30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
میر ے آقااعلٰی حضرت، اِمامِ اَہْلسُنّت، ولیٔ نِعمت، عظیمُ البَرَکَت، عظیمُ المَرْتَبت، پروانۂِ شَمْعِ رِسالت، مُجَدِّدِ دین ومِلَّت، حامیِ سنّت، ماحِیِ بِدعت، عالِمِ شَرِیْعَت، پیرِطریقت، باعثِ خَیْر وبَرَکت، حضرتِ علّامہ مولاناالحاج الحافِظ القاری شاہ امام اَحمد رَضاخان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰنفرماتے ہیں : پان کھانا جائز ہے اور اُتنا چونا (کھانا) بھی (جائز جو) کہ ضَرَر (یعنی نقصان) نہ کرے۔ (فتاوٰی رضویہ ج ۲۴ ص ۵۵۸)
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! معلوم ہوا نقصان دِہ حد تک چونا کھانا جائز نہیں کیونکہ زیادہ چونا کھانے سے منہ میں چھالے پڑ تے ہیں اور اس سے پیشاب کا عمل بھی مُتَاثِّر ہوتا ہے۔ پان سُپاری کی کثرت کے سبب جن کے مُنہ کی کھال تکلیف دِہ حد تک سُکڑتی اور مُنہ میں چھالے پڑتے ہیں ان کے لیے پان چھالیا اور چونے وغیرہ کا استِعمال شَرعاً ممنوع ہے۔
چھالیا (سُپاری) ایک دَرَخت کا پھل ہے ، بدنِ انسانی پر اس کی تاثیر ’’ سَرد خشک ‘‘ ہے، چھالیا قَبض کرتی ہے۔ وَرَم (سُوجن) کو دُور کرتی اور عورَتوں کے سَیلانُ الرِّحم (لِیکوریا) کے لیے مفید ہے۔ چھالیا کا زیادہ استِعمال نقصان دِہ ہے۔
چھالیا کو جَلا کر کوئلہ بنالیجئے اور اس سے تین گُنا ’’ چاک ‘‘ (Chalk) اس میں ملا کر پیس کر بوتل میں رکھ لیجئے اورروزانہ بطورِ مَنجن استعمال کیجئے اِنْ شَآءَاللہ عَزَّ وَجَلَّ دانت صاف ، چمکدار اورمَسُوڑھے مضبوط ہوں گے۔
زَبان پرقُدرَتی طور پر مخصوص ذرّات ہوتے ہیں جن میں قُوَّتِ ذائقہ ہوتی ہے، انہیں ذرّات کے ذَرِیعے زَبان کی نوک سے مٹھاس کا اور زَبان کے بیچ کے حصّے سے کڑواہٹ اور نمک وغیرہ کا ذائِقہ معلوم ہوتا ہے۔ پان چھالیا ، گُٹکا، خوشبودار سُپاری ، مین پوڑی اور تمباکو وغیرہ کا بکثرت استِعمال زَبان کے اُن قُدرَتی ذرّات کا خاتِمہ کر دیتا ہے جس کے سبب کھانے پینے کا ذائِقہ اور ٹھنڈے گرم کا پتا نہیں چلتا۔ پان، چھالیا، گُٹکا اور تمباکو وغیرہ کے زیادہ استِعمال سے زَبان کے اَگلے دو تہائی ( 3 / 2) حصّے میں کینسر ہوسکتا ہے جو کہ مزید پھیل کر غِذائی نالی کو بند کرسکتا ہے۔ اس کینسر کا ڈاکٹری علاج یِہی ہے کہ زَبان کاٹ دی جائے۔ اس کے بعد نہ آدَمی کھانا کھاسکتا ہے نہ ہی بات کرسکتا ہے۔
بکثرت پان گُٹکا وغیرہ کھانے والے کے مَسُوڑھیعُمُوماً پُھولے رہتے ہیں اور ان سے اکثر خون رِس رِس کر پیٹ میں جاتا اور طرح طرح کی بیماریاں لاتا ہے۔ اگر پان گُٹکے کی اب بھی مسلسل عادت جاری رَہتی ہے تو پھر عام طور پر نیچے کے پُھولے ہوئے مَسُوڑھوں کا کینسر ہوجاتا ہے۔
قَبل اَز وَقت دانت گرنے کی کئی وُجُوہات ہیں ۔ ایک تحقیقی اَعداد وشُمار میں وَقت سے پہلے ہی جن لوگوں کے دانت گرگئے تھے ان میں سے50 فیصد افراد پان چھالیا کے عادی تھے۔ پان چھالیا کی وجہ سے جس کا کوئی دانت گر جائے اور وہ پھر بھی اپنی عادت سے باز نہ آئے تو اس بات کا 90 فیصد خطرہ ہے کہ اس کے مَسُوڑھوں میں مَعَاذَ اللہ عَزَّوَجَلَّکینسر ہوجائے!
پان گُٹکا اور ہونٹوں کا کینسر
ہونٹوں کا کینسر عُمُوماً 30 تا70 برس کی عمرمیں ہوتاتھا مگر اب پان چھالیا اورگُٹکا وغیرہ کا استِعمال بڑھ جانے کے سبب 10 تا 20 سال کی عمر میں بھی ہونٹوں کا کینسر ہونے لگا ہے۔
پان گُٹکا اور مُنہ کے گوشت کا کینسر
مُنہ کے گوشت یعنی گال کا کینسر ان لوگوں کو ہوتا ہے جو پان یا گٹکا منہ کی ایک طرف رکھنے کے عادی ہوتے ہیں ۔ گال کا کینسر مردوں کی نسبت عورَتوں میں زیادہ ہوتا ہے۔
اگر اصلی کتّھا لگا کر اچھی قسم کی چھالیا کی تین چار ٹکڑیوں کے ساتھ کبھی کبھار پان کھالیا جائے تو حَرَج نہیں ، مگر مشورۃ ًعَرض ہے کہ کبھی کبھار کھانے سے بھی بچئے، کہیں چَسکا لگ گیا تو مشکِل کھڑی ہوسکتی ہے، کیونکہ بکثرت پان، گُٹکا اور پان پراگ وغیرہ کھانا باعثِ تشویش ہے۔
حِکایت: ایک اسلامی بھائی جنہوں نے پان کھا کھا کر ہونٹ لال کئے ہوئے تھے اُن سے میں نے ( یعنی سگِ مدینہ عُفِیَ عَنْہُنے) مُنہ کھولنے کو کہا تو بمشکل تھوڑا سا کھول پائے، زَبان باہَر نکالنے کی درخواست کی تو وہ بھی صحیح طرح سے نہ نکال سکے۔ پوچھا: مُنہ میں چھالا ہوگیا ہے؟ بولے: ہاں ۔ میں نے اُن کو پان بند کردینے کا مشورہ عَرض کیا۔ بعد میں پوچھنے پر معلوم
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع