30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
پان ایک مخصوص بَیل کا پتّا ہے۔ جسمِ انسانی پر پان کی تاثیر ’’ گَرم خُشک ‘‘ ہے ، اس میں وٹامن بی کمپلیکس (Vitamin B complex) ہوتا ہے۔
’’ یا غوثِ اعظم نَظَرِ کرم ‘‘ کے پندَرہ حُرُوف کی نسبت سے پان کے 15فوائد
{1} پان کا پتّا کھایا جائے تو بدن میں خون بنانے میں مدد کرتا ہے {2} دل کو فَرحت {3} جِگر {4} مِعدہ اور {5} دِماغ کو قُوَّت بخشتا {6} منہ کی خشکی دُور کرتا اور {7} گلا صاف کرتاہے {8} پان کا کورا پّتا چَبانے سے دانتوں کا دَرد دُور اور {9} مُنہ کی بدبُو کافور (دُور) ہوتی ہے {10} یہ کھانسی {11} زکام اور {12} تھکن دُور کرتا ہے {13} کھانا ہَضم کرنے میں مددگار ہے البتَّہ نَہارمُنہ کھانے سے بھوک کم کرتا ہے {14} پان میں کِلوروفِل (Chlorophyll) ہوتا ہے اور اِسی وجہ سے اس کا رنگ سبز ہوتا ہے اور یہ صِرف پتّوں ہی میں پایا جاتا ہے۔ کِلوروفِل بدنِ انسانی کے لیے قُوَّت بخش ہے {15} پُرانے زمانے میں منہ کا ذائِقہ ٹھیک کرنے کے لیے پان استِعمال کیا جاتا تھا ، اب بھی پان کاصِرف کورا پتّا کھا کر اس کے فوائد حاصل کیے جاسکتے ہیں ۔مُرَوَّجَہ پان کے اَہَم اَجزا کتّھا ، چُونا اور چھالیا ہیں ۔ لہٰذا ان کے بارے میں بھی مختصراً معلومات حاضِر ہیں :
کتھّا ایک مخصوص دَرَخت کی لکڑیوں کا عُصارہ (یعنی نچوڑ ) ہے۔ اصلی کتّھے کی انسانی جسم پر تاثیر ’’ سرد خشک ‘‘ ہے۔
{1} کتھّا خون صاف کرتا ہے {2} دَست بند کرتا اورقَبض کرتا ہے {3} خون اور {4} جگر کے غیرضَروری مادّے کے اِخراج (یعنی نکالنے) میں مدد کرتا ہے {5} بلغم اور {6} خون کے فَساد کو دُور کرتا {7} پیشاب کی جلن کو مِٹاتا ہے {8} اِس کے غَرارے مُنہ کے چھالوں کے لیے مُفید ہیں ۔
اصلی کتھّا ، ہلدی اورمِصری تینوں ہم وَزن پیس کر رکھ لیجئے اور صُبح و شام ایک ایک گرام استِعمال کیجئے اِنْ شَآءَاللہ عَزَّ وَجَلَّ خشک کھانسی کے لیے مُفیدپا ئیں گے ۔
اصلی کتھّا اور چھالیا ہم وَزن پیس کر دانتوں پر ملنے سے ہِلتے دانت مضبوط ہوتے اور مَسُوڑھوں کی سُوجَن بھی بِاِذنِ اللّٰہِ عَزَّ وَجَلَّ ٹھیک ہوجاتی ہے۔
میری معلومات کے مطابِق پاکستان میں کتّھے کی پیداوار نہیں ہوتی، لہٰذا دولت کے حریص اَفراد جنہیں کسی کی دُنیا اور اپنی آخِرت برباد ہونے کی کوئی فِکر نہیں ہوتی وہ مِٹّی میں چمڑا رنگنے کا رنگمِلا کر اسی مِٹّی کو کتّھاکہہ کر بیچتے ہیں ! اور یوں بے چارے پاکستانی پان خور گندی مِٹّی کھا کر طرح طرح کے اَمراض کا شکار اور سخت بیمار ہو کر تباہی کے غار میں جا پڑتے ہیں ۔کھانا ہی ہو تو اصلی کتّھا صِرف مناسِب مقدارمیں کھائیں ، جان بوجھ کر نقلی کتّھا ہرگزاستِعمال نہ فرمائیں ۔ نقلی کتّھے کے تاجِر اور نقلی کتّھے والا پان گُٹکادھوکے سے بیچنے والے اِس فعل سے سچّی توبہ کریں ، نیز جان بوجھ کرمِٹّی کھانے والے بھی باز آئیں ۔مِٹّی کے بارے میں شَرعی مسئلہ ( مَس ۔ ئَ ۔ لَہ) یہ ہے کہ اسے حدِّ ضَرَر تک ( یعنی نقصان دِہ مقدار میں ) کھانا حرام ہے۔ چُنانچِہ خَاتِمُ الْمُحَقِّقِینحضرت ِسَیِّدُنا علّامہ ابنِ عابِد ین شامی قُدِّسَ سِرُّہُ السّامیفرماتے ہیں : اَلتُّرَابُ طَاھِرٌ وَّ لَا یَحِلُّ اَکْلُہٗ یعنی مِٹّی پاک ہے اور اس کا (نقصان دِہ حد تک ) کھانا، حلال نہیں ۔ (رَدُّالْمُحتار ج ۱ ص ۴۰۳) صَدر الشَّریعہ، بَدرُالطَّریقہ حضرتِ علّامہ مولانامفتی محمد امجد علی اعظمی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القَوِیفرماتے ہیں کہ مِٹّی حدِّضَرَر تک ( یعنی نقصان دِہ مقدار میں ) کھانا حرام ہے۔ (ضمیمۂ بہارِشریعت جلد اوّل ص۴۱۸)
اللہ عَزَّ وَجَلَّکے مَحبوب ، دانائے غُیُوب، مُنَزَّہٌ عَنِ الْعُیُوب، فاتحُ القُلوب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکا فرمانِ عالیشان ہے : جو شخص مِٹّی کھاتا ہے گویا خُودکشی کرتا ہے۔ (اَلسّنَنُ الکُبری لِلْبَیْہَقِی ج۱۰ص۲۰حدیث۱۹۷۱۹)
چونا زمین کی جِنس (یعنی قِسم) سے ہے یعنی از قِسمِ مِٹّی اور پتَّھر ہے، چونے کا کیمیائی نام کیلشیم (Calcium) ہے، انسانی جسم پر اس کی تاثیر ’’ گَرم خشک ‘‘ ہے یہ قُدرَتی طور پر انسانی ہَڈِّیوں میں موجود ہوتا ہے۔
چُونا ہڈِّیاں اور دانت بناتا ہے ، خون کی نالیوں کی دیواروں کو مضبوط کرتا ہے، بچّوں کو چونے کی ضَرورت زیادہ رہتی ہے، جو بچّے دیر سے چلنا سیکھتے ہیں ، جن کے دانت دیر سے نکلتے ہیں ان کا سبب چونے (یعنی کیلشیم ) کی کمی ہوتی ہے۔ ( ہر طرح کا علاج طبیب کے مشورے ہی سے کرنا چاہئے)
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع