دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Paikar e Sharm o Haya – Qist 7 | پیکرِ شرم و حیا

book_icon
پیکرِ شرم و حیا

وغیرہ اٹھا کر اس میں ڈالتے رہتے ہیں اور کبھی کبھی زائد شاپر بھی رکھتے ہیں جو کہ  دوسرے اسلامی بھائیوں کو ترغیب دلا کر تحفے میں پیش فرماتے اور اس طرح مسجد سے  ذرات وغیرہ اٹھانے کا ذہن بناتے ہیں  ۔

          میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!علمِ دین سے دوری کے باعث اب تو یہ حال ہے کہ چھالیااور ٹافیوں کے ریپر مسجد میں پڑے دکھائی دیتے ہیں تو کبھی صفائی کے دوران صفوں کے نیچے سے برآمد ہوتے ہیں حالانکہ مسجد میں معمولی سا ذرہ بھی گر جائے تواس سے مسجد کو تکلیف ہوتی ہے جیساکہ حضرت سیّدناشیخ عبدالحق محدث دہلوی عَلَیْہِ رَحْمَۃُاللّٰہِ الْقَوِیفرماتے ہیں  : ’’مسجد میں اگر تنکا بھی پھینکا جائے تو اس سے مسجد کو اس قدر تکلیف پہنچتی ہے جس قدر تکلیف انسان کو اپنی آنکھ میں تنکا پڑ جانے سے ہوتی ہے  ۔ ‘‘(جذب القلوب، ص۲۲۲)

          اس لیے ہمیں مسجد کی صفائی کو اپنے لئے سعادت سمجھنا چاہئے کہ متعدد احادیث مبارکہ میں اس کی ترغیب ارشاد فرمائی گئی چنانچہ تین روایات ملاحظہ فرمائیے :

(ا)جو مسجد سے تکلیف دہ چیز نکالے گا اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ اس کے لئے جنت میں ایک گھر بنائےگا ۔ (ابن ماجہ، کتاب المساجد والجماعات، باب تطھیر المساجدالخ ، ۱ / ۴۱۹، حدیث : ۷۵۷)

  (۲)مسجدیں بناؤ اور ان میں سے گرد و غبار نکال دیا کرو کہ جواللّٰہ عَزَّوَجَلَّ  کی رضا کیلئے مسجد بنائے گااللّٰہ عَزَّوَجَلَّ اس کے لئے جنت میں ایک گھر بنائے گا ۔ ‘‘ ایک شخص نے عرض کیا، یارسول اللّٰہ! کیا مسجدیں گزر گاہوں پر بنائی جائیں ؟ ارشاد فرمایا :  ہاں ! اور ان میں سے گرد و غبار صاف کرنا حورِعین کا مہر ہے ۔  (مجمع الزوائد، کتاب الصلوۃ، باب بناء المسجد، ۲ /  ۱۱۳، حدیث : ۱۹۴۹)

(۳)حضرت سیدنا عُبَید بن مَرزُوق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے کہ مدینہ شریف میں ایک عورت مسجد کی صفائی کیا کرتی تھی، جب اس کا انتقال ہوا تو نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَر صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو اس کے بارے میں خبر نہ دی گئی ۔  ایک مرتبہ حضور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اس کی قبر کے قریب سے گزرے تودریافت فرمایا : یہ کس کی قبر ہے؟ تو صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان نے عرض کیا، اُمِّ مِحْجَن کی ۔  فرمایا : وہی جو مسجد کی صفائی کیا کرتی تھی؟ صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان نے عرض کیا  : جی ہاں ’’آپ  صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم   نے لوگوں کو اس کی قبر پر صف بنانے کا حکم د یا اور اس کی نَماز جنازہ پڑھائی ۔  پھر اس عورت کو مخاطب کر کے فرمایا کہ ’’تو نے کون ساکام سب سے افضل پایا ؟‘‘صحابۂ کرام رضی اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُم نے عرض کیا :  ’’یا رسول اللّٰہ! کیا یہ سن رہی ہے؟‘‘ارشاد فرمایا :  ’’تم اس سے زیادہ سننے والے نہیں ہو  ۔ ‘‘راوی بیان کرتے ہیں کہ پھر رسولِ اکرم  صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا :  اس نے میرے سوال کے جواب میں کہا :  ’’مسجد کی صفائی کو ۔ ‘‘(الترغیب والترہیب، کتاب الصلوۃ، الترغیب فی تنظیف المساجد وتطھیرھا الخ، ۱ /  ۱۴۹، حدیث : ۴۳۰)

صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیب!                           صلَّی اللّٰہُ تعالٰی عَلٰی محمَّد

(حکایت  : ۸)

مالِ وقف کی حفاظت

          یہ ان دنوں کا واقعہ ہے جب امیرِ اہلسنّتدَامَتْ بَرَکَاتُہُم العَالِیَہ نے عالمی مدنی مرکز فیضانِ مدینہ کو آباد کرنے کے لیے اولڈ سٹی ایریا کو چھوڑ کر پیرالٰہی بخش کالونی میں رہائش اختیار فرمائی ۔ آپ دَامَتْ بَرَکَاتُہُم العَالِیَہکم و بیش ایک کلومیٹر پیدل سفر فرما کر فیضانِ مدینہ میں باجماعت نماز ادا فرماتے ۔ ابھی عالمی مدنی مرکز فیضانِ مدینہ باب المدینہ کراچی کی تعمیر جاری تھی ۔ ایک دن گھر سے تشریف

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن