30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
خلافِ ادب محسوس ہوتاہے ۔ اس اسلامی بھائی کے اصرار کے باوجود آپ دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ نے اس کمرے میں ٹھہرنے سے معذرت فرمائی اوراس کے سامنے والے کمرے میں قیام فرمایا ۔
ایک اسلامی بھائی نے آپ دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ سے عرض کی : حضور! آپ اوپر والی منزل میں تشریف لے چلئے وہ کمرہ اس سے بڑا بھی ہے اور ہوادار بھی ۔ امیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ نے ارشاد فرمایا : اعلیٰ حضرت رَحمۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ جس مکان میں تشریف فرما ہوئے ہوں اس کے اوپر والی منزل پر جانا بھی میرے نزدیک بے ادبی ہے ۔ آپ دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہنے جتنے دن وہاں قیام فرمایا ادب کی وجہ سے ایک بار بھی اوپر والی منزل میں نہیں گئے ۔
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! دیکھا آپ نے ! امیرِاہلسنّت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہاعلیٰ حضرت رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ کی عارضی قیام گاہ کا بھی کس قدر ادب و احترام فرماتے ہیں ۔ اللّٰہ والوں کا شروع سے ہی طریقہ رہا ہے کہ اپنے اساتذہ ، پیرو مرشد کا ادب و احترام کرنے کے ساتھ ساتھ ہر اُس چیز کی تعظیم بجا لاتے تھے جس کو کسی بھی طرح سے بزرگوں سے نسبت حاصل ہو چنانچہ
شیخ الاسلام ، حضرت علامہ برہان الدّین زرنوجی رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں : بخارا کے آئمہ میں سے ایک بلند پایا امام کا واقعہ ہے : ایک مرتبہ وہ علمِ دین کی ایک مجلس میں تشریف فرما تھے کہ یکایک انہوں نے بار بار کھڑا ہونا شروع کر دیا، لوگوں نے ان سے اس کی وجہ پوچھی تو فرمایا : میرے استادِ محترم کا صاحبزادہ بچوں کے ساتھ کھیل رہا تھا، کبھی کبھی کھیلتا ہوا وہ مسجد کی طرف آ نکلتا، پس جب میری نظر اس پر پڑتی تو میں اپنے استاد کی تعظیم میں اس کی تعظیم کے لئے کھڑا ہو جاتا ۔ (تعلیم المتعلم طریق التعلم ، ص۲۳)
صَلُّوْاعَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہ تعالٰی علٰی محمَّد
(حکایت : ۲۲)
امیرِاہلسنّت دامَتْ َبرَکَاتُہُمُ الْعَا لِیَہ ایک بار ’’مدینۃ المرشد بریلی شریف‘‘ (ہند)حاضر ہوئے ۔ کسی نے وہاں موجود ایک ضعیف العمر بُزُرگ کے متعلق بتایا کہ اِنہوں نے اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰنْکی زیارت کی ہے ۔ امیرِ اَہلسنّتدامَتْ َبرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ فرطِ محبت میں کھڑے ہوئے اور نہ صرف ان کی آنکھوں کا بوسہ لیا بلکہ جھُک کر اُن کے قدموں کو بھی چُوم لیا ۔
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! اگر دنیا و آخرت میں کامیابی کی خواہش ہے تو بزرگوں کے ادب کو اپنے اوپر لازم کر لیجئے کیونکہ ادب ہی کامیابی کی کنجی ہے اور اسی سے سب کچھ ملتا ہے جیسا کہ منقول ہے : ’’جس نے جو کچھ پایا ادب و احترام کرنے کے سبب سے ہی پایا اور جس نے جو کچھ کھویا وہ ادب و احترام نہ کرنے کے سبب ہی کھویا ۔ ‘‘ (تعلیم المتعلم طریق التعلم، ص۲۱)
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!آج کے اس پُر فتن دور میں شریعَت و طریقت کی جامع شخصیت ، شیخِ طریقت، امیرِاہلسنّت، بانیِ دعوتِ اسلامی حضرت علاّمہ مولاناابوبلال محمد الیاس عطارؔ قادری رَضَویدَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہکی ذات اللّٰہ عَزَّوَجَلَّکی بہت بڑی نعمت ہیں ۔ جن کی صحبت سے عمل میں اضافہ اور آخِرت کی تیاری کاذہن بنتا ہے ۔ حُقوق اللّٰہ اور حُقوق العباد کی بجا آوری کی طرف طبَیْعَت
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع