30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اور وَعِید کا دِن بھی ۔ آج جس کے نَمازو روزہ مَقبول ہوگئے بِلا شُبہ اُس کے لئے آج عِید کا دِن ہے ۔ لیکن آج جِس کے نَمازو روزہ کورَد کر کے اُس کے مُنہ پر ماردیا گیا ہواُس کیلئے تو آج وَعِید ہی کا دِن ہے ۔ اور میں تواِس خَوف سے رو رہا ہوں کہ آہ!’’اَنَا لَا اَدْرِیْ اَ مِنَ الْمَقْبُوْلِیْنَ اَمْ مِنَ الْمَطْرُوْدِیْنَ ۔ ‘‘یعنی مجھے یہ معلوم نہیں کہ مَیں مَقبول ہُوا ہُوں یا رَد کردیا گیا ہوں ۔ (فیضانِ سنّت ، ۱ / ۱۳۰۲)
عید کے دن عمر یہ رو رو کر
بولے نیکوں کی عید ہوتی ہے
اللّٰہ عَزَّوَجَلَّکی اُن پر رَحمت ہو اور ان کے صَدقے ہماری بے حساب مغفِرت ہو ۔
صَلُّوْاعَلَی الْحَبِیب! صلَّی اللّٰہُ تعالٰی عَلٰی محمَّد
(حکایت : ۷)
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!مسجدیں مسلمانوں کے نزدیک قابلِ اِحترام اورمقدس مقامات میں سے ہیں ۔ ان کا ادب و اِحترام کرنا اور انہیں ہر قسم کی گندگی سے پاک و صاف رکھنا ہر مسلمان پر لازم ہے ۔ شیخِ طریقت ، امیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَرَکَاتُہُم العَالِیَہ مسجد کی صفائی کا کس قدر اہتمام فرماتے ہیں چنانچہ تین واقعات ملاحظہ فرمائیے :
(واقعہ : ۱) یکم رمضان المبارک ۱۴۳۰ھ امیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَرَکَاتُہُم العَالِیَہ مسجد میں تشریف فرماتھے ۔ ایک اسلامی بھائی نے آپ دَامَتْ بَرَکَاتُہُم العَالِیَہ کوچادرپیش کی ۔ امیرِ اہلسنّتدَامَتْ بَرَکَاتُہُم العَالِیَہ نے دیکھا کہ چادر پر کسی چیز کے باریک ذرات لگے ہوئے ہیں ۔ آپ دَامَتْ بَرَکَاتُہُم العَالِیَہنے چادران اسلامی بھائی کو دیتے ہوئے ارشاد فرمایا : اسے مسجد سے باہر جھاڑ کر لائیے ورنہ یہ ذرات مسجد میں گریں گے ۔
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!بسا اوقات چھوٹی چھوٹی باتیں جن کی طرف عا م لوگوں کا دھیان نہیں جاتالیکن اللّٰہ والے ان کا ایسا خیال فرماتے ہیں کہ زبان سے بے ساختہ ماشآء اللّٰہ اور سبحان اللّٰہ کے کلمات ادا ہوجاتے ہیں ۔ مثال کے طور پر مسجد میں داخل ہوتے وقت جوتے تو سبھی جھاڑ تے ہیں مگر پاؤں پرلگی گَرْدکی طرف ہمارا دھیان ہی نہیں جاتامگر امیرِ اہلسنّتدَامَتْ بَرَکَاتُہُم العَالِیَہکا انداز سب سے محتاط ہے چنانچہ
(واقعہ : ۲) ایک اسلامی بھائی کا بیان ہے کہ ایک بار شیخِ طریقت، امیر اہلسنّت دَامَتْ بَرَکَاتُہُم العَالِیَہ نے مسجد میں داخل ہونے سے قبل جوتے اتارے ، دونوں پاؤں کپڑے سے صاف کیے اور پھر مسجد میں داخل ہوئے ۔ (۱۱جون ۲۰۱۵بروز جمعرات کے خصوصی )مدنی مذاکرے میں اس کی وجہ بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا : میں مسجد میں داخل ہوتے وقت کپڑے سے اپنے پاؤں صاف کر لیتا ہوں تاکہ مٹی کا کوئی ذرہ مسجد میں نہ چلا جائے ۔
(واقعہ : ۳)امیرِ اہلسنّتدَامَتْ بَرَکَاتُہُم العَالِیَہ نے مدنی مذاکرے کے دوران ارشاد فرمایا : میں سنّت پر عمل کی نیت سے داڑھی اور بھنووں پر بھی تیل لگاتا ہوں لیکن اسے خوب اچھی طرح صاف کر لیتا ہوں تاکہ اس تیل کی چکناہٹ سے مسجد کا فرش آلودہ نہ ہوجائے ۔ امیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَرَکَاتُہُم العَالِیَہکواکثر دیکھا گیاکہ جیب میں شاپر رکھتے ہیں اور مسجد کے فرش پر گرے ہوئے بال و ذرات
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع