30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ماحول میسر آگیا جس کی برکت سے میرے اجڑے گلشن میں بہاریں آگئیں ۔ ہوا کچھ اس طرح کہ دعوتِ اسلامی کے تحت ہونے والے تین روزہ بین الاقوامی سنّتوں بھرے اجتماع کی آمد آمد تھی ، عاشقانِ رسول بڑی لگن سے اس کی تیاریوں میں مگن تھے۔ ایک دن مجھ پر کرم ہو گیا اورمیں ایک جاننے والے کے گھر ہونے والی محفل میلاد میں حاضر ہوگیا ، جب بین الاقوامی سنّتوں بھرے اجتماع کی بات چلی تو میں نے ہنستے ہوئے اپنے استاد سے کہا کہ میں بھی اس اجتماع میں چلا جاؤں ؟ یہ سن کر انہوں نے کہا ضرور جائیں ، میں نے مزاحاً کہا : کیااس کے لیے کوئی کارڈ بنوانا پڑے گا؟ وہاں موجود ایک اسلامی بھائی نے کہا : نہیں ، آپ جامع مسجد الخلیل میں ہر جمعرات کودعوتِ اسلامی کا ہفتہ وار سنّتوں بھرا اجتماع ہوتا ہے آپ اس میں شرکت فرمائیں ۔ چنانچہ میں جمعرات کے دن الخلیل مسجد میں ہونے والے ہفتہ وار سنّتوں بھرے اجتماع میں جا پہنچا۔ وہاں کثیر تعداد میں عاشقانِ رسول موجود تھے۔ اجتماع میں ہونے والا سنّتوں بھرا بیان اور ذکر و دُعا مجھے بہت اچھا لگا۔ اجتماع کے بعد سب اسلامی بھائی ایک دوسرے سے ملاقات کرنے لگے تو میں نے بھی کچھ اسلامی بھائیوں سے ملاقات کی ، میں سمجھتا تھا کہ دعوتِ اسلامی والے زیادہ پڑھے لکھے نہیں ہوتے لیکن میری حیرت کی انتہا نہ رہی کہ میں جس سے بھی ملا وہ سب کے سب دنیوی تعلیم کے ساتھ ساتھ دینی تعلیم سے بھی مزین تھی۔ مجھے وہاں دعوتِ اسلامی کے تین روزہ بین الاقوامی سنّتوں بھرے اجتماع کی دعوت بھی دی گئی۔ میں نے اجتماع میں حاضری کی نیّت کر لی۔ یوں اَلْحَمْدُلِلّٰہ عَزَّوَجَلَّ میں دعوتِ اسلامی کے تحت تین روزہ سنّتوں بھرے بین الاقوامی اجتماع میں حاضر ہو گیا ، جہاں ہر طرف سنّتوں کی بہاریں تھی۔ وہاں کے روحانی ماحول ، سنّتوں بھرے بیانات ، تربیتی حلقوں میں خوب علمی وروحانی برکتیں پائیں اور عاشقانِ رسول کی صحبت میں اپنی شفایابی کے لیے خوب رو رو کر دعا ئیں مانگیں ، اَلْحَمْدُلِلّٰہ عَزَّوَجَلَّ اس سنّتوں بھرے اجتماع کی بہاریں دیکھ کر مدنی ماحول کی جانب دل کچھ مائل ہوا مگر ابھی تک میرے ذہن میں موجود شکوک وشبہات مکمل طور پر دور نہیں ہوئے تھے ، کرم بالائے کرم یہ ہوا کہ کچھ عرصہ بعد ہمارے علاقے سے چند عاشقانِ رسول امیر اہلسنّت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ کی زیارت کے لیے باب المدینہ کراچی جانے کے لیے تیار ہوئے ، انہوں نے مجھے بھی دعوت دی۔ میرا ذہن بھی بن گیا کہ چلو ان کے پیر صاحب کو دیکھتے ہیں وہ کیسی شخصیت ہیں ۔ یوں میں علاقے کے اسلامی بھائیوں کے ہمراہ کراچی پہنچ گیا۔ رات میں ملاقات کی ترکیب بن گئی ، کثیر تعداد میں اسلامی بھائی زیارت کے لیے موجود تھے۔ اسلامی بھائی بہت نظم و ضبط سے قطار کی صورت میں امیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ سے ملاقات کا شرف حاصل کر رہے تھے۔ میں بھی قطار میں کھڑا ہو گیا اور اسلامی بھائیوں کی محبت و عقیدت اور امیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ کی ان پر شفقتوں کو بغور دیکھنے لگا۔ آپ ہر اسلامی بھائی سے یوں مسکر مسکرا کر ملاقات فرما رہے تھے کہ جیسے اس ہی سے سب سے زیادہ محبت کرتے ہیں ۔ جب میں امیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ کے قریب پہنچا تو یکایک میری قلبی کیفیت بدلنے لگی۔ میں مصافحہ کرنے کے لئے جونہی قریب پہنچا میری آنکھوں سے بے ساختہ آنسوؤں کی برسات شروع ہوگی اور میں امیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ کے گلے لگ کر بلک بلک کر رونے لگا۔ آپ دَامَت بَرَکَاتُہُمُ العَالِیَہ میٹھے انداز میں شفقت فرماتے ہوئے میری پیٹھ تھپکنے لگے بس آپ کے دستِ شفقت کا لگنا تھا تمام شک و شبہات کافور ہوگئے ، دل میں خوفِ خدا اور عشقِ مصطفی کی شمع روشن ہو گئی۔ میں نے موقع غنیمت جانا اور جیب سے ایک ٹافی نکال کرامیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ کی خدمت میں یہ عرض کرتے ہوئے پیش کردی کہ حضور اسے تبرُّک بنا کر عطا فرما دیجئے۔ آپ دَامَت بَرَکَاتُہُمُ العَالِیَہ نے انکار نہ فرمایا اور مسکراتے ہوئے ٹافی لے کر اپنے منہ میں رکھ لی۔ میں نے امیرِ اہلسنّت دَامَت بَرَکَاتُہُمُ العَالِیَہ کی خدمت میں آشوبِ چشم سے شفایابی کی دعا کے لیے عرض کیا توآپ دَامَت بَرَکَاتُہُمُ العَالِیَہ نے دعا بھی فرمائی اور دم بھی کردیا۔ امیراہلسنّت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ کو اس قدر مہربان دیکھ کر میرا دل سینے میں خوشی سے جھومنے لگا کہ یہ کس قدر عاجزی اور انکساری فرمانے والے ہیں ۔ آپ دَامَت بَرَکَاتُہُمُ العَالِیَہ نے ٹافی چوس کر مسکراتے ہوئے مجھے واپس لوٹا دی۔ جونہی وہ بابرکت ٹافی میرے ہاتھ میں آئی اس سے حصہ لینے کے لیے میرے علاقے کے دو اسلامی بھائی آگے بڑھے میں نے اس کے تین ٹکڑے کیے ایک ایک انہیں دے دیا اور ایک ٹکڑا میں نے منہ میں ڈال لیا۔ اس تبرک کا منہ میں ڈالنا تھا کہ میرے دل کی کیفیت ہی بدل گئی ، دل دنیا کی محبت سے اُچاٹ ہو گیا اور میں دل میں کیف وسرور محسوس کرنے لگا۔ یوں اَلْحَمْدُلِلّٰہ عَزَّوَجَلَّ میں ایک ولیِ کامل کی محبت و شفقت دیکھ کر ہمیشہ کے لیے دعوتِ اسلامی کا شیدائی ہو گیا۔ بدمذہبوں سے ناطہ توڑا ، گناہوں سے توبہ کر کے ان سے منہ موڑا اور سنّتوں سے اپنی پُرخار زندگی کو پر بہار بنا لیا۔ سبزسبز عمامے شریف کا تاج سجالیا ، مدنی لباس میرے بدن کاحصہ بن گیا اور میں مدنی کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے لگا۔ سلسلہ عالیہ قادریہ رضویہ عطاریہ میں داخل ہوگیا۔ اَلْحَمْدُلِلّٰہ عَزَّوَجَلَّ جہاں ایک
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع