30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
لاتے ہوئے امیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَرَکَاتُہُم العَالِیَہ نے جیب سے ایک کنکر نکالا اور بجری کے ڈھیر میں شامل فرما دیا ۔ اور یوں ارشاد فرمایا : جب میں گھر پہنچا تو مجھے محسوس ہوا کہ فیضانِ مدینہ کی تعمیر میں استعمال ہونے والی اس بجری کا ایک کنکر اتفاق سے میری چپل میں پھنس گیا ہے میں نے اسے واپس لاکراسی بَجْری میں ڈال دیا ہے ۔
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!دیکھا آپ نے !امیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَرَکَاتُہُم العَالِیَہ مالِ وقف کے متعلق کس قدر احتیاط فرماتے ہیں کہ ایک معمولی کنکر بھی ضائع نہیں ہونے دیتے ۔ اللّٰہ والوں کا شروع سے ہی معمول رہا ہے کہ وہ وقف کی اِملاک و اَموال کے بارے میں بہت حسا س ہوتے ہیں مَبادا ہم سے کوئی معمولی ذرہ بھی ضائع نہ ہو جائے کہ بروزِ قیامت اس کے حساب کا سامنا کرنا پڑ جائے چنانچہ امیرالمؤمنین حضرت سیّدنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کا ایک ایمان افروز واقعہ ملاحظہ فرمائیے :
فاروقِ اعظم کی زوجہ اور خوشبو کا وزن
حضرت سیّدنا اسماعیل بن محمد رَحمَۃُاللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیہ فرماتے ہیں : ایک بار امیر المومنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے پاس بحرین سے کستوری اور عنبرلایاگیا ۔ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا : اللّٰہ عَزَّوَجَلَّکی قسم!میری خواہش ہے کہ کوئی بہترین وزن کرنے والی عورت مل جائے جو اس کا وزن کردے تو میں اسے مسلمانوں میں تقسیم کردوں ۔ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی زوجہ حضرت سیدتنا عَاتکہ بنت زیدرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہانے عرض کیا : میں بھی بہت اچھا وزن کرلیتی ہوں ، مجھے دیجئے میں وزن کردیتی ہوں ۔ حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے انہیں منع فرمادیا ۔ وجہ پوچھی تو ارشاد فرمایا : مجھے اس بات کا ڈر ہے کہ وزن کرتے ہوئے یہ کستوری وعنبر تمہارے ہاتھ پر بھی لگ جائے گا اور تم اسے اپنے سر اور گردن پرمَل لواور مجھے مسلمانوں کے حصے سے زیادہ مل جائے ۔ (الزہد لاحمد، زہد عمربن الخطاب، ص۱۴۷، رقم : ۶۲۳)
اللہ عَزَّوَجَلَّ کی اُن پَررَحمت ہواوران کے صد قے ہماری بے حساب مغفِرت ہو ۔
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیب! صلَّی اللّٰہُ تعالٰی عَلٰی محمَّد
(حکایت : ۹)
غالباً۱۴۰۹ھ کی بات ہے کہ امیرِاہلسنّتدَامَتْ بَرَکَاتُہُم العَالِیَہ کے پاؤں میں فریکچر ہوگیا ۔ آپ کے ابتدائی دور کے ایک اسلامی بھائی کا کہنا ہے کہ ہم آپ کو ایک ڈاکٹر کے پاس لے گئے ۔ ڈاکٹر نے پلاستر کرنا چاہا اور آپ کے پاجامے کے پائنچے کو زیادہ اوپر کرنے کا کہا توامیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَرَکَاتُہُم العَالِیَہ نے فرمایا : فریکچر پنڈلی میں ہے اس لئے میں گھٹنے سے اوپر کپڑا نہیں کروں گاکیونکہ بلا ضرورت ستر کھولنے کی شرعاًاجازت نہیں اور ناف سے لے کر گھٹنے تک کا حصہ سِتْرِ عورت ہے، جس کا چھپانا ضروری ہے، چونکہ گھٹنے سے اوپر کپڑا کیے بغیر پنڈلی پر پلاستر ممکن ہے تو پھر بلا حاجت ستر کیوں ظاہر ہونے دوں ۔ آخر کارگھٹنے پر سے کپڑا ہٹائے بغیر پلاستر کردیا گیا ۔
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!مدنی ماحول میسر نہ ہونے کی وجہ سے علمِ دین سے دوری کی بِنا پر دیگر کئی معاملات کی طرح علاج کے معاملے میں بھی مسلمانوں کی ایک تعداد بے احتیاطی کا شکار نظر آتی ہے ۔ بلاضرورت اعضائے ستر کو کھول دینا، مرد کے ہوتے
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع