہیں ۔“ اس بات کا مطلب یہ ہے کہ دودھ اور پنیر مایہ بکری سے ایک ہی صفت پر جدا ہوتا ہے، چاہے بکری زندہ ہو یا مردہ، اسے ذبح شرعی کیا گیا ہو یا ذبح نہ کیا گیا ہو، لہذا بکری کی موت کا دودھ اور پنیر مایہ میں کوئی اثر نہیں ہوگا۔(5) محقق علی الاطلاق حضرت علامہ کمال ابن ہمام رحمۃ اللہ تعالی علیہ لکھتے ہیں : ” وجه قولهما في المذهبية التنجس بالمجاورة. وله أنه لا أثر للتنجس شرعا ما دامت في الباطن النجاسة فضلا عن غيرها، والحكم الثابت شرعا حالة الحياة لا يزول بالموت إلا إذا ثبت شرعا أن الموت يزيله، لكن الثابت للموت ليس إلا عمله في تنجس ما يحله فيستلزم تنجس غشائهما وبقاؤهما على طهارتهما بحكم عدم إعطاء حكم النجاسة ما دام في الباطن، ولا يزول هذا البقاء إلا بمزيل ولم يوجد“ترجمہ:مذہب کا جو اختلافی مسئلہ ہے، اس میں صاحبین کے قول کی وجہ یہ ہے کہ مجاورت کی وجہ سے یہ پنیر مایہ بھی نجس ہو جاتا ہے۔ جبکہ امام اعظم رضی اللہ تعالی عنہ کی دلیل یہ ہے کہ نجاست جب تک باطن میں رہتی ہے تب تک اس پر نجس ہونے کا اثر نہیں ہوتا چہ جائیکہ وہ چیز جو نجاست نہ ہو اس پر نجس کا حکم لگایا جائے اور جو حکم شرعاً جانور کے حیات ہونے کی حالت میں ثابت ہے ،وہ موت سے زائل نہیں ہوتا ، اِلَّا یہ کہ شرع سے یہ بات ثابت ہو جائے کہ موت اس حکم کو زائل کر دیتی ہے، لیکن جو بات ثابت ہے ،وہ یہ ہے کہ موت کا تعلق جن اَجزاء سے ہوتا ہے ،ان کو موت نجس کر دیتی ہے، لہذا وہ جھلی(معدہ ) جس کے اندر دودھ یا پنیر مایہ ہوتا ہے، وہ تو ناپاک ہوجاتی ہے، لیکن یہ دودھ اور پنیر مایہ اپنی سابقہ طہارت پر باقی رہتے ہیں کہ جب تک وہ باطن میں ہیں، تب تک ان پر نجاست کا حکم جاری نہیں ہو سکتا اور یہ طہارت پر باقی رہنا جاری رہے گا، جب تک اسے کوئی چیز زائل نہ کرے اور ایسی کوئی چیز یہاں موجود نہیں جو طہارت کے حکم کو زائل کر سکے۔(6)
1…۔ (فتح القدير ، جلد1، صفحہ 96، دار الفکر، بیروت) 2…۔ (بدائع الصنائع، جلد1، صفحہ 63، دار الکتب العلمیہ، بیروت) 3…۔ (الجوهرة النيرہ ، جلد1، صفحہ 17، المطبعة الخيریہ ) 4…۔ (حاشیہ منحة الخالق ، جلد1، صفحہ 113، دار الکتاب الاسلامی) 5…۔ (المبسوط للسرخسي، جلد24، صفحہ 27، دار المعرفہ، بیروت) 6…۔ (فتح القدير ، جلد1، صفحہ 98، دار الفکر، بیروت)

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن