30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ہوئے نَرس سے انجکشن لگوانے کا مطالبہ کرنایا عورتوں کا لیڈی ڈاکٹر کو چھوڑ کر مرد سے علاج کرواناعجیب تر ہے ۔ حالانکہ مرد کا عورت سے اور عورت کا مرد سے پردہ ہے اور بلا ضرورتِ شرعی ستر کھولنا یا کسی کے ستر کی طرف نظر کرنا ناجائز و حرام ہے چنانچہ صدرالشریعہ، مفتی محمد امجد علی اعظمی رَحمۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں : ’’مرد مرد کے ہر حصۂ بدن کی طرف نظر کرسکتا ہے سوا ان اعضا کے جن کا ستر ضروری ہے ۔ وہ ناف کے نیچے سے گُھٹْنے کے نیچے تک ہے کہ اس حصۂ بدن کا چھپانا فرض ہے، جن اعضا کا چھپانا ضروری ہے ان کو عورت کہتے ہیں ۔ کسی کو گُھٹْنا کھولے ہوئے دیکھے تو اسے منع کرے اور ران کھولے ہوئے دیکھے تو سختی سے منع کرے اور شرم گاہ کھولے ہوئے ہو تو اسے سزا دی جائے گی ۔ ‘‘(بہارِ شریعت ، ۳ / ۴۴۲)
ڈاکٹروں اور طبیبوں کو بالخصوص یہ مسئلہ خوب ذہن نشین کر لینا چاہیے کہ کس صورت میں مریض کے اعضائے ستر کی جانب نظر کرنا جائز اور کب ممنوع ہے ۔ چنانچہ ’’ بہار شریعت‘‘میں ہے : طبیب کو بوقتِ ضرورتِ شرعی پردہ کی جگہ کا صرف وہ حصہ دیکھنا جائز ہے جس کے دیکھنے کی ضرورت ہے زیادہ نہیں ۔ (بہار شریعت ، ۳ / ۱۰۸۱)
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! امیرِ اہلسنّتدَامَتْ بَرَکَاتُہُم العَالِیَہ کا مذکورہ طرزِ عمل قابلِ تقلید و لائقِ تحسین ہے ۔ آپ دَامَتْ بَرَکَاتُہُم العَالِیَہنے ایسے اَحسن انداز میں طبیب کو نصیحت فرما ئی کہ اس نے آپ کی بات مان لی ۔
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیب! صلَّی اللّٰہُ تعالٰی عَلٰی محمَّد
(حکایت : ۱۰)
ایک بار مدینہ شریف حاضری کے دوران امیرِ اہلسنّتدَامَتْ بَرَکَاتُہُم العَالِیَہکوبس میں کھڑے ہو کر سفر کرنا پڑا ۔ دورانِ سفر اچانک طبیعت کچھ خراب ہوئی اور امیرِ اہلسنّتدَامَتْ بَرَکَاتُہُم العَالِیَہ بس میں گر گئے ۔ ڈاکٹر کے پاس لے جایا گیا ۔ اس نے معائنہ کرنے کے بعد نرس سے انجکشن لگانے کو کہا ۔ امیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَرَکَاتُہُم العَالِیَہ نے فرمایا : میں مرد سے ہی انجکشن لگواؤں گا ۔ آپ دَامَتْ بَرَکَاتُہُم العَالِیَہ کے انکار پر ڈاکٹر نے حیران ہو کر کہا : اب تو مرد خود مطالبہ کرتے ہیں کہ عورت انجکشن لگائے اور حیرت ہے آپ نَرس سے انجکشن نہیں لگوا رہے؟
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! شیخِ طریقت، امیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَرَکَاتُہُم العَالِیَہ کی مایہ ناز تالیف ’’پردے کے بارے میں سُوال جواب ‘‘ صفحہ 171سے علاج کے بارے میں کچھ مدنی پھول ملاحظہ فرمائیے :
کیاعورَت ڈاکٹر کے پاس جاسکتی ہے؟
سُوال : عورَت کیا مَردڈاکٹر کونَبْض دِکھا سکتی ہے؟
جواب : اگرلیڈی ڈاکٹر سے علاج ممکن نہ رہے تو اب مردڈاکٹرسے رُجوع کرنے کی اِجازت ہے ۔ ضَرورتاً وہ مرد ڈاکٹرمریضہ کودیکھ بھی سکتا ہے اور مرض کی جگہ کو چُھو بھی سکتا ہے، مگر مرد ڈاکٹر کے سامنے عورت صِرف ضَرورت کاحصّۂ جسم کھولے ۔ ڈاکٹر بھی اگر غیر ضَروری حصّے پر قصداً نظر کر ے گا یا چُھوئے گا تو گنہگار ہو گا ۔ انجکشن وغیرہ عورت کے ذَرِیعے لگوائے کہ یہاں عُمُوماً مرد کی حاجت نہیں ہوتی ۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع