دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Paikar e Sharm o Haya – Qist 7 | پیکرِ شرم و حیا

book_icon
پیکرِ شرم و حیا

(حکایت  : ۱۷)

 امام صاحب نے ہاتھ نہ ملایا

          یہ ان دنوں کا واقعہ ہے جب امیرِ اہلسنّتدَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ باب المدینہ کراچی کے مختلف علاقوں میں جا جا کر سنّتوں بھرے بیانات کے ذریعے نیکی کی دعوت کو عام کیا کرتے تھے  ۔ ایک بار امیرِاہلسنّت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ بابُ المدینہ کراچی کے علاقے ملیر کی ایک مسجد میں بیان فرمانے کے لئے تشریف لے گئے ۔  نمازِ عشا کے بعد آپ دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ نے خود ہی بیان کا اعلان فرمایا ۔  امیرِاہلسنّت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہنے نماز کے بعدبیان شروع کرنے سے قبل امام صاحب سے مصافحہ کرنے کے لیے جونہی ہاتھ بڑھائے امام صاحب نے بے رخی سے منہ پھیر لیا اور ہاتھ نہ ملایا ۔ شاید انہیں امیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ کے بارے میں کوئی غلط فہمی ہو گئی تھی  ۔ امیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ امام صاحب کے اس رویّے پر کسی قسم کی ناگواری کا اظہار نہیں فرمایابلکہ صبر و تحمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے حکمتِ عملی سے نمازیوں کو جمع کیا اور سنتوں بھرا بیان شروع کر دیا ۔  جب آپ  دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ بیان سے فارغ ہوئے تو وہی امام صاحب آگے بڑھے اور امیرِ اہلسنّت  دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ  کا ہاتھ پکڑ کر اپنے ساتھ حجرے میں لے گئے، خوب شفقتوں سے نوازااور چائے سے تواضع فرمائی ۔   شیخِ طریقت، امیرِاہلسنّت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ فرماتے ہیں  : اس واقعے کے بعدان امام صاحب سے جب بھی ملاقات ہوئی وہ بے حد محبت سے ملے اور ہر بار شفقتوں سے نوازا ۔

برائی کا بدلہ بھلائی سے دیجئے

          میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!ہمیں ہمیشہ نرمی اور حسنِ اخلاق ہی سے پیش آنا چاہئے کہ ہمارے پیارے آقا صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ہمیشہ برائی کا جواب اچھائی سے ہی دیا ۔ یاد رکھئے!ضروری نہیں کہ ہم کسی سے مسکرا کر ملیں تو وہ بھی خندہ پیشانی سے ہمارا استقبال کرے، بلکہ ممکن ہے کہ مخاطَب ہماری مسکراہٹ کو طنز سمجھ کر طیش میں ہی آجائے اور ہمیں خندہ روئی کے جواب میں یوں سننا پڑے : آپ کیوں ہنستے ہیں ؟ چنانچہ ایسے موقع پر اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کا یہ فرمان پیش نظر رکھنا چاہیے :

وَ لَا تَسْتَوِی الْحَسَنَةُ وَ لَا السَّیِّئَةُؕ-اِدْفَعْ بِالَّتِیْ هِیَ اَحْسَنُ فَاِذَا الَّذِیْ بَیْنَكَ وَ بَیْنَهٗ عَدَاوَةٌ كَاَنَّهٗ وَلِیٌّ حَمِیْمٌ(۳۴) (پ۲۴، حم السجدۃ، آیت : ۳۴)

ترجمۂ کنز الایمان : اور نیکی اور بدی برابر نہ ہوجائیں گی اے سننے والے برائی کو بھلائی سے ٹال جبھی وہ کہ تجھ میں اور اس میں دشمنی تھی ایسا ہوجائے گا جیسا کہ گہرا دوست ۔

صلُّوْاعَلَی الْحَبِیْب!                                                    صلَّی اللّٰہ تعالٰی علٰی محمَّد

(حکایت  : ۱۸)

اینٹ کا جواب پتھر سے نہ دیجئے

            امیرِاہلسنّت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہایک بار حج کے لیے مکہ مکرمہ  زَادَھَا اللّٰہُ شَرَفاً وَّ تَعْظِیْماًحاضر تھے ۔  غالباً گیارہ ذوالحجۃ الحرام کو آپ  دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ جمرات کی رَمی(یعنی شیطان کو کنکریاں مارنے)کے لیے مِنیٰ شریف جا رہے تھے ۔  دورانِ سفر ایک بوڑھا شخص ملااس نے امیرِ اہلسنّتدَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ سے کہا : مولانا! میری طرف سے بھی کنکریاں مار دینا ۔  امیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ نے کچھ یوں ارشاد فرمایا :  بڑے میاں ! آپ اپنے ہاتھ سے کنکریاں کیوں نہیں مار لیتے؟اس نے جواب دیا  : بیمار و مجبو ر شخص کے لیے تو رخصت ہے کہ کسی سے رَمی کروالے ۔  امیرِاہلِسنّت نے فرمایا :  آپ تو ماشآء اللّٰہ صحت مند معلوم ہو رہے ہیں  ۔ امیرِ

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن