30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اُنگلیاں چٹخانا مکروہ ہے ۔ (بہارِ شریعت، ۱ / ۶۲۵ ملخصاً)
(ب)خارجِ نَماز میں (یعنی توابعِ نَماز میں بھی نہ ہو ) بِغیر حاجت کے اُنگلیاں چٹخانا مکروہِ تنزیہی ہے ۔
(ج)خارجِ نَماز میں کسی حاجت کے سبب مَثَلاًاُنگلیوں کو آرام دینے کیلئے اُنگلیاں چٹخانا مُباح (یعنی بِلا کراہت جائز) ہے ۔
(2) تَشبِیک (تَش ۔ بِیک)یعنی ایک ہاتھ کی اُنگلیاں دوسرے ہاتھ کی اُنگلیوں میں ڈالنا نماز کے لیے جاتے وقت اور نماز کے انتظار میں بھی مکروہِ تحریمی ہیں ۔ (نماز کے احکام ، ص ۲۵۰ملخصاً)
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! علمِ دین سے دوری کے باعث کچھ لوگ شیطان کے بہکاوے میں آکر نیکی کی دعوت دینے والے اور درس و بیان کے ذریعے اپنی اوردوسرے لوگوں کی اصلاح کی کوششیں کرنے والے اسلامی بھائیوں کو اس مدنی کام سے روکنے کے حیلے بہانے بناتے رہتے ہیں ۔ ایسے نازک موقع پر مبلغ کو ہمت سے کام لیتے ہوئے ان کے رویّے کو نظر انداز کرکے اپنے مقصد کے حصول کی طرف متوجہ ہونا چاہئے ۔ جیسا کہ امیرِ اہلسنّتدَامَتْ بَرَکَاتُہُم العَالِیَہ کے انداز سے ہمیں درس ملتا ہے ۔
(حکایت : ۱۴)
دعوتِ اسلامی کی ابتدامیں ایک بار امیرِ اہلسنّتدَامَتْ بَرَکَاتُہُم العَالِیَہ باب المدینہ (کراچی)کے علاقے نیو کراچی کی ایک مسجد میں بیان فرمارہے تھے ۔ سامعین میں ایک بوڑھا شخص بھی موجود تھا اُس نے آؤ دیکھا نہ تاؤ اور دورانِ بیان ہی ایک دَم بولا : ’’ارے مولانا ! یہ باتیں تو ہم سنتے ہی رہتے ہیں کوئی نئی بات بھی سناؤ ۔ ‘‘ امیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَرَکَاتُہُم العَالِیَہ نے اس شخص کی اس دیدہ دلیری پر کسی قسم کے غصے کا اظہار نہیں فرمایا بلکہ بیان کا موضوع تبدیل فرما کر اپنے بیان کو مکمل فرمایا ۔
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!غور فرمائیے! اگر دورانِ بیان کوئی کسی کو ٹوک دے تو اچھا بھلا آدمی بھی گھبراجاتا ہے ۔ ایسی صورت میں صبر سے کام لے کر قوت ِبرداشت کا مظاہرہ کرنا چاہئے اور امیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَرَکَاتُہُم العَالِیَہ کے عطا کردہ مدنی انعامات میں سے مدنی انعام نمبر ۲۸ ’’ آج آپ نے (گھر میں یا باہر) کسی پر غصہ آجانے کی صورت میں چُپ سادھ کر غصّے کا علاج فرمایا یا بول پڑے ؟نیز درگُزر سے کام لیا یا اِنتقام (یعنی بدلہ لینے )کا موقع ڈھونڈتے رہے ؟‘‘ پر عمل کرنا چاہئے ۔
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
(حکایت : ۱۵)
ایک بار ا میرِ اہلسنّت دَامَتْ بَرَکَاتُہُم العَالِیَہجشنِ ولادت کے مدنی جلو س میں عاشقانِ رسول کے ہمراہ شریک تھے ۔ صلوٰۃ و سلام پڑھتا اور مرحبا یامصطفیٰ کے نعرے لگاتاعاشقانِ رسول کاٹھاٹھیں مارتا سمندر رواں دواں تھا ۔ اچانک ایک شخص آگے بڑھا اور اس نے اَفْشَاں کی بھری شیشی امیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَرَکَاتُہُم العَالِیَہپر اُنڈیل دی ۔ آپ دَامَتْ بَرَکَاتُہُم العَالِیَہ کے منہ سے بے ساختہ ’’یاغوث پاک‘‘ کا نعرہ بلند ہو گیا ۔ یوں محسوس ہو رہا تھاکہ امیرِاہلسنّت دَامَتْ بَرَکَاتُہُم العَالِیَہ سخت پریشان ہوگئے ہیں ۔ چندلمحوں کے بعد آپ دَامَتْ بَرَکَاتُہُم
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع