30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اور فرمایا : ’’سچا ورع تو تمہارے گھر سے نکلتا ہے تم ان کی شعاعوں میں سوت نہ کاتنا ۔ ‘‘(الرسالۃ القشیریۃ، الفصل الاول، باب الورع، ص۱۴۸)
صَلُّوْ ا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
(حکایت : ۱۲)
ایک بار ا میر ِاہلسنّت دَامَتْ بَرَکَاتُہُم العَالِیَہ نے فرمایا : میں جب بیرونِ ملک جاتا ہوں تو یہاں کی استعمالی گھڑی کا سیل نکال دیتاہوں تاکہ بلاضرورت سیل استعمال نہ ہوتا رہے کیونکہ ا س میں وقت دیکھنے کی ضرورت ہی نہیں رہتی ۔
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! یہ امیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَرَکَاتُہُم العَالِیَہ کا کمالِ تقوی اور احتیاط ہے کہ جس گھڑی سے وقت دیکھنے کی ضرورت نہ رہی اس کا سیل بھی نکال دیا کہ بلاضرورت استعمال نہ ہوتا رہے ۔ بسا اوقات چھوٹی چھوٹی بے احتیاطیاں انسان کو گناہ میں مبتلا کر دیتی ہیں اس لیے ہمیں چاہئے دُکان میں ہوں یا مکان میں اپنی اشیاء کا جائزہ لیتے رہیں کہ کوئی چیز بلاضرورت تو استعمال نہیں ہو رہی جیسے کمرے سے اُٹھے اور پنکھا چلتا ہی رہنے دیا ۔ یاد رہے!قیامت کے دن ہر نعمت کے بارے میں سُوال کیا جائے گا ۔
مُفَسِّرِشہیر حکیمُ الْاُمَّت حضرتِ مفتی احمدیارخان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنّان آیتِ ثُمَّ لَتُسْــٴَـلُنَّ یَوْمَىٕذٍ عَنِ النَّعِیْمِ۠(۸) ‘‘(پ۳۰، التکاثر، آیت : ۸) کے تَحت یہ بھی فرماتے ہیں : یہ سُوال ہر نعمت کے متعلق ہو گا، جسمانی یا رُوحانی ، ضرورت کی ہو یا عیش و راحت کی حتی کہ ٹھنڈے پانی ، دَرَختْ کے سایہ ، راحت کی نیند کا بھی ۔ (نورا لعرفان، ص ۹۵۶)
بجلی کے معاملے میں کی جانے والی بے احتیاطیوں سے بچنے اور بجلی بچانے کے طریقے سیکھنے کے لیے امیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَرَکَاتُہُم العَالِیَہ کے رسالے ’’بجلی استعمال کرنے کے مَدَنی پھول‘‘کا مطالعہ کیجئے ۔
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
(حکایت : ۱۳)
۵ محرم الحرام۱۴۳۱ھ مطابق 23دسمبر 2009ء بروز بدھ سحری کے وقت ایک اسلامی بھائی تَشبِیک کر کے یعنی ایک ہاتھ کی انگلیاں دوسرے ہاتھ کی انگلیوں میں ڈال کر بیٹھے تھے ۔ امیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَرَکَاتُہُم العَالِیَہ نے انہیں سب کے سامنے سمجھانے کی بجائے ایسا طریقہ اختیار فرمایا کہ وہ شرمندگی سے بھی محفوظ رہے اورنہ صرف ان کی اصلاح ہو گئی بلکہ بہت سے اسلامی بھائیوں کومسئلہ بھی معلوم ہو گیا ۔ چنانچہ امیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَرَکَاتُہُم العَالِیَہنے اجتماعی طور پر یوں مسئلہ بیان فرمایا : نماز میں یا نماز کے انتظار میں ایک ہاتھ کی انگلیاں دوسرے ہاتھ کی انگلیوں میں ڈالنا مکروہ ِتحریمی ہے ۔ اس سے بچنے کی عادت بنائیے ۔ اس کے لیے بار بار توجہ رکھ کر انگلیاں نکالنا ہوں گی، ورنہ عادت نکلنا مشکل ہے ۔
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!یہاں نماز کے دو مسئلے بھی سمجھ لیجئے :
(1)نَماز کے دَوران اُنگلیاں چٹخانا مکروہِ تحریمی ہے اورتَوابِعِ نَماز میں مَثَلاً نَماز کیلئے جاتے ہوئے، نَماز کااِنتظار کرتے ہوئے بھی
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع